آپ بیتیاُردو ادب

اعتراف / سعید سادھو ، ٹیکسلا

بلوچستان سیلاب کی رقم میں کی گئ کرپشن

 

بلوچستان کے سیلاب میں جس شد و مد سے پاکستان بھر کے شعراء ادباء نے میرا ہاتھ بٹایا میرے لیے وہ پاکستان اور یہاں کے لوگوں پر ایمان لانے کے جیسا تھا۔ ورنہ مجھ سا مایوس کون ہو گا۔ ان دنوں جنرل سرفراز مرحوم کور کمانڈر کوئٹہ کے زیر سایہ میں معمولی سے تھنک ٹینک کا ننھا جزو تھا۔ جب سیلاب آ گیا۔ بلوچوں کی محرومیاں اور کٹھنائیاں کم تو نہیں تھیں۔
میں نے سوچا کہ پنجاب اور کے پی میں تو شاعر کھڑے ہو جائیں گے بلوچستان کے شاعر کو ریاستی سطح پر کون جانتا ہے۔ جانے بھی تو وہ اس قدر متحرک نہیں ہے۔ یہاں کے شاعر کو بھی ملکی جان پہچان میں وہ مقام نہ مل سکا۔
میں چند سال بلوچستان کی دھرتی کا دانہ دنکا چکھ چکا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی زبان کی شیرینی اور کردار کی شفافیت کے آئینوں سے گزر چکا تھا۔ میری نیت ہوئی کہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کو فنڈ کیا جائے۔
مسئلہ تھا سرکار کا۔
بلوچستان میں کسی کو رقم دینا یا رقم کا غلط ہاتھوں میں پہنچ جانا میرے اور میرے ڈونرز کے لیے بہت خطرناک تھا۔
میں نے اپنی یہ خواہش بلوچستان میں اپنے دوستوں کے سامنے رکھی اور دوست بھی تمام فوجی۔ سب خاکیوں نے کہا کہ سادھو صاحب اگر ہم یہ کام کر گئے تو واقعتا یہاں کے غریب مقامیوں کو نہایت آسودگی اور اسانی مہیا کر سکیں گے۔ اب کرنا یہ تھا کہ رقم غلط ہاتھوں میں نہ جائے۔ اللہ کی کرنی ہوئی۔
سب سے پہلے ہمارے ایک میجر دوست جو کسی کیڈٹ کالج میں استاد تھے نے اپنے تمام کے تمام بلوچ شاگردوں کو ایک گروپ میں ایڈ کر کے میرے حوالے کر دیا۔
یہ تمام لوگ میرے شاعر اور میجر دوست کے شاگرد تھے اور قابل بھروسہ تھے۔
ان بچوں نے مجھے اپنے اپنے اضلاع میں سیلاب زدہ افراد کی ویڈیوز ، ان کے موبائل نمبرز اور ان کے شناختی کارڈ نمبرز شئیر کرنا شروع کر دیے۔
ہم نے ڈاٹا وصول کرنا اور لوکل ایف سی یونٹ کے کمانڈر سے رابطہ کر کے ڈاٹا کی تحقیق لے لینی۔ ہمیں کسی بھی جگہ سے کسی بھی نمبر کے غلط یا جعلی سیلاب زدہ ہونے کی اطلاع نہیں آ رہی تھی۔ پھر بھی ہم شک والے مقام پر ایف سی کمانڈر کی مدد لیتے رہے۔
شارٹ یوں کہ لوگوں کا ڈاٹا ہمارے پاس تھا ۔
اور ڈونرز بھی ہمارے ہاں بے حد وافر تھے۔
ہم ڈونر کو ڈائرکٹ سیلاب زدہ کا شناختی کارڈ اور موبائل نمبر دے کر کہتے کہ سر
each one feed one
کے تحت آپ خود ہی سیلاب زدہ خاندان کو پندرہ ہزار رقم چھ ماہ لگاتار بھجوا کر سکرین شارٹ ہمیں بھجواتے رہنا۔
اس سارے کام میں میری مشکل ایک ہی تھی۔
وہ یہ کہ ائیر فورس کو کچھ علم نہیں تھا کہ میں سیلاب میں ایسے کام کر رہا ہوں۔ خاص کر میری یونٹ میں ایک جے سی او نہایت ٹیڑھا آدمی تھا اور مجھے ڈر تھا کہ وہ افسران بالا کو میری ایک ایک پل کی خبر دے رہا ہے۔
یقینا وہ دے بھی رہا تھا۔
ائیر بیس کے اندر موبائل لانا شدید منع تھا۔ اور میں لاتا بھی نہیں تھا۔ پھر بھی کبھی کبھار کسی علاقے میں ایسا عمل ہو جاتا تھا کہ مجھے موبائل کہ شدید ضرورت رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے ۔ ایک صبح تین بجے مجھے بھاگ ناڑی کے ارد گرد سے فون آیا کہ سر ایک بوڑھا آدمی ، اس کی بہو ، اس کی بیوی اور تین بچے ، تین دن سیلاب والے پانی میں چل چل کر بمشکل سڑک تک پہنچے ہیں۔
میں گوگل میپ ، سے نزدیکی جگہوں کے نمبرز لے رہا ہوں۔ اور لوگوں کو وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو ریلیف کرنے کا کہہ رہا ہوں۔ اول تو مجھے معلوم ہے کہ کوئی بلوچ ایسے موقعے پر دھوکہ نہیں کرتا۔ (اور واقعی نہیں کرتا ) دوم اگر کر گیا تو علاقے کے ایف سی کمانڈر کو فون کر کے چیزیں درست کروا لوں گا۔
لیکن سیلاب سے برآمد ہونے والی اس پارٹی کے بعد آدھے گھنٹے میں چھ سات اور خاندان اور صبح سات تک تو سو کے قریب افراد وہاں پہنچ گئے۔ جو تین دنوں کے بھوکے پیاسے سفر کر کے خشکی تک پہنچے تھے۔ یہ ویران علاؤہ تھا یہاں مدد کو آنے والے افراد گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچ سکتے تھے۔
مجھے دفتر جانا بھی ضروری تھا۔ اور فون ساتھ لے کر جانا بھی ضروری تھا۔
کہ لوگوں سے رابطہ بحال رہے کیونکہ وہاں پہنچنے کے بعد ان کو رقم ٹرانسفر کرنا یا مزید میڈیکل یا پانی کے لیے نزدیکی دوکان داروں کو ڈھونڈنا انٹرنیٹ یا گوگل میپ پر موجود دکانوں کے ایڈریسز کے ساتھ درج فون نمبرز سے بہت آسان ہو جاتا تھا۔ کہ بلوچستان سیلاب میرا سب سے بڑا استاد رہا یہ سب سیکھنے میں ۔
ہاں تو اس دن میں موبائل مسرور ائیر بیس پر ساتھ لے گیا تھا۔
مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ آج گارڈ روم پر خیر نہیں ہے۔
مجھے بیچ میں بنک بھی جانا ہوتا تھا ، کبھی گھر آ کر ڈاٹا کو گھر رکھی فائل پر درج کرنا ۔ پھر ان باکس میں آئی نئی اپیلیں نوٹ کرنا ۔ اور وٹس ایپ پر کیڈٹ کالج ڈیرہ بگٹی کے نوجوانوں کو لازما جواب
دینا ۔
یوں سمجھ لیں کہ میری ایک ٹانگ دفتر، ایک گھر، ایک بنک میں ہوتی تھی۔ اس سب میں مجھے سکول سے بچوں کو پک ڈراپ بھی دینا ہوتی تھی۔
تب چھوٹے بغیر کیمرے والے موبائل کی اجازت ہوا کرتی تھی۔ لیکن اینڈرائیڈ ممنوع تھا لیکن میرا رقم کی ترسیل اور دیگر ڈاٹا ریکارڈ کے لیے اینڈرائیڈ از حد ضروری تھا۔
بس اسی دن واپسی پر گارڈ روم پر پرووسٹ کا لڑکا کھڑا تھا۔ اور میں جلدی نکلنے والوں میں اول اول تھا۔ اس نے مجھے روکا اور کہا کہ سر آج جامہ تلاشی ہو گی کہ آج بیس کمانڈر کا آرڈر ہے واپسی پر سب کی تلاشی لیں اور بڑا موبائل جس سے ملے جمع کر لیں۔

عام حالات ہوتے تو موبائل دیا جا سکتا تھا۔ کہ حد سے حد ایک وارننگ لیٹر ملنا تھا یا موبائل کو پریڈ گراونڈ میں دھر کر سب کے سامنے بلڈوزر پھیرا جانا تھا۔
اور میں دور کھڑا بلڈوزر ہوتے موبائل سے نکلتی چنگاریوں اور دھوئیں کو ہی دیکھ پاتا۔
لیکن آج موبائل دینے کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کو بلڈوزر کے نیچے پھینک دیا ہے۔
میں بیس کمانڈر سے کیا کہتا کہ سر بلوچستان کے سیلاب زدگان کی مدد رک جائے گی۔ بھائی میں کون تھا کس حیثیت سے یہ کام کر رہا تھا۔ یہ تو الٹا میرے لیے وبال بن جاتا ۔ میں نے پرووسٹ والے کو موبائل دینے کی بجائے معذرت خواہانہ لہجے میں بات بڑھانا شروع کر دی۔ کہ یار میں نیا نیا آیا ہوں یہاں پوسٹ ہو کر موبائل ساتھ ہی لایا ہوں پلیز مجھے جانے دو وغیرہ وغیرہ ۔
عام حالات ہوتے تو شاید وہ میری ریکوسٹ سمجھ جاتا مجبوری مان لیتا لیکن مجھے یقین ہو چلا کہ آج اوپر سے احکامات تُن کے دیے گئے ہیں لہذا یہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے اسے باتوں میں الجھایا اور بالآخر ایک دو اور بائیک والے پہنچے وہ ان کی جانب متوجہ ہوا تو میں نے چھوٹا فون نکال کر کال کے بہانے کان سے لگا لیا۔
کوور آل (ڈانگری ) کی ان گنت جیبوں میں سے ایک جیب سے یہ موبائل نکالا ، آف کیا اور
گارڈ روم کے کنارے پر اگی گھاس کے پاس موجود خشک نالے میں اُگے گھاس پر بغیر آواز کیے لڑھکا دیا ۔
اور فون کان سے لگائے لگائے خود کو پینڈو لہجے اور تیور میں ڈھال کر پرووسٹ سے پھر منت آلود لہجے میں کہا کہ سر میں فون کیوں دوں آپ کو سارے لوگ بیس کے اندر یوز کرتے ہیں مجھ سے آپ کیوں مانگ رہے ہیں۔
پرووسٹ جوان نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا سر بڑا فون اندر لے جانے کی ممانعت ہے آپ کے کان سے چھوٹا لگا ہے میں چھوٹا نہیں بڑا فون مانگ رہا ہوں۔ میں نے ایک طویل سانس نکالی مکمل اداکاری کی کہ یار مجھے چھوٹے بڑے فون کے فرق کا نہیں معلوم یہی وہ فون ہے جس پر مجھے فیملی سے رابطہ کرنا ہوتا ہے، اور آپ نے جب یہ مانگا تو مجھے شدید پریشانی ہو گئی۔ وہ فلموں والا فون تو میں نے ابھی تک نہیں خریدا۔ دوستوں کے پاس دیکھ لیتا ہوں فلم شلم۔ جوان میرے پینڈو پن پر مسکرایا اور کہا سر آپ مسرور ائیر بیس پر واقعی نئے نئے لگتے ہیں۔
میں وہاں سے نکل تو آیا موبائل آف تھا۔ لیکن جلد از جلد وہاں سے اٹھانا ضروری تھا۔
اس کام کے لیے قدرت نے مجھے ظہیر نام کا ایک کمانڈر دیا ہوا تھا۔ وہ پورے بیس پر ٹیلیفون لائنوں کی درستی کا آل اینڈ آل تھا اور اس جیسا درد دل رکھنے والے افراد فضائیہ میں بہت عزت اور دھیان کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ چیف ٹیک ظہیر آج کندیاں میانوالی میں اپنی ریٹائرمنٹ کی پرسکون زندگی انجوائے کر رہا ہے۔
اسے معلوم تھا کہ میں بلوچستان مشن پر ہوں اور فون مجھ سے دس منٹ بھی دور ہونے سے کوئی بھی ضرورت مند مشکل میں پڑ سکتا ہے۔
اس نے فورا لڑکے دوڑائے ، جو ٹیلیفون کمپلین کے بہانے سے اسی گارڈ روم پر لگی فون کی تاروں کو ڈھونڈنے کے بہانے سرکاری چھوٹا فون کان سے لگائے مجھ سے مصروف تھے۔ تار ڈھونڈنے کے بہانے انہوں نے نالے سے فون نکالا ، اپنے ٹول بیگ میں کے ٹولز کے رش میں چھپا دیا ۔ اور ٹیلیفون کی تار کے ساتھ لپکتے جھپکتے باہر نکل آئے۔
فون مجھ تک پہنچ گیا ۔ ان کو اسی وقت رقم تھمائی کہ جاؤ اور میرے کوارٹر پر چکن دے کر آؤ۔
بیگم کو فون کیا کہ چکن ایسا پکاؤ جیسا اپنے بیٹے محمد روحان کے ولیمے پر پکاؤ گی۔
اس نے بہت سی چیزوں کے ساتھ بادام وغیرہ بھی کہہ دیے۔
بہرحال بیگم صاحبہ نے ایسا اخیر پکایا کہ لڑکے بالے شام کے کھانے پر خوش ہو گئے۔
یہ ایک کرپشن تھی جو میں نے بلوچستان کے لیے آئے فنڈز میں سے کر کے موبائل فون مہیا کرنے والوں کے لیے کھانے کے بندوبست پر لگائی تھی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x