نظم
کُہر زدہ شام / فائزہ صابری نوا
کُہر زدہ شام
وہ دنیا کی باتیں
مرا دل جلاتیں
تو جنگل کو نکلا
مرا دل اکیلا
وہ شام ایسی بے بس
کہ دِل سہہ نہ پایا
اُڑا دل کا پنچھی
مرے مے کدے سے
کہیں شاخ ٹوٹی
کہ دل میرا ڈوبا
بس اتنا ہی بولا
کہ میں رہ نہ پایا
وہ اک شام اُجڑی
وہ پتھر کا حُجرہ
وہ اِک پیلی بَتی
یہ دل اِتنا بولا
یہ میں سہہ نہ پایا
یہ دِل دنیا مارا
وہ جنگل کو چھوڑا
وہ دنیا کی باتیں
یہ دنیا ہی جانے
یہ دل سہہ ہی لے گا
مگر تنہا جنگل!!!!
وہ پتھر کا حُجرہ
وہ اِک پیلی بتی
نہیں اب خدارا
نہیں اب دوبارا




