نظم
جوان بوڑھا / ذکی عاطف
جوان بوڑھا
گزشتہ شب ایک خواب سی تھی
میں جاگتا تھا یا سو گیا تھا
خبر نہیں کس پہر مرے سچ کو سچ کی سوجھی
خبر نہیں کب مرے بدن سے وہ باہر آیا
پتہ نہیں میرے کس گنہ پر وہ اتنا دھاڑا
میں منمنایا
ذرا سنو تو،
مجھے سمے دو
یہ کچھ ہی دن ہیں
مگر اسے تو
ہوا ہوئے ان گئے دنوں کا ملال تھا جو
کہیں نہیں ہیں
وہ مجھ سے مایوس ہو چکا تھا
پلٹ کے بولا
تمہارے باقی کے
جتنے دن ہیں!
سبھی پہ تف ہے،
جوان بوڑھے!




