غزل
غزل / اس کی جانب کوئی اس دھن میں مگن جاتا ہے / حارث بلال
غزل
اس کی جانب کوئی اس دھن میں مگن جاتا ہے
جسم سے روح کہ ہاتھوں سے بدن جاتا ہے
پھیلتی جاتی ہے پہلے تری خوشبو ہر سمت
پھر یہ پھیلاؤ کوئی باغ سا بن جاتا ہے
دیکھتا ہوں مرے پیروں تلے دھرتی ہی نہیں
وہ مجھے چھوڑ کے پھر واقعتاً جاتا ہے
روک لیتا ہے کوئی اپنا قدم اٹھتا ہوا
طول پاتے ہوئے رستوں کو سمن جاتا ہے
پہلے پہلے میں بدل لیتا ہوں کچھ کچھ ترا عکس
پھر مرے سامنے اک آئنہ ٹھن جاتا ہے
راہ میں بکھرے ہوئے پھول شجر لگتے ہیں
یعنی اب میرا جنوں سوئے عدن جاتا ہے
تھڑے بازوں کے لیے شعر کہیں تو حارث
نام بنتا ہے مگر روئے سخن جاتا ہے




