کتاب : رقص آب / تبصرہ: کنول بہزاد

کتاب : رقص آب ( افسانے)
مصنفہ : نوین روما
تبصرہ : کنول بہزاد
نوین روما سے میری پہلی ملاقات شاید باقاعدہ ملاقات نہیں تھی ۔۔۔وہ مسرت کلانچوی صاحبہ کے ساتھ منائی گئی ایک شام میں کاسمو پولیٹن کلب آئیں تھیں۔۔۔ بڑے خوشگوار انداز میں سب سے سلام دعا کی۔۔۔ ان کی شخصیت کا پہلا تاثر ہی بہت خوبصورت اور بھرپور تھا ۔۔۔ پھر بلقیس ریاض صاحبہ کے گھر ایک ظہرانے میں ملاقات ہوئی تو ہم نے آپس میں کافی باتیں کیں ۔۔۔اور پھر قدرت کی طرف سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ سا بنتا چلا گیا ۔۔۔مجھے احساس ہوا کہ یہ نوجوان خاتون جو ہنستے مسکراتے ملتی ہیں زندگی کی تلخیوں کا گہرا ادراک رکھتی ہیں اور اس چھوٹی سی عمر میں بڑے بڑے تجربات سے گزر چکی ہیں۔۔۔ ان کا اولین افسانوی مجموعہ "رقص آب ” انہی تجربات اور مشاہدات کا عکاس ہے۔۔۔ آپ کی کہانیوں کے کردار عام لوگ ہیں مگر نوین کا ٹریٹمنٹ انہیں خاص بنا دیتا ہے۔۔۔ آپ انسانی نفسیات پر گہری نگاہ رکھتی ہیں ۔۔۔تحریر میں اگرچہ سادگی اور بے ساختگی ہے مگر بیک وقت گہرائی بھی ہے۔۔۔ آپ اور عریاں سچ بیان کرتے ہوئے گھبراتی نہیں ہیں بلکہ بڑی بہادری اور جی داری سے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتی چلی جاتی ہیں ۔۔۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے جب کچھ لوگوں کو اپنی تحریریں دکھائیں تو انہوں نے کہا کہ یہ کافی بولڈ ہیں ان کو تبدیل کریں مگر نوین نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ تلخ سچائی کو ویسے ہی بیان کریں گی جیسے کہ وہ ہے۔۔۔
نوین کی اکثر کہانیاں آپ کو چونکاتی ہیں۔۔۔ ان میں "دستار فضیلت” اور "آگ "سر فہرست ہیں ۔۔۔
نوین کی کہانیاں تا دیر آپ کو اپنے حصار میں رکھتی ہیں۔۔۔ آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ آپ رو پڑتے ہیں۔۔۔ ایک درد آپ کے پورے وجود کو گھیر لیتا ہے مگر آپ اسے سراہے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔
وہ بہادر ہے اور باہمت بھی۔۔۔ نوین نے ابھی بہت آگے جانا ہے۔۔۔ اس کے پاس لکھنے کو اور بہت کچھ ہے یہ افسانوی مجموعہ محض آغاز ہے۔۔۔ گو اس پدر سری معاشرے میں ایک عورت کے لیے یہ سفر آسان نہیں مگر مجھے یقین ہے کہ نوین یونہی آگے بڑھتی جائے گی۔۔۔ کیونکہ اسے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی عادت نہیں۔۔۔




