
"سات سال تک جب آپ بچے کو بے جا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں یا تھپڑ مارتے ہیں تو اس تھپڑ کا جواب فی الوقت وہ آپ کو نہیں دیتا بلکہ بڑا ہو کر آپ کو دیتا ہے —-,—-,—– کی صورت میں۔” تین الفاظ مائیک ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے کٹ گئے تھے اور سامعین کی سماعتوں تک نہیں پہنچے تھے۔۔۔۔۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا میڈم صبیحہ احمد یزدانی کا لیکچر ختم ہونے کے بعد ایسے ہی تقریباً دو منٹ تک تالیاں گونجتی تھیں میڈم صبیحہ اپنی جاذب نظر شخصیت اور اپنے لیکچرز کی بدولت تقریباً ہر مکتبہ فکر کے لوگوں اور خصوصاً عورتوں میں بہت مقبول تھیں۔ فیس بک ,یوٹیوب ,انسٹا گرام سوشل میڈیا پر ان کے فالورز لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے۔
میم آٹو گراف پلیز۔۔۔۔۔۔۔
میم میں نے آپ کا وہ لیکچر ۔۔۔۔۔۔۔
میم میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی ملی جلی آوازیں کانوں سے ٹکڑا رہی تھیں۔ میڈم صبیحہ ایسے اپنے پرستاروں میں گھری ہوئی تھی جیسے شہد کا چھتا شہد کی مکھیوں سے گھرا ہوتا ہے۔ ایک جم غفیر تھا جو لیکچر ختم ہونے کے بعد ان کے گرد امڈ آیا تھا۔ وہ بہت مشکل سے اس ہجوم سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھیں جسکا دروازہ کھولے ڈرائیور پہلے سے ہی ان کا منتظر تھا۔
—————
عورتوں کو گھریلو معاملات میں کیسے سمجھداری سے کام لینا چاہیے؟؟
اپنی ذات کو فراموش کیے بغیر دوسروں کا خیال رکھنا ؟؟
جاب , گھر ,بچے ۔۔۔۔۔۔۔
سمجھوتہ اور قربانی میں باریک سا فرق ہے۔۔۔۔۔۔
ان تمام نکات کو جوڑتے ہوئے وہ اپنے اصل مدعے پہ آ گئیں تھیں۔
آج کا موضوع تھا بچوں کی تربیت کیسے کی جائے کیونکہ آج کل جتنی مائیں پڑھی لکھی ہیں اتنے ہی تربیت کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ ہے "موبائل فون……. بچوں کا سکرین ٹائم ”
اس پر تقریباً آدھا گھنٹہ بولنے کے بعد سوال جواب کا سیشن شروع ہوا ۔۔۔۔۔
میم آج کل کے بچے بہت تیز ہیں جتنی بھی کوشش کروں ؟؟؟
میڈم صبیحہ عورت کا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی بول پڑیں اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ انھیں لمبے سوال سننے کی عادت نہیں تھی یا پھر اس طرح کے سوالات ان کے لیے نئے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔
میں آپ کا مسئلہ سمجھ گئی ہوں اس کا بہترین حل یہ ہے کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے تو آپ اسے دن میں ایک سے زیادہ بار Hug کریں اس سے آپ اس کے اندر واضح تبدیلی دیکھیں گی۔۔۔۔۔۔
میم میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ۔۔۔۔ میڈم نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
میم میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو چکی تھی شادی کے سات سال تک میری اولاد نہیں تھی میاں بیوی کا رشتہ جسے دنیا کا خوبصورت رشتہ کہا جاتا ہے یہ رشتہ سوائے بوجھ کے کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔
آپ نے مجھے بتایا کہ اپنے اردگرد پھیلی نعمتوں کو دیکھیں!!! کیا آپ ایک نعمت کے نہ ہونے کی وجہ سے باقی سب نعمتوں کو فراموش کر دیں گی؟؟ کیا ان سب کا شکر نہیں ادا کریں گی، ایک چیز آپ کے بس میں ہی نہیں ہے تو اس کے لیے زور زبردستی کیسی؟؟؟؟
زندگی کو انجوائے کرو شکر کے ساتھ۔۔۔۔ بچے بھی ہو جائیں گیا ان شاءاللہ۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر لیکچر سنتے ہوئے مسٹر احمد یزدانی اور میڈم صبیحہ نے ایک دوسرے کی طرف ایک خوبصورت اور شگفتگی سے بھرپور مسکراہٹ کا تبادلہ کیا تھا ان الفاظ کے ساتھ ہی ٹی وی کی سکرین بلیک ہو گئی حمزہ احمد ٹی وی بند کرنے کے بعد اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔
میڈم صبیحہ جیسے اپنی گفتگو میں گھروں کا منظر پیش کرتی تھیں ان کا اپنا گھر اس سے مختلف نہیں تھا۔
پڑھا لکھا گھرانہ۔۔۔۔ دو دو جوان بیٹے ملک کے کامیاب بزنس مین تھے , بے انتہا چاہنے والا شوہر تھا۔۔۔۔۔حمزہ احمد یزدانی میڈم صبیحہ کا بڑا بیٹا تھا۔ بہت کم گو تھا شام میں اس کی سالگرہ کے سلسلے میں بہت بڑی پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔
بڑی بڑی فیملیز کی بیگمات, این جیوز کی کرتا دھرتا خواتین , بڑے بڑے بزنس مین ,مصنف شاعر سب اس پارٹی کا حصہ تھے۔
میڈم صبیحہ جیسے جیسے چاہتی تھیں بچے ویسے ویسے بنتے گئے اور اب دیکھو!!! کیا کامیاب زندگی ہے ان سب کی۔۔۔۔۔
سنا ہے بہو بھی اپنی پسند کی لائی ہیں ۔۔۔۔ ۔
اس دور میں بچے ماں باپ کی ہر بات سنیں تو اور کیا چاہیے ؟؟
سنا ہے۔۔۔۔۔ یہ ان کے سگے بیٹے نہیں مسٹر احمد یزدانی کی پہلی بیوی میں سے ہیں لیکن صبیحہ نے انھیں سگے بچوں کی طرح پالا ہے۔
ارے چھوڑو !! سگوں کی طرح کہاں بس بچوں کو ریموٹ کنٹرول سمجھ لیا اور ریموٹ اپنے ہاتھ میں رکھا سوتیلی ماں بھی بھلا۔۔۔۔۔
ہاں جی !!!!! وہ خود موٹیویشنل سپیکر ہیں موٹیویٹ کرنے میں مہارت رکھتی ہیں ویسے بھی جو یہ کہتے ہیں پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا وہی سب سے زیادہ چارج کرتے ہیں۔۔۔۔۔ان کی پرانی جان پہچان والی نے سب سوالوں کے جواب ایک ہی جملے میں دے دیے۔
عورتوں کے اس جھرمٹ نے ستائش اور طنز کے ملے جلے قہقہوں نے تمام حاضرین کی توجہ کچھ وقت کے لیے اپنی طرف مبذول کر لی تھی۔ کیک کٹنے کے بعد خوش گپیوں کو سمیٹتے ہوئے یہ شام اختتام پذیر ہوئی۔
اگلے دن پارٹی میں ملنے والے تحائف میں سے ایک قیمتی امپورٹڈ گلدان ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔۔ میڈم صبیحہ اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنے پوتے سے مخاطب تھیں۔۔۔
بیٹا !!! آپ کو اسے کھولنے کے لیے کسی بڑے کی مدد لینی چاہیے تھی۔ دیکھیں !!!! اب آپ اپنے کمرے میں جائیں ۔
سوری دادو!!! بچہ نگاہیں جھکاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب دوڑ گیا۔
تم سب لوگ کہاں تھے۔۔۔۔۔ کچھ معلوم ہے کتنے مہنگے تحائف ہیں یہ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی دیکھے۔۔۔۔۔۔۔ چلیں اب جائیں۔۔۔۔۔ صاف کریں یہاں سے۔۔۔۔۔۔ میڈم صبیحہ بظاہر آہستہ آواز میں اپنے ملازمین کو ڈانٹ رہی تھیں مگر ان کے الفاظ کی کڑواہٹ کو ملازمین اپنے اندر اترتا محسوس کر سکتے تھے۔
میڈم صبیحہ نے اپنی عینک اتار کر سامنے پڑی میز پر رکھی اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موند لیں وہ خود سے ہم کلام تھیں۔
ریلیکس۔۔۔۔۔۔ ریلیکس صبیحہ۔۔۔۔۔ ریلیکس ۔۔۔۔۔۔
——————-
صبح بیڈ ٹی لینے کے بعد اپنی عینک کو ڈھونڈتے ہوئے وہ ٹی وی لاؤنج تک آگئیں تھیں انہوں نے جلدی سے ٹی وی آن کیا کیونکہ ان کا نیا لیکچر نشر ہونے والا تھا مگر ان کی عینک مل کے ہی نہیں دے رہی تھی۔ گھر کی ملازمہ نے بتایا کہ ان کی عینک ان کے پوتے سے ٹوٹ گئی ہے۔
” بہو!!!! میں دوسروں کو تربیت کے طریقے سکھاتی ہوں مگر میری اپنی بہو؟؟؟؟
فائق بد تمیز ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔ آئے دن گھر کی چیزیں توڑنا۔۔۔۔۔ میری عینک بھی ۔۔۔۔
اپنے بچے سے کمیونیکیٹ کرو!!!!
سوری مما!!! بچہ ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا میں سمجھاؤں گی اسے۔ میں بہت معزرت چاہتی ہوں آپ سے ۔
بیٹا!! دادو کو سوری بولو!!!
نہیں میں سوری نہیں بولوں گا
فائق!!!! فائق !!!!
فائق اپنی دادی کو سوری کہے بغیر ہی وہاں سے بھاگ گیا تھا۔
میں بہت شرمندہ ہوں مما !!! بہو نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔
میڈم صبیحہ نے اس انداز سے اپنی بہو کو گھورا جیسے انہوں نے ایک اچھی ماں نہ ہونے کا طعنہ دیا ہو ان کی ایک نظر میں کئی سوال تھے۔
————-
شام کو حمزہ احمد جب آفس سے گھرلوٹا تو وہ اپنے کمرے سے آتی ہوئی آواز سن کر وہیں رک گیا۔
آئندہ اگر تم نے میرا کہنا نہیں مانا تو میں تمہیں باتھ روم میں بند کر دوں گی۔ حمزہ کے کان میں یہ الفاظ پڑتے ہی اسے اپنا بچپن یاد آ گیا ۔ کیونکہ اس گھر کا اصول صرف پرفیکشن تھا۔
حمزہ اپنے والدین کے کمرے میں گیا انہیں ایک تحفہ دیا۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتا رہا اور پھر اس انداز میں خدا حافظ کہا جیسے ہمیشہ کےلئے جا رہا ہو۔
تحفہ کھولتے ہی میڈم صبیحہ کے دماغ میں جھماکے ہونے لگے
انھیں اپنے الفاظ ” جب آپ چھوٹے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ یا تھپڑ مارتے ہیں تو اس تھپڑ کا جواب وہ فی الوقت آپ کو نہیں دیتا بلکہ بڑا ہو کر دیتا ہے۔ چھوڑ کرجانے کی صورت میں”
میڈم صبیحہ ڈبے میں پڑے تحفے کو گھورے جا رہی تھیں۔
مسٹر احمد یزدانی نے صبیحہ کے ہاتھ سے ڈبہ پکڑا اور گویا ہوئے
بچپن میں پرفیکشن کے چکر میں اپنی الماری سے چند روپے لینے پر جو چمٹا گرم کر کے اس کے ہاتھ کو تم نے داغا تھا اس کا جواب آج اس نے دیے دیا ہے۔
چھوڑ کر جانے کی صورت میں ۔۔۔
لو سنبھالو چمٹا۔۔۔۔۔




