نظم
جب بھی۔۔۔! / الطاف جوہر
جب بھی۔۔۔!
جب بھی
روحِ زمستاں میں
زرد پتوں کی سرسراہٹ سے
پرندوں کی خاموشی
طاری ہوتی ہے
تو سوچ سورج مکھی کے
پھولوں کی چادر اوڑھ لیتی ہے
جب بھی
شہرِ خموشاں میں
بارش ہوتی ہے
تو ماتمی گیتوں سے
مردہ دل جھوم اٹھتے ہیں
اور عالمِ مدہوشی میں
رقصاں ہوتے ہیں
جب بھی
لوحِ دل میں
محبت کے سرخ حروف
لہو لہان ہوتے ہیں
تو تشنگی کی کیفیت سے لبریز
اِک میٹھی خوشبو
چار سُو پھیل جاتی ہے
جب بھی
سفرِ رائیگانی میں
جنگل کے پیڑوں سے
الفت سوکھ جاتی ہے
تو بے مروتی کے بادل منڈلاتے ہیں
دریا سے پانی
اور پانی سے بارش روٹھ جاتی ہے!




