اُردو ادباُردو شاعرینظم

Extended Phenotype / اعجازالحق

Extended Phenotype

یہ جو دریا کے تہہ نشیں خوابوں میں
حیات کی لَو سلگ رہی ہے
یہ جو کہرآلود ویران صحراؤں میں
ریت کے ذرّے تپاں، مضطرب
حد ادراک سے ماورا سرگوشیوں میں
کسی بے صدا نوحہ گر کے ملبوس کی سلوٹوں میں
سرک رہے ہیں

یہ جو شب کی ہموار چادر میں
چاندنی کے خنک آنچل میں
کسی گم شدہ ساعت کا سایہ
لرزتے دریچوں کی راہ گزر میں
تازیانہ زن ہے

یہ سب میں ہوں!

یہ جو گُل رنگ خوابوں کی آتش زدہ رات میں
سرخ پتوں کی راکھ میں مدفون
خوشبو کی گم کردہ منزل ہے
یہ جو وقت کی دھندلی پیشانی پر
صدیوں کے کہنہ افسانے
زخمی ہجرت کی زنجیر میں
خود کو ڈھونڈتے ہیں

یہ سب میں ہوں!

میں وہ لرزاں لکیر ہوں
جو آبشاروں کے سینے پر
ازلی تحریر کی مانند
اپنے وجود کا حرف کھودتی ہے
میں وہ خاموش نوا ہوں
جو تتلی کے مخملیں پر میں
مہک کی صورت
کسی مہجور شاخ سے لپٹ کر
آہستہ آہستہ فنا ہو جاتی ہے

میں اپنی ہی ہستی سے نکل کر
مٹی میں، ہوا میں، سراب میں، خواب میں
اپنی عدمیت کے نقش چھوڑ آیا ہوں
ہر لمحہ، ہر سایہ، ہر صدا
میرے خلیوں کی لامتناہی توسیع ہے
میرے مظہر کی بعید گونج ہے

تو کیوں نہ میں خود کو
کسی کہر آلود شب کی دھڑکن میں
ہمیشہ کے لیے دفن کر دوں؟
یا کسی کہنہ شجر کی جڑ میں
دھرتی کے سینے میں پیوست ہو جاؤں؟

مگر نہیں
میری رگوں میں بہتا یہ ازلی نوحہ
میرے بدن سے نکل کر
چٹان، ذرہ، روشنی، صدا
ہر چیز میں
ابدیت کی صورت زندہ رہے گا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x