”تجاذب“ : آگہی کی ایک نئی کائنات / ڈاکٹر رفیق سندیلوی

”تجاذب“ : آگہی کی ایک نئی کائنات ڈاکٹر رفیق سندیلوی
"تجاذب” شاہد ماکلی کا تازہ غزلیہ مجموعہ ہے اور یہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں کائنات کا شعور انسان کے اندر موجود کائنات کی بازیافت سے جُڑا ہوا ہے۔ اس عمل میں حیرت ایک فکری کیفیت سے زیادہ ایک داخلی توازن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نے کائنات کے مظاہر سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنی خاموشی کو دریافت کیا ہے جو معنی میں تحلیل ہونے کا بھید کھولتی ہے۔ شاہد ماکلی کے ہاں "کائنات” کا ذکر کبھی فلسفہ نہیں بنتا، ہمیشہ احساس کی سطح پر رہتا ہے جو انسان کو اپنے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ جہاں عام شعور لامحدود خلا سے گھبرا جاتا ہے وہاں ماکلی کا شعور اسی خلا میں اپنا مستقر ڈھونڈ لیتا ہے۔ ان کے نزدیک "خلا” معدومیت کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ موجودگی کی گہرائی کو روشن کرتا ہے۔ یہاں کائنات کا تصور کسی بیرونی پھیلاؤ کا نہیں، درونِ ذات میں وقوع پذیر کائناتی حرکت کا زائیدہ ہے۔ ان کی غزلوں میں خلا باہر نہیں، اندر سانس لیتا ہے۔ اسی لیے ان کے ہاں جو حیرت ہے، وہ اپنی سطح سے اوپر اٹھ کر آگہی کی لطافت بن جاتی ہے۔ یہ وہ حیرت ہے جو دل کو مضطرب بھی کرتی ہے اور ایک لطیف سا سکون بھی دے جاتی ہے۔۔۔ ایسا سکون جس میں شعور کی آنکھ کھلی رہتی ہے:
الگ نہ کر سکا اب تک میں اس کے اجزا کو
بعید کیا ہے جو حیرت ہو کیمیائی مری
اک حیرتِ گریز ہے اک حیرتِ کشش
دو حیرتوں کے ملنے سے سکتہ بنا مرا
اب اس سے کیجئے حیرت کی سترپوشی کیا
تناظرات کی چادر ہے چاک چاک مری
حیرت کی یہ کیفیت اپنے اجزا میں آمیزش رکھتی ہے جسے شعور فوراً الگ نہیں کر پاتا اور اسی اندرونی کیمیا سے حیرت کی گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ گریز کی حیرت اور کشش کی حیرت کے ملاپ سے شعور میں ایک مختصر سکتہ پیدا ہوتا ہے، ایک ایسا توقف جو شاعر اپنی داخلی بصیرت کے تجربے کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہ سکتہ نہ مستقل اضطراب ہے اور نہ مکمل سکون بلکہ حیرت کی آمیزش کی ایک فوری جھلک ہے جو شعور کو چونکا کر اس کی ادراکی حدود کو لمحاتی طور پر وسیع کر دیتی ہے۔ حیرت اپنی پوری صورت میں چھپی نہیں رہتی. تناظرات کی چادر میں اتنے چاک اور درز ہوتے ہیں کہ اس کی روشنی صاف جھانکتی ہے، اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ حیرت کی سترپوشی کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب یہ حیرت کائناتی شعور کی اس حرکت سے جڑی ہو جو اندرونِ ذات میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔
غور کیجئے تو اسی حرکت کے سبب شاہد ماکلی کے یہاں عقل اور دل کے بیچ کوئی تصادم نہیں۔ سائنسی تمثیلیں ان کے وجدان کا حصہ نظر آتی ہیں۔ ان کی غزلیں بتاتی ہیں کہ "کائنات کو سمجھنا” اور "اس میں جینا” دو الگ عمل نہیں بلکہ ایک ہی تجربے کے مرحلے ہیں جو خیال کی حدوں سے نکل کر زندگی کی توسیع بن جاتے ہیں ۔ "تجاذب” کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو باہر کی طرف نہیں، اپنے اندر جھانکنے پر مائل کرتا ہے۔ یہاں کششِ ثقل ایک روحانی تجربہ ہے اور روشنی ایک داخلی استعارہ۔ شاعر بار بار اس نکتے کی طرف لوٹتا ہے کہ کائنات کے تمام مظاہر انسان کے اندر ہی منعکس ہوتے ہیں۔ "تجاذب” صرف کائنات کا قانون ہی نہیں، روح و وجود کے تعلقات کا بھی ایک اصول ہے۔ یہی کیفیت ایک مکمل انکشاف میں ڈھل جاتی ہے جو اصلاً شاعر کی ساری فکری اور روحانی جستجو کا حاصل ہے:
میں کائناتی سفر میں اکائی تک پہنچا
فزکس ہو گئی روحانیات میرے لیے
اس کائناتی اور باطنی سفر میں علم اور احساس، عقل اور دل، سائنس اور تصوف ایک ہی دائرے میں گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کائنات باہر پھیلی ہوئی وسعت ہی نہیں، اندر کے خالی پن کا چہرہ بھی ہے۔ انسان کے دل میں جو خاموشی ہے، وہی خاموشی آسمانوں کی گہرائی میں گونجتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنی ہی باطنی ساخت کو دیکھتا ہے۔ یہ احساس شاعر کو "لاشعوری وسعت” عطا کرتا ہے جہاں وہ اپنے وجود کو کسی بیرونی حد میں قید نہیں پاتا۔ یہی سبب ہے کہ "تجاذب” میں “کائنات کا شعور” آہستہ آہستہ “خود اپنے وجود کی آگہی” میں بدل جاتا ہے۔ اس مجموعے کی بیشتر غزلیں یہ باور کراتی ہیں کہ ہم ستاروں کے نہیں، اپنے دل کے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ یہی اندر کا خلا ہے جو شاعر کو مسلسل تخلیق پر آمادہ رکھتا ہے جو باہر نہیں، اندر وقوع پذیر ہوتی ہے:
تری تلاش میں ایسا بھی ایک پل آیا
میں کائنات سے باہر کہیں نکل آیا
جو بیکرانی سی پھیلی ہوئی ہے عالم میں
اسے ہمارے ہی دل کا خلا سمجھ لیجے
نگار خانۂ امکان میں پڑے ہوئے ہم
دوبارہ کھل اٹھے تصویر میں جھڑے ہوئے ہم
ابھر رہی تھیں کئی کائناتی آوازیں
اور ان کے رخ پہ کئی کاروان چل رہے تھے
شاہد ماکلی کے یہ اشعار انسان کے اندر موجود اس خلا کا سراغ دیتے ہیں جو باہر کی کائنات سے زیادہ گہرا اور مؤثر ہے، وہی خلا جو شاعر کو مسلسل تخلیق پر آمادہ رکھتا ہے۔ تلاش کے سفر میں کائنات سے باہر نکل آنے کا تجربہ تخیلاتی وسعت بھی رکھتا ہے اور اپنے ہی باطن کی ایک نئی سطح تک پہنچ جانے کا اظہار بھی ہے۔ عالم میں پھیلی ہوئی بیکرانی کو دل کے خلا سے تشبیہ دینا بھی اسی باطنی وسعت کی علامت ہے جو بیرونی فاصلوں سے زیادہ اندر کے خالی پن میں معنی تلاش کرتی ہے۔ اسی طرح نگار خانۂ امکان میں شاعر اپنے ہی وجود کے دوبارہ کھلنے کا تجربہ بیان کرتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ جامد “تصویر” میں کبھی زندگی پیدا نہیں ہو سکتی، یہ جلوہ گری خود انسان کی ہے جس سے یہ دُنیا آباد ہے۔ آخری شعر میں ابھرتی ہوئی کائناتی آوازیں اور ان کے رخ پر چلتے کارواں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تخلیق کی تحریکیں باہر سے نہیں آتیں؛ یہ سب اندر کی وسعتوں ہی میں گونجتی ہیں اور وہیں چلتی ہیں۔ ان اشعار سے یہی واضح ہوتا ہے کہ حقیقی تخلیق ہمیشہ باطن کے خلا میں وقوع پذیر ہوتی ہے اور شاعر اسی داخلی کائنات کے تجربے سے تخلیقی توانائی حاصل کرتا ہے۔
ماکلی کا کائناتی تصور سائنسی اشارات کا کھیل نہیں، وجدان کی توسیع ہے۔ وہ "کشش ثقل” کو روحانی تعلق، "روشنی” کو شعور کی بیداری اور “وقت” کو تخلیق کے مسلسل عمل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس اور تصوف کے بیچ فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ اس سطح پر شاعر ایک ایسا نکتہ دریافت کرتا ہے جہاں علم، وجدان اور تجربہ ایک ہی سمت میں بہنے لگتے ہیں۔ کائناتی استعارے اس کے ہاں احساساتی مظاہر بن جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے طبیعیات اس کی شاعری میں روح کی زبان بولتی ہے:
کم روشنی سے کام مرا چلتا نہیں تھا
آخر مجھے دو کرنوں کو ٹکرانا پڑا ہے
سمے کی تجربہ گاہوں میں رہ کے سیکھا ہے
سیہ سفید ملانا ہے کس تناسب میں
ثمر درخت سے گرتے ہیں ہم نگاہوں سے
کہیں کشش کا عمل ہے کہیں گریز کا ہے
جہاں ہم تھے وہاں سے لا مکاں نزدیک پڑتا تھا
ہم اپنی بے گھری کی آخری منزل میں رہتے تھے
ہماری خانہ بدوشی کسی کی نقل میں ہے
یہ بے گھری کا تصور تو لا مکاں سے ملا
گھما کے وقت نے پھینکا ہے اتنی قوت سے
کہ آ گرے ہیں کہیں صبح و شام سے باہر
بدن تو ہو گیا محدود ایک کمرے تک
دماغ انفس و آفاق سے جڑا ہوا ہے
تم اپنے دل کی رصد گاہ سے ہمیں دیکھو
یہ ہم جو دور کے برجوں میں ٹمٹماتے ہیں
شاہد ماکلی کے یہ اشعار قدرتی مظاہر اور انسانی شعور کے درمیان ایک فطری ربط قائم کرتے ہیں۔ کم روشنی میں دو کرنوں کے ٹکرانے کا مشاہدہ صرف کسی طبیعیاتی عمل کا بیان نہیں بلکہ انسانی شعور کی وضاحت اور داخلی بصیرت کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ وقت کی تجربہ گاہ میں سیہ و سفید کے ملاپ کا تذکرہ زندگی کے تضادات، نشاط و الم اور روشنی و تاریکی کے توازن کی طرف ایک اشارہ ہے۔ درخت سے گرتے ہوئے پھل اور کشش و گریز کے متضاد عمل جذبات کے اندرونی بہاؤ اور رغبت و بیگانگی کے احساس کی عکاسی کرتے ہیں۔ یوں لامکاں کا قرب اور بے گھری کا احساس وجود کی ایک داخلی منزل کے طور پر ابھرتا ہے۔ یہاں شاعر کی خانہ بدوشی کسی خارجی سفر کی نقل نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جو اسے لامکانی وسعت سے ورثے میں ملی ہے۔۔۔ ایسی وسعت جہاں جگہ سے زیادہ شعور کی حالت اہم ہو جاتی ہے۔ اسی لئے بے گھری محرومی نہیں، ایک کائناتی ورثہ بن جاتی ہے جس میں وجود مکان سے نہیں، اپنی داخلی وسعت سے معنی پاتا ہے۔ یہی کیفیت جب زمانے کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے تو انسانی وجود صبح و شام کی حدوں سے باہر جا گرتا ہے، گویا شعور بلند ہو کر معمول کے زمانی نظام کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب جسم ایک کمرے تک محدود رہ جاتا ہے مگر ذہن انفس و آفاق میں پھیل جاتا ہے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اصل سفر جسمانی نہیں بلکہ شعوری ہے۔۔۔ وہ سفر جو قید میں بھی کائنات کی وسعت کو چھو لیتا ہے۔ اور یہی شعور جو وقت اور مکان دونوں کی مادی قیود کو توڑ دیتا ہے، اپنے آخری انکشاف میں ایک ایسی باطنی بصیرت بن جاتا ہے جہاں دیکھنے والا مقام سے نہیں بلکہ دل کی روشنی سے دیکھتا ہے۔ یہاں فاصلہ خارجی نہیں رہتا؛ تعلق اسی داخلی رصدگاہ میں قائم ہوتا ہے جہاں وجود ٹمٹماتے ہوئے برجوں کی مانند نمودار ہوتا ہے۔
شاہد ماکلی کی غزل کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ کائنات کو موضوع بناتے ہوئے زمین سے منقطع نہیں ہوتی۔ یہاں انسانی زندگی کے تجربات، وقت کے تغیرات اور وجود کے امکانات اپنی حسیاتی جہات کے ساتھ برابر موجود ہیں۔ شاعر کے لیے کائنات اور انسان کا رشتہ ایک جیتا جاگتا تبادلہ ہے۔ یہ کوئی تماشا گری نہیں۔ جب وہ زمین کی خرابی یا وقت کے انہدام کی بات کرتا ہے تو اس کے پیچھے محض تاریخی درد ہی نہیں ہوتا، روحانی ذمہ داری کا احساس بھی ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر تغیر کے ساتھ معنی بدلتے ہیں مگر احساسات اپنی اصل میں باقی رہتے ہیں:
اب اس زمین پہ سلفر کے پھول اگتے ہیں
جہاں بہشت کا سبزہ ہمیں اگانا تھا
اک انہدام نے دنیا مری بدل ڈالی
مکاں گرا تو میں کون و مکاں میں رہنے لگا
پھلانگ جائیں گے دیوارِ کائنات کو ہم
اگر فرار کا موقع کبھی یہاں سے ملا
میرا تمہارا رات کے باغوں میں گھومنا
اک راز ہے جو صرف اندھیرے پہ فاش ہے
مری زمین کے موسم بدلتے جاتے ہیں
مگر خدا کرے خوشبو تمہاری رہ جائے
میں ایک وقت میں دو حالتوں میں رہتا ہوں
گھٹا بھی چھائی ہے، مطلع بھی صاف ہے میرا
شاہد ماکلی کے یہ اشعار انسانی تجربات اور خارجی مظاہر کے درمیان ایک نفیس معنوی ربط قائم کرتے ہیں۔ زمین پر سلفر کے پھول اگنے کا بیان صرف ماحول کی زہر آلودگی یا وقت کی جبریت کا اشارہ نہیں، اس خواب کی شکست بھی ہے جس میں انسان نے بہشت کی ہریالی و شادابی کا عہد باندھا تھا۔ یہی وہ داخلی طلب ہے جو جہنم اور بہشت کے درمیان جھولتی رہتی ہے اور انسان کو اپنی کھوئی ہوئی امیدوں اور یادوں کی جانب واپس کھینچتی ہے۔ گویا شاعر کا جمالیاتی دکھ ماحولیاتی نقصان کے داخلی اور روحانی اثرات سے جنم لیتا ہے۔ اسی طرح مکاں کے انہدام کا تذکرہ بھی بیرونی نقصانات سے زیادہ داخلی وجود کی شکست و ریخت ہے جہاں دنیا بدلتے ہی انسان اپنی جگہ کھو دیتا ہے اور “کون و مکاں” کی وسعت میں ایک نئے مگر غیر یقینی مقام پر آن کھڑا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں سوچیں تو دیوارِ کائنات کو پھلانگنے کا امکان بھی انسانی خواہش، فرار اور تخلیقی آزادی کی اس سرکشی کی نمائندگی کرتا ہے جو قید کی ہر صورت کو چیلنج کرتی ہے۔ رات کے باغوں میں گھومنے کا "راز” بھی ایک ایسی داخلی ہم آہنگی اور باہمی قربت کی علامت ہے جو روشنی میں نہیں، اندھیرے کی آغوش میں آشکار ہوتی ہے جہاں ظاہر سے زیادہ باطن بولتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جہاں موسموں کے تغیّر کے باوجود خوشبو کے باقی رہنے کی خواہش انسانی رشتوں، یادوں اور وابستگیوں کے اس استحکام کی نشاندہی کرتی ہے جو وقت کی گردش سے متاثر نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک وقت میں دو حالتوں میں رہنے کا تجربہ اس داخلی کشمکش اور دوہری کیفیت کا اظہار ہے جہاں زندگی کا مطلع صاف بھی ہے اور ابر آلود بھی۔ شعور اور لاشور کی یہی حالتیں مل کر اس تصور کو مکمل کرتی ہیں جو تخلیقی عمل کے لئے ضروری ہے۔
عموماً ہمارے تنقیدی مطالعوں میں غزل کے فکری اور جمالیاتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے شاعر کی غزلوں سے منتخب یا موضوع سے متعلقہ اشعار پیش کیے جاتے ہیں۔ یہاں شاہد ماکلی کے شعری نظام کے اعماق و ارتباط کو سمجھنے کے لئے ان کی ایک غزل کے تین چوتھائی اشعار پیش کیے جا رہے ہیں جو بطورِ اکائی ان کے فکری محور کو اپنی مکمل ساخت اور داخلی ترتیب کے ساتھ منکشف کرتے ہیں:
جاں کبھی دن سے، کبھی رات سے ٹکراتی ہے
ایک کشتی کئی خطرات سے ٹکراتی ہے
دل کی مڈ بھیڑ تری یا د سے ہوی ہے کہیں
تیرگی نور کے ذرّات سے ٹکراتی ہے
آہ کے چیتھڑے آفاق میں اُڑتے ہیں کہیں
بے کسی ارض و سماوات سے ٹکراتی ہے
راہ پاتی نہیں منظر سے نکلنے کے لئے
حیرت اپنے ہی طلسمات سے ٹکراتی ہے
کائناتیں مری تشریح طلب ہیں اب تک
اک مساوات مساوات سے ٹکراتی ہے
سانس ہوتی نہیں ہستی کی نمو میں شامل
روح کب جسم کے خلیات سے ٹکراتی ہے
ناتوانائی توانائی کی ہی شکل نہ ہو
پیری سر بابِ مناجات سے ٹکراتی ہے
دل ہے ما قبل قدیم، آنکھ ہے ما بعد جدید
ہستی اپنے ہی تضادات سے ٹکراتی ہے
بے خیالی کے کنارے پہ کہیں بیٹھا ہوں
ایک لہر آتی ہے، جذبات سے ٹکراتی ہے
شاہد ماکلی کی یہ غزل کسی روایتی غزل گو کی طرح وارداتِ دل یا مظاہرِ حسن میں نہیں گھومتی۔ یہ ایک ایسے وجود کی کہانی ہے جو “خود اپنی معنویت سے ٹکرا رہا ہے۔” اس غزل میں “ٹکراؤ” محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ تخلیقِ شعور کا بنیادی محرک ہے جو ایسی توانائی رکھتا ہے جو سکوت کو توڑ دیتی ہے مگر تباہ نہیں کرتی۔ یوں لگتا ہے کہ شاعر نے کائنات کی خارجی حرکات کو انسانی باطن کی نادیدہ گردشوں میں جذب کر لیا ہے۔ غزل کا مطلع ایک داخلی اضطراب کا دروازہ کھولتا ہے۔ "جاں کبھی دن سے، کبھی رات سے ٹکراتی ہے”۔ یہ “جاں” کوئی مجرد روح نہیں، ایک ایسا شعور ہے جو روشنی و تاریکی اور آگاہی و نسیان کے بیچ جھولتا ہے۔ یہاں دن اور رات ایک سطح پر وقت کے استعارے ہیں تو دوسری سطح پر وجود کی دو کیفیات بھی ہیں۔ شاعر کا یہ “ٹکراؤ” فنا کا موجب نہیں بنتا، نئی معنوی لہروں کو جنم دیتا ہے۔ اسی داخلی تناؤ کا ایک اور رخ وہاں کھلتا ہے جہاں حیرت اپنے ہی طلسمات سے نکلنے کا راستہ نہیں پاتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شعور اپنے بنائے ہوئے دائرے سے ٹکراتا ہے، اور منظر سے آگے بڑھنے کی آرزو خود اپنے ہی حبس میں پھنس جاتی ہے۔ گویا ادراک کے اندر ایک اور ادراک جنم لیتا ہے۔ اسی طرح مساوات سے مساوات کے ٹکرانے میں ایک حیران کن علمی و فکری جہت کھلتی ہے جو شعر کو شعر ہی کی سطح پر رکھتی ہے مگر خود علم کی حدوں پر ایک سوال بن کر ابھرتی ہے کہ جب مساوات مساوات سے ٹکراتی ہے تو عقل اپنی معقولیت سے آگے بڑھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہاں شاعر کا مکالمہ سائنس سے آگے“شعور کے نظام” تک جاتا ہے یعنی وہ لمحہ جہاں منطق خود اپنی حد پہ پہنچ کر وجدان میں تحلیل ہو جاتی ہے۔۔۔ اسی رو میں جسم کے خلیات سے روح کا عدم تصادم بھی ایک گہری علامت ہے۔ یہاں ہستی کی نمو رُکنے کا تصور صرف حیاتیاتی نہیں بلکہ وجودی ہے۔ روح اور جسم کا فاصلہ دراصل وہی باطنی خلا ہے جو غزل کی داخلی کشمکش کو آگے بڑھاتا ہے۔ اور جب یہ مصرعہ وارد ہوتا ہے کہ "دل ہے ما قبل قدیم، آنکھ ہے ما بعد جدید” تو زبان اپنے عہد کی تنقید بن جاتی ہے۔ دل جو ازل کی گہرائیوں سے جڑا ہے، احساس کی پرانی روایت ہے اور آنکھ جو بعد از جدید ہے، تضاد سے مبرا مشاہدے کی نئی دنیا ہے۔ دونوں کا ایک ہی وجود میں جمع ہونا اس کی تکمیل کی علامت ہے۔ گویا شاعر بتاتا ہے کہ جدید انسان وہی ہے جو اپنے ماقبل سے ہم آہنگ رہے۔ اسی باطنی تناظر میں پیری اور بابِ مناجات کا رشتہ جو سر ٹکرانے سے وضع ہوتا ہے، بہت معنی خیز ہے۔ یہاں پیری زوال نہیں، ایک نئی توانائی کا اعلامیہ ہے، وہ توانائی جو ناتوانی کے اندر اپنی مخالف سمت سے نمو پاتی ہے اور ہستی کے لیے ایک نئی راہ کھول دیتی ہے۔
اس غزل کا ہر شعر ایک تجرباتی لمحہ ہے۔ توانائی اور ناتوانائی، یقین اور تذبذب، حرکت اور جمود، اس میں سب اکٹھے سانس لیتے ہیں۔ یہاں "معنی” میں ایک مسلسل تصادم ہے جس سے شاعر گزرتا ہے اور کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتا۔۔۔ اور پہنچ بھی نہیں سکتا، اس لیے کہ غزل اپنی ساخت ہی میں غیر خطی ہوتی ہے؛ وہ بیان کو کسی ایک سمت یا ایک منطقی انجام تک محدود نہیں کرتی۔ شاہد ماکلی کا مابعد جدید رویہ ویسے بھی ان کی غزل کو ایک ایسے کھلے پن میں لے آتا ہے جہاں معنی سکڑتے نہیں، پھیلتے ہیں۔ غور کیجئے تو اس داخلی کشمکش کا ایک لطیف پہلو وہاں ابھرتا ہے جہاں دل اپنی ہی یاد کے دھندلکوں میں نور کے ذرات سے ٹکراتا ہے۔ یہ تصادم بصری نہیں، ایک باطنی عمل ہے جس میں یاد کی تیرگی اور شعور کی روشنی ایک دوسرے میں گھل کر نئی معنویت پیدا کرتی ہیں۔ اور اس سے آگے وہ منظر ہے جہاں "آہ کے چیتھڑے” آفاق میں اڑتے ہیں؛ یہاں کیفیت فرد کی سطح سے نکل کر ایک وسیع تر کائناتی بے کسی میں بدل جاتی ہے، ایک ایسی بےکسی جو ارض و سماوات سے ٹکرا کر اپنی گونج خود اپنے اندر سننے لگتی ہے۔ آخر میں یہ مصرعہ "ایک لہر آتی ہے، جذبات سے ٹکراتی ہے” جس پر غزل تمام ہوتی ہے، اس غزل کی پوری ساخت کا نچوڑ ہے۔ لہر یہاں خارجی مظہر نہیں، شعور کا اندرونی تموج بن کر آتی ہے۔ جذبات سے اس کا ٹکراؤ ہی دراصل وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنے ہی احساسات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے اور اپنی خود آگاہی کو وجودی سطح پر محکم کرتا ہے۔ یوں یہ غزل کائنات کی نہیں، “انسان کے اندر کے کائناتی نظام” کی ترجمان ہے۔ یہاں شاعر کسی مطلق سچائی کو تلاش نہیں کر رہا، اصلاً اس کی تپش کا تجربہ کر رہا ہے۔ اس کے نزدیک تصادم بربادی نہیں، تخلیق ہے۔ ہستی اپنے تضادات سے ٹکرا کر ہی مکمل ہوتی ہے اور یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ معنی کا ظہور تصادم سے ہوتا ہے اور سکون کا جنم حرکت سے۔ یہی شاہد ماکلی کے فن کی روح ہے۔ اس رخ سے دیکھیں تو بلاشُبہ "تجاذب” ایک ایسا مجموعہ ہے جو معاصر غزل میں آگہی کی ایک نئی کائنات بن کر طلوع ہوا ہے۔




