اُردو نثر

ایک روحانی ضابطہ / احمد تراث

ایک روحانی ضابطہ

 

میں ایک صوفی ہوں

اندر باہر سے

دل و دماغ سے

گفتگو سے 

شناختی کارڈ سے 

لفظ و معنی 

وغیرہ وغیرہ ہر لحاظ سے  

میرے وضع کردہ ضابطے 

رفتہ رفتہ سامنے آتے رہیں گے 

تا کہ خلق خدا کو فائدہ ہو 

فی الوقت صرف ایک ضابطہ گرہ سے باندھ لیجیے 

کہ میری روحانی و وجدانی صحبت پانے 

کے لیے

چند شرائط ہیں 

مثلا 

فیکٹری مالک

وسیع و عریض زرعی رقبے کی ملکیت 

اعلی سرکاری دفاتر کی کرسیوں میں سے سب سے اونچی کرسی

ملک و بیرون ملک پھیلا ہوا کاروبار 

اگر کسی شخص میں 

اِن بنیادی انسانی اوصاف کی کمی ہے

 تو ایسا آدمی علمی و روحانی مدارج طے کرنے کا خواب چھوڑ دے 

کم از کم میری کٹیا کا رخ کرنے کا تو خیال بھی 

دل میں نہ لائے 

کہ میں ایسے ننگِ انسانیت کو

صوفی ازم اور روحانیت کے مدارج کے لائق سمجھنا 

یا ایسی باتوں کو سننے کے قابل جاننا 

شیطانی وسوسہ قرار دیتا ہوں 

ْفَافْھَمْ وَ تَدَبَّر

(سمجھ لیجیے اور غور کیجیے)

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

3 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

2 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
Rana Sarfraz
Rana Sarfraz
4 months ago

بہت اچھے انداز میں آپ نے جعلی روحانیت پر طنز کی ہے۔ طنز تو بطور ادبی اصطلاح کہہ رہا ہوں درحقیقت تو آپ نے اکثریت کے خیالات کی ترجمانی ہے۔ آج کل اکٹریت مذہبی و روحانی راہنما دراصل دنیا کے پیچھے ہی دوڑ رہے ہیں۔ اللّٰہ ہم سب کو اپنا اصل اور سچا رستہ دکھاۓ آمین!

احمد تراث
احمد تراث
Reply to  Rana Sarfraz
4 months ago

آمین ثم آمین ۔ بہت بہت شکریہ

Related Articles

Back to top button
2
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x