اُردو ادباُردو نثرکہانیکہانیاں

نقلی نوٹ ، اصلی انسان / خواجہ مظہر صدیقی

ایک غریب آدمی، جس کا نام اکرام تھا، شہر کے ایک چھوٹے سے کونے میں جوتے پالش کرتا تھا۔ وہ بچپن میں پولیو کا شکار ہو کر معذور ہو گیا تھا، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ کمسنی میں گھر بیٹھنے کے بجائے اس نے جوتے پالش کرنے اور مرمت کا ہنر سیکھ لیا۔ اس پیشے کو عام طور پر موچی کا کام کہا جاتا ہے۔ اکرام اپنے ہاتھوں کی کمائی سے اپنے چھوٹے سے گھر کا خرچ چلاتا تھا، جہاں اس کی بیوی اور بچے اس کے ساتھ رہتے تھے۔
ایک دن تین افراد اکرام کے پاس جوتے پالش کروانے آئے۔ انہوں نے جوتوں کی چمک دمک بحال کروائی اور اکرام کو ایک ہزار روپے کا نوٹ تھما دیا۔ اکرام نے باقی رقم واپس کی اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ شام کو، جب وہ اپنا ٹھیلا بند کر کے دودھ فروش کے پاس دودھ لینے گیا، تو اسے پتا چلا کہ وہ ہزار روپے کا نوٹ نقلی تھا۔ یہ خبر اکرام کے لیے بجلی بن کر گری۔ اس کا دل ٹوٹ گیا، اور وہ خاموشی سے، خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ اس دن اس کے بچوں کو رات کا کھانا بھی نصیب نہ ہوا۔
ادھر دودھ فروش، جس کا نام رمضان تھا، عشاء کی نماز کے لیے مسجد گیا۔ دورانِ نماز اس کے ذہن میں اچانک اکرام کا اداس چہرہ اور نقلی نوٹ کا واقعہ گھوم گیا۔ رمضان کا دل بے قرار ہو اٹھا۔ اس نے فرض نماز تو پوری کی، مگر بقیہ نوافل ادھورے چھوڑ کر مسجد سے نکل آیا۔ اس نے سوچا، "باقی نمازیں بعد میں پڑھ لوں گا، پہلے اکرام کا دکھ دور کرنا ضروری ہے۔”
رمضان اپنی دکان پر واپس آیا، اکرام کی روزمرہ کی عادت کے مطابق ایک کلو دودھ لیا، اور سیدھا اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔ جب وہ اکرام کے گھر پہنچا تو وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ گھر میں کہرام مچا تھا؛ بچوں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے، اور بھوک نے ان کی آنکھوں میں اداسی بھر دی تھی۔ رمضان نے بلند آواز میں اکرام کو پکارا۔ اکرام باہر آیا، اس کا چہرہ غم سے بوجھل تھا۔
رمضان نے نرمی سے کہا، "اکرام بھائی، یہ دودھ لے لو۔ اور وہ ہزار روپے کا نقلی نوٹ مجھے واپس کر دو۔” اکرام شرمندگی سے بولا، "رمضان بھائی، میری بدقسمتی کہ میں اصلی اور نقلی نوٹ کی پہچان نہ کر سکا۔” وہ اندر گیا، نقلی نوٹ لایا، اور رمضان کے حوالے کر دیا۔ رمضان نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے ایک نیا، اصلی ہزار روپے کا نوٹ نکالا اور اکرام کے ہاتھ میں تھما دیا۔
اکرام کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑے۔ وہ حیران تھا کہ رمضان نے اس کی ایمانداری اور مجبوری کو سمجھا اور اس کا نقصان پورا کیا۔ اس دن اکرام کے گھر میں نہ صرف دودھ آیا، بلکہ امید کی ایک نئی کرن بھی جاگ اٹھی۔ رمضان واپس لوٹ گیا، اور اس کے دل کو سکون ملا کہ اس نے ایک غریب کے گھر کی چولہا جلانے میں مدد کی۔

Author

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x