غزل / دل کی دلی لوٹنے والے احمد شہ ابدالی سن /ارشد معراج
غزل
ارشد معراج
چرخ گھمایا خوابوں کا اور بیکاری میں دن کاٹے
رات نے کالی چادر اوڑھی بے داری میں دن کاٹے
ہم نے عشق کمایا بیبا ، تم نے دنیاداری کی
یاد بسائی سینے میں اور گھرداری میں دن کاٹے
دوہری مزدوری میں ہم نے جیون سارا جھونک دیا
رات گزاری نظمیں لکھتے بیگاری میں دن کاٹے
ایک طبیعت نازک اپنی دوجا ہجر کا بھاری بوجھ
کروٹ کروٹ رات گزاری بیماری میں دن کاٹے
آنکھیں بوئیں دوازے پر سینے کو دیوار کیا
رات اگائی گملوں میں اور پھلواری میں دن کاٹے
دل کی دلی لوٹنے والے احمد شہ ابدالی سن
دل کا شہر بسایا شب بھر دلداری میں دن کاٹے
شہزادی ! تجھ عشق میں ہم نے پہنا ہے کانٹوں کا تاج
کانٹوں کے بستر پر سوئے راہداری میں دن کاٹے
سانس کے ایندھن سے سلگایا دل کی دھڑکن بہلائی
رات کے تخت پہ راج کیا اور سرداری میں دن کاٹے




