نظم
جنگ مخالف نظم – کم سن حاملہ لڑکیاں | ڈاکٹر جواز جعفری
جنگ مخالف نظم – کم سن حاملہ لڑکیاں
پناہ گزیں کیمپوں میں
خوراک اور تحفظ کے انتظار میں اونگھتی
کم عمر حاملہ لڑکیاں
جن کی آبرو
ان کے شہروں کی طرح خاک میں مل گئی
وہ اپنے سامنے زمین کا نقشہ پھیلائے
اپنے بچوں کے لیے نئے وطن ڈھونڈتی ہیں
انہیں بے آبرو کرنے والے
زندانوں سے پرے آزاد گھومتے ہیں
اور ان کی کوکھ کے نام
موت کے سندیسے لکھتے ہیں
رات کے پچھلے پہر یہ کم سن مائیں
نامعلوم قاتلوں کے سامنے
اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگتی ہیں
بارود کی بارش میں
انہیں بھوک نہیں لگتی
انہیں نیند نہیں آتی
وہ مسلسل اداس رہتی ہیں
اور تنہا رہنے پر اصرار کرتی ہیں
وہ اپنے بچوں کے لیے جینا چاہتی ہیں



