نظم
سین نمبر 2 / سیف علی
سین نمبر 2
مجھے یاد کرنا۔۔۔ پانی کی طرح
پانی کی طرح
جب تم دکھ کے صحرا سے پیاسی گزرو
ان لمحوں میں
جن میں ہیلپ لائن کی کال بھی بھلی لگتی ہے
انتظار گاہ میں بیٹھی اداس لڑکی
یقیناً میرے متعلق نہیں سوچے گی
مگر تم اپنے شوہر کے پہلو میں لیٹے ہوئے
اور خود کو آئینے میں سنوارتے سمے
مجھے یاد کرنا
جب دیہاتی لڑکیاں
سر پہ رکھی کپاس کی گٹھڑیوں کا
تبادلہ محبوب کے خیال سے کریں
جب کسان کٹی فصل کی باقیات کو آگ دے
نیزہ بازی کے میلے میں
جب کوئی بچہ تیز رفتار گھوڑے کے سموں سے
کچلا جائے
اور تم دور کسی کے بین سنو
تو مجھے یاد کرنا
تب تک میں تمہیں بھولنے کی ایکٹنگ کرتا رہوں گا




