نعیم فاطمہ علوی کا اردو ورثہ کے لیے خصوصی انٹرویو/ انٹرویور: عطرت بتول

تعارف
محترمہ نعیم فاطمہ علوی ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت ہیں۔ شاعرہ، مصنفہ، صحافی، سماجی کارکن اور گرلز گائیڈ کی سابق چیئرپرسن کی حیثیت سے آپ نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم نعیم فاطمہ علوی نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اور کئی اہم اداروں سے وابستہ رہ کر نمایاں خدمات سرانجام دیں، جن میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اور معروف ادبی جریدہ "العقربا” خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آپ کی تخلیقی سرگرمیوں، ادبی خدمات اور صحافتی تجربے نے آپ کو اردو ادب میں ایک منفرد اور باوقار مقام عطا کیا ہے۔ آپ کا قلم فکر، احساس، سماجی شعور اور خدمتِ خلق کی روشن روایت کا حقیقی آئینہ دار ہے۔
انٹرویو
اسلام علیکم، نعیم فاطمہ صاحبہ! ہمیں کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے( بچپن، والدین اور تعلیمی سفر )؟
بچپن نٹ کھٹ سا تھا شرارتی بھی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی تھا۔ دل و دماغ میں ایک ہلچل سی رہتی، اور کتاب دوستی کا شوق کہیں دبکا ہوا آہستہ آہستہ انگڑائیاں لیتا رہتا تھا۔ بے فکری بھی تھی، مگر مشکل حالات کا دور بھی یاد ہے اور آسودگی کے دن بھی سامنے رہے۔ زندگی ہر رنگ و روپ میں سامنے آئی اور انہی اتار چڑھاؤ نے شخصیت کے خدوخال تراشے۔
والد قدرے لاپرواہ سے تھے؛ کتاب سے عشق اور زندگی کو ہلکے پھلکے انداز میں لیتے تھے۔ حسِ مزاح بھی خوب تھی۔جب کہ والدہ نہایت عبادت گزار، قدرے سخت ڈسپلن والی اور زیرک خاتون تھیں۔ ان ہی کی وجہ سے گھر میں نماز، روزہ اور خیرات کے تصور نے دل میں درد مندی کو بیدار کیا۔ اُن کی طبیعت بے حد سلجھی ہوئی تھی ۔ سلیقہ، کفایت شعاری، اشیاء کی افادیت اور معمولی سے معمولی چیز کو بھی ضائع نہ کرنے کا احساس ،یہ سب اوصاف انہوں نے ہی میری شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھر دیے۔
تعلیمی سفر میں بہت سی مشکلات پیش آئیں اور واقعی بہت آئیں۔ میٹرک تک تو مزے سے پڑھتی رہی، مگر والد کی سرکاری ملازمت اور مسلسل تبادلوں کے باعث بعض جگہ سکول تک میسر نہ تھے۔ خصوصی اجازت لے کر لڑکوں کے سکول میں اکیلی لڑکی کے طور پر بھی پڑھنا پڑا۔ مگر میٹرک کے بعد ایم اے تک کا سفر جدوجہد سے بھرا ہوا تھا، کیونکہ گھر سے باہر رہنا یا ہوسٹل میں قیام کرنا پسندیدہ عمل نہ تھا۔
سخت مذہبی اور مروجہ معاشرتی ماحول میں مجھے اکثر گھٹن کا احساس ہوتا۔ اللہ نے مجھے مختلف ذہن، مختلف شوق اور مختلف عادتوں کے ساتھ پیدا کیا تھا اور یہ ہی مختلف ہونا شاید سب سے بڑی آزمائش بھی تھا اور سب سے بڑی قوت بھی ،
ادبی سفر کیسے شروع ہوا ؟
ادبی سفر کا آغاز بھی مطالعے، مزاحمت اور معاشرتی گھٹن ہی کی کوکھ سے ہوا۔ یقیناً کہیں نہ کہیں زندگی کے ملگجے لمحوں سے ودیعت ہو کر ذہن میں پنہاں تھا، ورنہ شوق تو مجھے ناچنے گانے کا بھی تھا اور تصویریں بنانے کا بھی۔ مگر ان حوالوں سے میں بالکل کورا صفحہ ہی رہی۔ آخر کار رجحان سازی وہی کرتا ہے جو دلوں کے بھید جانتا ہے
گرلز گائیڈ کا تجربہ کیسا رہا اور اس نے آپ کی شخصیت پر کیا اثرات ڈالے؟
گرل گائیڈز کا تجربہ میرے لیے نہایت خوشگوار رہا۔ کہتے ہیں: “ایک بار گائیڈ، ہمیشہ گائیڈ” یعنی جب آپ گائیڈنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں تو پھر یہ رشتہ عمر بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔
جب پہلی مرتبہ میں نے گائیڈنگ کا وعدہ پڑھا تو دل میں آیا کہ یہ تمام خوبیاں تو پہلے ہی میرے مزاج کا حصہ ہیں۔ البتہ ایک صفت ایسی تھی جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکی۔
“گائیڈ جانوروں سے محبت کرتی ہے”جانور مجھے دور سے اچھے لگتے ہیں، مگر میں انہیں نہ اپنے ساتھ لپٹا سکتی ہوں اور نہ زیادہ دیر ان کے ساتھ رہ سکتی ہوں۔
میں گائیڈنگ کی مرہونِ منت ہوں کہ اس پلیٹ فارم نے مجھے فلاحی کاموں کے بے شمار مواقع فراہم کیے، جن سے دل کو خاص تسکین ملی۔ میری شخصیت پر مثبت اثرات پڑے؛ محبت، خلوص اور الفت ملی؛ ہم خیال لوگوں کی خوبصورت دوستیاں بنیں؛ اور ملک سے محبت کرنے والے مثبت سوچ کے افراد کی صحبت نصیب ہوئی۔
اور پھر چراغ سے چراغ جلتا رہا۔
گرل گائیڈز کی تنظیم بچیوں کی تربیت کے حوالے سے ایک نہایت مؤثر اور معتبر ادارہ ہے، جو نہ صرف جدید تقاضوں کے مطابق بچیوں کو مضبوط اور باہمت بناتا ہے بلکہ انہیں معاشرے کے لیے ایک کارآمد اور با شعور فرد بننے کا ہنر بھی سکھاتا ہے
آپ العقربا کی سب ایڈیٹر بھی رہی ہیں اس حوالے سے کچھ بتائیے؟
الاقرباء کا بھی کیا یاد دلا دیا اس پرچے کے لیے میں منصور عاقل صاحب سے کے ساتھ کام کرتی تھی۔افسانے بھی لکھتی تھی اور کتابوں پر تبصرے بھی۔ اس کے علاوہ پروف ریڈنگ بھی کرتی تھی۔یہاں مجھے سیکھنے کا بے شمار موقع ملا۔
آج میں جو کچھ بھی ہوں، اس میں منصور عاقل صاحب کی تربیت، نکھار اور رہنمائی کا بڑا حصہ ہے۔ خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
صحافت میں کن موضوعات پر کام کیا ؟
صحافت سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ میں نے تو صرف اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ البتہ معاشرتی حوالوں سے جو روزانہ کی بنیاد پر میں فیس بک پر رپورٹیں لکھتی ہوں، اُن پر صحافی دوست اکثر مسکرا کر کہتی ہیں کہ ‘‘آپ تو ہمارا کام کر رہی ہیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن سے تعلق کب اور کیسے قائم ہوا اور وہاں کیا سرگرمیاں انجام دیں؟
نیشنل بک فاؤنڈیشن سے میرا تعلق ڈاکٹر مظہرحمید کے دور میں قائم ہوا۔ میری ایک کتاب، جو گائیڈنگ کے لیے انتھک محنت کرنے والی خواتین کے انٹرویوز پر مشتمل تھی، دراصل مجھے گائیڈ ہاؤس کی جانب سے بطور پروجیکٹ ملی تھی۔ اس کے لیے میں نے ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں کا سفر کیا اور تمام انٹرویوز نہایت محنت سے مکمل کیے۔
کتاب کی تکمیل کے بعد کچھ لوگوں نے اعتراضات اُٹھانا شروع کر دیے کہ فلاں کا انٹرویو زیادہ اچھا لکھا گیا ہے اور میرا کم۔ حالانکہ تمام انٹرویوز باقاعدہ ریکارڈ کیے گئے تھے۔ بہرحال، جب یہ مسئلہ متنازعہ بننے لگا تو میں نے مسودہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کو دے دیا۔ انہوں نے اسے کمیٹی کے سامنے پیش کیا اور پھر مزید ویلیو ایشن کے لیے ایک ماہر کے پاس بھیجا۔
تمام آراء یکساں تھیں: یہ کتاب گائیڈنگ کے شعبے میں ایک اہم اضافہ ہے۔ چنانچہ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اسے شائع کر دیا۔
اس کے بعد تو میں ان کی گرویدہ ہو گئی۔ ڈاکٹر مظہر حمید نے اپنے دور میں ہر اچھی اور کارآمد کتاب کو خالصتاً میرٹ پر شائع کیا، جس کی وجہ سے ادبی حلقے ان سے بے حد خوش اور مطمئن رہے۔
وقت تو سب کے پاس وہی چند گھڑیاں ہوتی ہیں ۔فرق صرف انہیں سلیقے سے گزارنے کا ہوتا ہے۔ اگر آدمی وقت کی پابندی، ترجیحات کے تعین، اور اپنے آپ سے کیے گئے وعدوں پر ثابت قدم رہے تو ہر کام سہولت سے انجام پا جاتا ہے
آپ کے نزدیک ایک اچھے شاعر یا ادیب کی کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟
اچھے شاعر یا ادیب کو اچھا انسان بھی ہونا چاہیئے، کہ وہ شعورِ ذات اور جمالیات کا پیامبر ہوتا ہے۔ اسے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ اُس کے قارئین مایوس نہ ہوں بلکہ اُن پر خوشگوار اور مثبت تاثر قائم ہو۔
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آج کا ادب معاشرے کی رہنمائی کر رہا ہے ؟
ظاہر ہے کہ اب ہم شراب و شباب کے مباحث سے کافی حد تک آگے نکل چکے ہیں۔ معاشرتی حوالوں سے اب زیادہ تر توجہ سماجی مسائل اور ان کے حل پر مرکوز ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بگاڑ حد سے بڑھ جائے تو اسی کی تہہ سے صبحِ کاذب پھوٹتی ہے۔
ہر دور میں یہ شکایت سننے میں آتی رہی ہے کہ زمانہ خراب ہے، مگر عجب بات ہے کہ جب زمانہ اپنی پستی کو چھُو لیتا ہے تو اس کی بھولی بسری خوبیاں ہی نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
صدیوں سے زندگی کا سفر کچھ اسی طرح جاری ہے۔ زمانہ بدلتا ہے تو اس کے ساتھ نئے تقاضے بھی جنم لیتے ہیں، اور انہی تقاضوں کے ساتھ چل کر اپنے تشخص کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
ادب اطفال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا یہ پہلو نظرانداز ہو رہا ہے ؟
نظرانداز تو کوئی پہلو نہیں ہوتا، ہاں البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح کام ہونا چاہیے، ویسے نہیں ہو رہا۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں بچوں کے حوالے سے کام کہیں کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ذرا دیکھیے، ہمارے بچوں کے ادیب راج محمد آفریدی صاحب جن کے والد کی اسلحے کی دکان تھی انہوں نے اسی دکان کے اوپر بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی لائبریری بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ نئی نسل کے نمائندگان کتنی مثبت، بیدار اور روشن خیال سوچ رکھتے ہیں علم و آگہی اور الف لیلی والے بھی بہت کام کر رہے ہیں۔۔پھول میگزین والے بھی توجہ کھینچتے رہتے ہیں۔
اسلام آباد کی ادبی سرگرمیوں اور ماحول کے بارے میں بتائیے؟
اسلام آباد واقعی ادبی طور پر بہت زرخیز شہر بن چکا ہے۔جامعہ، ادارے، سرکاری و نجی تنظیمیں، ادبی انجمنیں، مطالعہ گروپس، لانچنگ تقاریب، مشاعرے، مکالمے… گویا ہر روز کوئی نہ کوئی فکری سرگرمی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےزیادہ تقریبات کی رونق بظاہر خوش آئند ہوتی ہے، مگر ایک سنجیدہ ادیب کے لیے یہ رونق کبھی کبھی تخلیق کی دشمن بھی بن جاتی ہے
آپکی زندگی کا یادگار واقعہ جو دل سے قریب ہو ؟
میری زندگی کا سب سے یادگار ادبی واقعہ وہ تھا جب میری پہلی کتاب شائع ہوئی۔ اُس لمحے کی خوشی سمبھالے نہیں سمبھلتی تھی، جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔
خواتین کی ادب میں نمائندگی کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ کیا مواقع بڑھ رہے ہیں؟
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ترقی ہو رہی ہے۔ ذرا پچھلی صدی پر نظر ڈالیں، عورت اپنی تصنیف پر اپنا نام تک نہیں لکھ سکتی تھی، اور اب میں سمجھتی ہوں کہ خواتین بھی اپنی ادبی حیثیت منوانے میں مردوں کے برابر کھڑی ہیں ۔
یعنی اہلیت اور قابلیت ہی شخصیت کی اصل پہچان ہے ۔مرد یا عورت ہونا روشنی کا فیصلہ نہیں کرتا۔
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا
پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟
مجھے پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ نہیں۔ اچھے اور برے لوگ ہر زمانے اور ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا، ہمیں ہماری پہچان، عزت اور احترام دی۔ اب ہمارا بھی فرض ہے کہ اس فیض کو عام کریں اور صرف حقوق ہی نہیں، بلکہ فرائض پر بھی توجہ دیں۔




