غزل
غزل | لبھا رہا تھا مہکتا ہوا دھواں مجھ کو | معوذ حسن
غزل
لبھا رہا تھا مہکتا ہوا دھواں مجھ کو
چراغ پہلے لگا کوئی عطر داں مجھ کو
تمام رنگوں کے زخموں کو چکھ کے دیکھ لیا
اب اس کے ہجر نے کرنا ہے ناتواں مجھ کو
ضرور سورۂ یوسف کا دم شدہ ہوگا
بلا رہا ہے ترا حسنِ بیکراں مجھ کو
مگر میں اپنی ہی آواز سے پلٹ آیا
زمانے بھر نے سنائی تھیں ہچکیاں مجھ کو
وفورِ عشق میں ہر خواب میں نے دیکھ لیا
خدا کرے کہ ہو درپیش امتحاں مجھ کو
میں اپنے باپ کے مرقد پہ پھول رکھتا ہوں
دعائیں جینے کی دیتی ہے میری ماں مجھ کو
سہیلیوں کو وہ میری غزل سناتی ہے
سخنوری نے یہ پہنچا دیا کہاں مجھ کو
میں اُس کی جیت کا اعلان کرنے والا ہوں
جو کھینچ تان کے لایا ہے درمیاں مجھ کو
میں روشنی کے قبیلے کا فرد ہوں شاید
شعورِ ذات ہے پہلا چراغ داں مجھ کو




