افقِ واقعہ | Event Horizon / صفیؔ ربّانی
افقِ واقعہ | Event Horizon
میں پچھلے نوری برس میں پھوٹا تو
لا کی بےانت وسعتوں میں بکھر رہا تھا
مری چمک نے تو قرن بھر کو کسی زمیں پر جھلک دکھائی
مگر میں خود انہدام کی سمت بڑھ رہا تھا
سیاہ حلقہ، کہ جس کی جانب کھنچی چلی جا رہی ہیں کتنی ہی کہکشانیں
مجھے نگلنے کو ہی تھا، لیکن
اک اور جھرمٹ سے
دور دریائے نیل روشن فصیل پر چمچاتی
لہری کمند نے اپنی اور کھینچا
کہ جیسے مٹھی میں دل کو بھینچا
تو میں نے اپنی ستارگی ترک کر کے، خود کو
حریری روشن ضمیری آنکھوں کو سونپ ڈالا
کہ تھی وہ آنکھیں،
عتیق قرنوں؛ عقیق لانے کی ماہر آنکھیں
نگینے جڑتی وہ ساحر آنکھیں
مجھے اُن آنکھوں نے پہلے پہلے عدم کی لہروں سے چُن لیا تھا
کہ اپنی کرنوں سے میرے اطراف ایک ہالہ سا بُن لیا تھا
کسے خبر تھی، کہ کوئی ہالہ، بھلے اجالا بھرا ہو، لیکن
حصار، آخر حصار ہوتا ہے
اس میں سود و زیاں کا کوئی شمار کیا ہے،
وہی ہوا پھر
وہ نور آسا جبین اپنی کرن کرن پھوٹتی طلسمی صدا کو موہوم کر رہی ہے
سیاہ حلقے کی اور جاتے ستارے معدوم کر رہی ہے
کشش، گریز اور گریز اُس کی کشش میں الجھے پڑے ہیں
اور وہ
جہان بھر کی تباہیوں سے اُدھر،
خود اپنی ہی روشنی میں نہا رہی ہے
اُسے خبر ہی نہیں ہے
کوئی
اِدھر
اندھیرے کی زد پہ
اک آخری چمک (زندگی کی موہوم سی رمق) کو بچا رہا ہے
جسے، اندھیرا، ابھی، نگلنے کو، آ، رہا، ہے…..




