غزل / صحرا سے پوچھتا ھے کوئی سوگوار پیڑ / منیر جعفری
غزل
صحرا سے پوچھتا ہے کوئی سوگوار پیڑ
کیا اب بھی ڈھونڈتے ہیں مجھے سبزہ زار ، پیڑ؟
مٹی میں اتنی تاب کہاں پیڑ بن سکے
دیوار سے نکال کوئی سایہ دار پیڑ
تہذیب اپنی آپ نمو کر رہی ہے آج
پیپل سے اُگ پڑے ہیں کھجوروں کے چار پیڑ
بڑھتے چلو کہ راہ نکل آئے خود بخود
اُگتے ہیں جیسے دوست سرِ کوہسار پیڑ
میں بھی زمیں کی نسل کشی میں شریک ہوں
کرتے نہیں تبھی تو مرا اعتبار پیڑ
پھولوں کی جستجو میں ہتھیلی ہے تار تار
دنیا ہو جیسے دشت میں اک خاردار پیڑ
بوئے ہیں میں نے بیج رویوں کی فصل کے
دیکھے گی اگلی نسل یہاں بے شمار پیڑ
اے وقت اے عظیم درختوں کی خودنوشت
فہرست میں ہے اب بھی کوئی شاندار پیڑ؟
اس نے چھوا تھا باغ میں بس ایک پیڑ کو
اب تک کھڑے ہوئے ہیں وہاں مشکبار پیڑ
گوتم نے اپنی ذات کے عرفان کے لئے
انسان کی بجائے کیا اختیار پیڑ
تاریخ انقلاب کی محتاج کب ہوئی
پتھر سے اُگ پڑے ہیں کئی شاہکار پیڑ
وحشت کی تیز دھوپ نے جھلسا کے رکھ دیا
یا رب کوئی فلک سے ہی مجھ پر اتار پیڑ
ہجرت کے وقت باپ نے مجھ سے کہا منیر
ساماں تو سب سمیٹ لیا اور یار پیڑ؟





Outstanding… کمال انداز ہے