
میرے ہمراز و ہم نوا!
تسلیمات:
امید ہے تم جہاں بھی ہو گے بہت اچھے ہو گے۔ تمہیں یاد ہو گا تمہارے آنے کا سن کر تو جیسے میں خوشی سے جھوم گئی تھی۔ کتنے جشن منائے ،کتنے خواب سجائے تمہارے سنگ یہ کروں گی وہ کروں گی۔۔۔۔ یہاں جاؤں گی ، وہاں جاؤں۔ پھر کچھ خواب پورے اور کچھ ادھورے رہ گئے ۔ ویسے بھی سارے خواب سب کے تو پورے بھی نہیں ہوتے۔ خیر۔۔۔۔۔
مری کی سبزہ زار وادیوں میں جنوری کی برفباری میں سیاحت کا جو لطف اٹھایا وہ بھلائے نہیں بھولتا۔ ٹھٹھرتی شامیں ،منجمد راتوں میں بھی جلتے دیپ ٫ جزبوں کی حرارت سے پورے ہوتے خواب جب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو مزہ ہی دوبالا ہو جاتا زندگی کا۔ بازارِ زیست میں جہاں حقیقتوں کی دکان پر بھی خواب بکتے ہیں وہاں سے میرا ہاتھ تھامے تم مجھے وادیٔ خزاں میں لے گئے جہاں میں نے ان درختوں کو بھی بے بس دیکھا جو اپنے آپ سے زیادہ قد آور کسی کو بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس سے میں ایک بات سمجھی جب قدرت کی لاٹھی چلتی ہے پھر کاہے کا قد اور کاہے کا تنا۔۔۔ یہاں زندگی تلخیوں کے نئے در مجھ پر وا ہوئے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کچھ لوگ گونجتی شہنائیوں میں مجھ پر اپنے جلوے بکھیرتے ہوئے ملے مگر پھر وقت نے انہیں ایک ہی جھٹکے میں نوحوں میں لپٹی چادر میں دادِ عدم سدھارتے دیکھا۔ پیچھے رہ جانے والوں کو کبھی نا ختم ہونے والی جدائی کا دکھ دے کر ایسے گئے کہ خواب ہی ہو گئے بھولا بسرا خواب۔۔۔۔۔ آہ!!!!
جلد ہی تم نے بہار کے نت نئے تحفے دیے۔میری زندگی کو ہزار رنگ کے پھولوں کے گہنے پہنائے۔ اسلام آباد کی پھولوں کی نمائش نے میری آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ ایسے ایسے رنگ دیکھنے کو ملے جو اس سے پہلے کبھی آنکھوں میں نہیں سمائے۔ قدرت کی مصوری کا منہ بولتا ثبوت کہ انسان عَش عَش کر اٹھے۔
میں نے تمہارے سنگ چلتے چلتے ان داغوں کو مندمل ہوتے دیکھا جن کو دیکھ کے لگتا تھا کہ ناسور بن جائیں گے کھا جائیں گے مجھے ، گھاؤ بھرتے دیکھے، دیپ جلتے امنگیں ابھرتی دیکھیں۔
پھر آئی چلچلاتی دھوپ جس نے مجھے دُبک کر بیٹھنے, کمفرٹ زون میں رہنے اور بس اپنی ذات کے گرد گھومنے پر مجبور کر دیا اور میں لمبی تان کر ٹھنڈے کمروں میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر خیالوں کے سنگ اڑنے لگی۔ اڑتے اڑتے اُکتا گئی۔ سچ کہوں تو ذہن کی ڈائری جھٹ سے میرے سامنے وہ ورق لے آئی جس پہ لکھا تھا
"ٹھنڈک موت اور حرارت زندگی کی علامت ہے۔”
اس بات نے میرے وجود کی شطرنج کے چاروں شانے چت کر دیے اور میں پھر سے تمہارے سنگ نئی ذمہ داریوں ،نئے معاملات کو نئے تقاضوں کے مطابق سلجھانے نکل پڑی۔ اس سب میں تم نے میرا بڑا ساتھ دیا تمہارا شکریہ۔
محبت کے بھی تو کچھ تقاضے تھے۔ تمہارا مجھ پر بہت حق تھا۔ سچ پوچھو تو غمِ دوراں غمِ جاناں پہ بھاری ہو گیا تمہارے ساتھ کیے وعدے ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئے اور میں اپنے حصار سے کسی طرح نکل نہ پائی۔۔۔۔ چاہ کر بھی نہیں۔ میں اس سفر پر چل پڑی جس پر سب تھے۔ خوش گپیوں میں مصروف,ضیافتوں میں مگن, کیفے کی پیالیوں سے بھاپ اڑاتی چائے ، شاپنگ بیگز سے لدے پھندے ہم سب ، موبائل فونوں پر ایک دوسروں کو دعوت نامے بھیجتے , باربی کیو کے چٹخارے اور ہم , زندگی اور اس کے میلوں میں مگن ہم سب دوست , بہت مزے کیے، پارٹیوں کی شامیں اپنے سحر سے نکلنے ہی نہیں دیتی تھیں۔ اُجلت اور غفلت دونوں کے ملاپ نے ایک الگ ہی سماں باندھ دیا تھا۔ اس سب میں ہم سب ایسے کھوئے ایسے کھوئے کہ تمہارا ساتھ تو مجھے یاد ہی نہ رہا۔
اس سب سے نکلنا آسان کہاں تھا؟؟ بھلا ہو دسمبر کی پہلی بارش کا جس میں تمہارا چہرہ مجھے نظر آیا۔ تمہاری شبیح کسی معصوم سے بچے جیسی لگ رہی تھی جو مجھے حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ تھوڑا غور کرنے پر پتہ چلا کہ تم تو الوداع کہنے والے ہو۔ میری بے توجہی تمہیں مجھ سے دور لے گئی۔
دسمبر اور بارشوں نے میرے اندر کے شاعر کو ایسا جھنجھوڑ کر رکھا کہ ڈائری تمہاری جدائی کی نظموں اور غزلوں سے بھر گئی۔ پچھتاوے مجھے اپنے سنگ لیے جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتے رہے۔ تم میرے ساتھ چلتے رہے ہر پل ہر گھڑی محبت کے ساتھ ، اپنائیت کے ساتھ۔ گھنٹے دنوں میں بدلتے رہے دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں۔۔۔۔ میں یہ بھول گئی ایک دن تو جدائی کا غم سہنا ہے ایک دن تو تمہارے ہمراہ طے سفر اختتام پذیر ہونا ہے اس لیے تم سے کیے کچھ وعدے، قسمیں بھول گئی۔ مجھے معاف کر دینا ہم بھولنے والی قوم ہیں۔ ہمارے بابا آدم بھی بھول گئے تھے۔
زندگی کی کشا کش میں کچھ ایسے دن بھی آئے جب لگا کہ میں تم سے پہلے گزر جاؤں گی۔ کیونکہ اس سازِ ہستی کو ایک دن تو بے صدا ہونا ہے مگر افسوس صد افسوس !! کہ تم پہلے گزر گئے۔ اور میرے بہت سے کام ادھورے رہ گئے۔
تم کتنے اچھے ہو ایک نیا نام لے کر ایک نیا روپ دھارے اسی اپنائیت سے نئے تقاضوں کے ساتھ میرے سنگ سنگ چلو گے مجھے اس بات کی خوشی ہے۔
مگر دکھ اس بات کا ہے کہ تم میری زندگی سے قطرہ قطرہ بہتے رہے اور میں غفلت میں رہی اور کچھ اجلت میں بھی۔ تمہارے جانے کے بعد احساس ہوا کہ مجھے تمہارے سنگ اور جینا تھا وہ حسرتیں وہ خواہشیں اور وہ ہدف مکمل کرنے تھے جو میں نے اپنی زندگی کے تخت پر تمہارے براجمان ہونے سے پہلے کچھ اپنی دل کی ڈائری کچھ دماغ کی ڈائری اور کچھ کاغذ کی ڈائری پر لکھ رکھے تھے۔
تمہارا احسان کہ میں نے تمہارے سنگ بہت کچھ پایا اور کچھ کھویا بھی۔۔۔۔۔ ماضی کی وادی میں وقت کے دھارے میں بہہ جانے والے گذشتہ سال!!! تمہارا شکریہ
تمہاری مشکور و ممنون
✍️کلثوم پارس




