
نہ جانے محترم عامر انور صاحب کے ذہن میں اس کتاب کا عنوان ” ع سے مرد” کیونکر وارد ہوا یا کس کی صلاح پر انھوں نے کتاب کو اس نام سے موسوم کیا۔ وجہ جو بھی رہی ہو عنوان عام ڈگر سے ہٹ کر ہے اور اپنے اندر بہرحال ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ ایک دفعہ اس عنوان پر نظر ڈالنے والا پلٹ کر دیکھتا ضرور ہے۔

اکثریت اسی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتاب کی ورق گردانی کرنے لگتی ہے یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب قارئین کی ایک بڑی تعداد بالاخر اس کتاب کو پڑھنے کا فیصلہ کر لیتی ہے اور جو کتاب کے سرسری جائزہ کے بعد بھی تذبذب کا شکار ہوتے ہیں وہ اس کو اپنی مستقبل میں پڑھی جانے والی کتابوں کی فہرست میں ضرور شامل کر لیتے ہیں۔ یہ وہ قارئین ہیں جن کو محترم عامر انور کی کوئی تحریر پڑھنے کاکبھی اتفاق نہیں ہوا۔جو احباب ان کی تحاریر کی چاشنی سے آشنا ہیں وہ اُن کی کتاب کے منصہ شہود پر آنے کے منتظر تھے لہذااُن کی جانب سے اس پہلی تصنیف کی بھرپور پذیرائی کی جارہی ہے۔
لیجیے مصنف نے اپنے افسانوں کی بساط بچھا دی جو شطرنج کی ہرگز نہیں ہے جس کے لیے کھیلنے والوں کو ایک خاص طرح کی مہارت، بہت زیادہ فرصت اور زیرکی درکار ہو۔ یہ تو گھر گھر باسہولت کھیلی جانے والی لوڈو ہے جس میں ہنسی مذاق، کچھ شرارت اور معصومانہ ہلا گلہ بھی کھیل ہی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ” لوڈو” ہی اس مجوعہ کاابتدائی افسانہ ہے جس نے ہالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم جمان جی کی یاد تازہ کردی جہاں ایک جادوئی بساط ہر بار پانسہ پھینکنے پر کرداروں کو طرح طرح کے پرخطر حالات و واقعات سے دوچار کر دیتی ہے اور فلم بین دم سادھے دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افسانوں کی اس بساط پر بھی قاری کو ہر صفحہ پر ایک نئے مرحلے کا سامنا ہے اور وہ ان حالات و واقعات کے بہاو میں بہتا ہی چلا جاتا ہے۔
لوڈو کے رنگین خانے گھر کی مختصر کائنات کو سمیٹے ہوئے ہیں جس کے باسی قسمت کے پانسوں کے رحم و کرم پر اپنے حصے کی خوشیوں سے دامن بھرنے کی تگ و دو میں مصروفِ کار دکھائی دیتے ہیں۔ اس بازی میں زور آور ہی کا سکہ چلتا ہے اور باقی اس کے دستِ نگر بن کر رہ جاتے ہیں۔ پانسے ہی یہ طے کرتے ہیں کہ کس کو کتنی زک پہنچی ہے اور کون بازی لے جا رہا ہے مگر کھیل کے اختتام تک یہ آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ بہو نے پہلے تو روایتی انداز میں اپنا رہن سہن علیحدہ کیا پھر ساس سسر کے لوڈو کے معصومانہ کھیل پربھی آمرانہ اندازمیں قدغن لگا دی۔ اُس کو اپنی زیادتی کا احساس بھی اپنی ذاتی تکلیف کے باعث ہواجو دراصل ضمیر کے کچوکے تھے مگر اس وقت تک ساس صاحبہ رحلت فرما چکی تھیں گو اُس نے ازالہ کرنے کی کوشش کی مگر جو نقصان ہونا تھا اس کی تلافی کیسے کی جا سکتی ہے! اب یہ گھر کے بڑوں کا بڑا پن ہے کہ وہ خود خسارہ برداشت کرلیتے ہیں مگر بچوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کے باوجود ان سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ بہت شاندار انداز میں ” ع سے مرد ” کا آغاز ہوا اور پہلے ہی افسانے نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
مجموعہ میں شامل افسانے اس صنف کی مروجہ تعریفوں پرکما حقہ پورا اترتے ہیں اوران میں افسانہ کے تمام اجزائے ترکیبی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ تبصرہ کی طوالت کے خدشہ کے پیشِ نظر صرف دو مرکزی اجزا پر ان افسانوں کے تناظر میں مختصر تجزیہ پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ عموماً افسانہ طویل نہیں ہوتا لہذا اُس میں صراحت کے ساتھ منظر نگاری کو شامل نہیں کیا جاتا۔اِن افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ منظر نگاری کو افسانے کے پیرائے میں جاندار اور انتہائی موثر انداز میں شامل کیا گیا ہے مثال کے طور پر افسانہ "پلیٹ فارم” کے قاری جاگتی آنکھوں سے ایک پوری ہمکتی ہوئی دنیا اپنی تمام تر گہماگہمی سے جلوہ گر دیکھتے ہیں، سیٹی بجاتی ریل کی دور سے قریب آتی چھک چھک کانوں میں گونجتی ہے، بھاری بھرکم پہیوں کی دھمک وجود پر حقیقی معنوں میں اثر انداز ہوتی ہے۔ اِدھر اُدھر تیز قدموں سے چلتے، اپنے مطلوبہ ڈبے کی تلاش میں سرگرداں، بچوں کی انگلیاں تھامے، خواتین کو ساتھ لیے سامان گھسیٹتے لوگ سامنے دکھائی دیتے ہیں، ریل کے انتظار میں بینچوں پر براجمان، پلیٹ فارم پر ڈیرے ڈالے اور سامان کے گرد حلقہ بنائے مسافرجبکہ انتظار کی کلفت سے کوسوں دور سامان کے ڈھیر پر سے اچھلتے پھلانگتے بچے آنکھوں کے سامنے گھومتے ہیں۔ لاوڈ سپیکر سے وقفے وقفے سے نشر ہونے والی وہی مخصوص باریک آواز جو تمام شور سے بے نیاز کسی ٹرین کی آمد کا اعلان کرتی ہے جسے شور شرابے میں معدودے مسافر ہی کان لگا کر سننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں قاری کے کان کے پردے پر ارتعاش پیدا کرتی ہے حتی کہ عبدالحمید چائے والے کے سٹال پر پانی ابلنے کی شوں شوں سماعت تک پہنچتی ہے اور بھاپ اڑاتی پتی کی مخصوص مہک بھی قاری کے نتھنوں کے راستے دماغ میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔یہ منظر کشی کسی طور بھی معروف مصنف محمد حنیف کے مشہور زمانہ ناول ” اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز” میں بیان کردہ اُس منظر سے کم نہیں ہے جس میں مصنف نے وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے ٹریفک میں پھنسے عام افراد کی حالت زار بیان کی ہے اور متعدد افراد کی کیفیت تفصیلاً بتائی ہے مگریہاں مصنف کو یہ استثنی حاصل تھا کہ وہ ایک ناول میں بیان کردہ مناظر ہیں جن کی طوالت سے کوئی بحث نہیں کی جا سکتی۔اس کے برعکس عامر انور کا کمال یہ ہے کہ اُسی درجہ کی دل نشین منظر نگاری انہوں نے افسانہ میں پیش کی۔
لطف کی بات یہ ہے کہ اس افسانہ میں پہلو بہ پہلو وہ منظر نگاری بھی چلتی ہے جو اپنوں سے ملنے بچھڑنے کے ان لمحات میں کرداروں کے دوغلے رویوں اور منافقت میں لتھڑے چہروں کو بے نقاب کرتی ہے۔قاری اس باطنی منظر نامے میں ایک دوسرے کے اردگرد منڈلاتے انسان نما گِدھوں کو دیکھتے ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ کب کسی کی آنکھیں بند ہوں کہ ان کو نوچ کھایا جائے۔یہ افسانہ رشتوں میں چھپے چیرپھاڑ کے درپے بھیڑیوں کے غول کے ذہنی پلے گراونڈ کو بھی آشکار کرتا ہے۔پلیٹ فارم پر چلتے پھرتے دیگر کرداروں کی خود غرضی اور لالچ کے ساتھ ساتھ اس تمام افراتفری میں ایک غریب چائے والے کو جعلی نوٹ تھام کر رفوچکر ہونے والا بھی ایسے ہی درندوں کا نمائندہ ہے جو اپنے لحماتی فائدے کے لیے ایک نادار کے خون پسینے کی کمائی پر دانت نکوستے ہوئے جھپٹتا ہے۔ ان صفات کے باعث یہ افسانے بصری آگہی اور بابصیرت شعور پر مبنی مشاہدے سے مالامال ہیں۔
ان افسانوں کا دوسرا نمایاں پہلو کردار نگاری کی اعلی درجہ کی صلاحیت ہے۔ ان کرداروں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ گمان ہوتا ہے کہ بھانت بھانت کے یہ کردار مصنف کے در پر عقیدتاً خود حاضر ہو کر اپنا آپ من و عن منکشف کرتے رہے ہیں جس کے سبب ان کے گرد افسانہ کا تانابانا بننے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوتی۔ چشم تصور میں یہ بات بھی آئی کہ مصنف کسی دور میں ایک زیرک سراغ رساں رہے ہوں گے جنھوں نے ایک ایک کردار کی پیشہ ورانہ جاسوسی کے بعد اُس کے معمولات روزنامچہ میں قلم بند کر کے اس افسانوی مجموعہ میں با سہولت یکجا کر دیئے ہوں گے لیکن اتنا تفصیلی عمل تو عمر بھر کی ریاضت کا متقاضی ہے لہذا مصنف کا کرداروں کے معاملے میں اس درجہ کی خود کفالت کا ایک ہی راز ہے کہ اُن کی دسترس میں ایک جادوئی و طلسماتی قلم ہے جو اُن کے لیے طرح طرح کے جاندار کردار اتنی آسانی سے سامنے حاضر کر دیتا ہے جتنی سہولت سے ہم سانس لینے پر قادر ہیں۔ ہر کردار دوسریے سے معکوس، یکسانیت سے بہت دوراور افسانے کی انگوٹھی میں نگینے کی طرح فِٹ بیٹھتا ہے۔ مثلاً "بھاگتا جا” افسانہ اپنے متنوع کرداروں کی مختلف کہانیاں اپنے اندر سموئے اسم با مسمی بھگٹٹ دوڑتا چلا جاتا ہے۔ انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام کرداروں کی جسمانی بھاگ دوڑ میں قاری بلاتھکان اپنے ذہن کو دوڑاتا چلا جاتا ہے۔ کرداروں کی اس جسمانی اور قاری کی ذہنی میراتھن کے باوجود کسی کُل کا کوئی جز بھی پیچھے نہیں رہ پاتا۔ہندوستان کے ایک مشہور گانے کے بول "آدمی ٹھیک سے دیکھ پاتا نہیں اور پردے پہ منظر بدل جاتا ہے” کے برعکس تمام کرداروں کا کمال چابکدستی سے تعارف کرایا گیا کہ اختصار اور تیز ٹیمپو کے باوجود پس منظراور پیش منظر سے متعلق کوئی ابہام نہیں رہتا۔ افسانے کی پنچ لائن "۔۔۔اور زندگی گزارتے لوگ روح اور جسم کے رشتے کو قائم رکھنے کے لیے بھاگتے چلے جارہے تھے۔۔۔” دور جدید کے لاحاصل ثمرات کے لیے تگ و دو کی بہترین عکاس ہے۔ عامر انور نے ایک کیمیاگر کی مانند اپنے کرداروں کو عملِ تقطیر سے نتھار کر دنیا کے سامنے کشیدکر دیا۔
لوڈو افسانہ میں گھر کے تمام مکین، "پلیٹ فارم” میں زمانے کی چلتر بازیوں کے آگے بے بس عبدالحمید، "پنچھی” کا عزت نفس پر چوٹ کھائے آریان، "تقدیر” کی ایثار و وفا کی پتلی، "سعید جھلا” میں عقل و خرد سے بیگانہ لیکن اعلی اخلاقی اوصاف سے متصف مجذوب، "ناصر عرف منا” کا سست الوجود منا، "ڈیٹیکٹو” میں مغرب کے پروردہ فرینکلین اور مارٹینا کی جذباتی کشمکش، "جسم اور روح” میں اجیت کا احساس ندامت اور دیگر تمام افسانوں کے جیتے جاگتے کرداروں کی ذہنی الجھینیں قاری کے سامنے رکھ کر نفسیاتی گرہیں اُسی انداز میں کھولی گئی ہیں جو ڈی ایچ لارنس جیسے بین الاقوامی مصنفین کا خاصہ ہے ۔افسانہ "تقدیر” کی ہیروئن اور ” ادھوری خواہشیں "کا چاچا رفیق انسان کے قسمت کے ہاتھوں کھیلنے والی ایک کٹھ پتلی ہونے کے اُس فلسفہ کی عملی تفسیر ہے جس کے پیروکاریونانی تمثیل نگار سفوکلیس اوربرطانوی ناول نگار تھامس ہارڈ ی جیسے عظیم المیہ نگار ہیں۔کتاب کے عنوان اور "تقدیر” جیسے افسانوں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے صرف خواتین پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائی گئی ہے لیکن "پنچھی”، "یاریاں ” اور "ڈائن ” مرد کی مظلومیت سے بھرپور ہیں۔جس بنا پر مرد اور عورت کی حسابی مساوات بالکل درست توازن میں ہے۔ "جوگی کا روگ” اور "میں کون ہوں؟” مذہبی رنگ لیے ہوئے ہیں جبکہ "بحران” سیاسی بلوغت کا آئینہ دار ہے۔ "دستک” اور ” آخری تحفہ ” بالترتیب گلیمر کی چکا چوند کے پس پردہ تلخ حقیقت اور موسیقی کے سُروں سے لیس فنکار کی اس کی زندگی میں ناقدری کانوحہ ہے۔”میں ہوں انجم” قاری کو شناخت کے جاں گسل مراحل سے گزارتا ہے، "مقدمہ” میں کڑی خود احتسابی کے بعد مصنف خود کو ضمیر کی عدالت کے سامنے پیش کرتا ہے جو کہ ذاتی محاسبہ کی ایک اعلی ترین مثال ہے غرضیکہ ایک طویل فہرست ہے اور افسانوں کی بوقلمونی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ گویا ایک جولاہے کا مشاقی سے بنا ہوا کپڑا ہے جو کھڈی پر یوں تنا ہے کہ کوئی روزن، رخنہ دکھائی نہیں دیتا، کوئی تاگا تک فالتو نہیں ہے اُس پر مستزاد بے حد نپا تلا طول و عرض۔ بقول گلزار:
"ایک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی
دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی”
” ع سے مرد ” کو اپنی شریک حیات سے منسوب کرتے ہوئے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ "۔۔۔مجھے مسلسل لکھنے پر انہوں نے ہی آمادہ کیا ورنہ ممکن تھا کہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں عامر انور کے اندر نمو پاتا افسانہ نگار کہیں دب کر اپنا وجود کھو بیٹھتا”۔ اب جبکہ یہ بیج نمو پا کر ایک قدآور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے، میں دعا گو ہوں کہ اس کی ٹھنڈی اور گھنی چھاوں کا دائرہ روز افزوں ہوتا رہے تاکہ ادب کے صحرا نورد اپنے ذوق کی تسکین اور شوق کی آسودگی سے ہم کنار ہوتے رہیں۔





نہایت مفصل اور جامع تبصرہ ۔
الفاظ کا چناؤ اور افسانے کی مختلف جہتوں پر مختصر مگر جامعیت لیے ہوئے تبصرے ۔۔
سلامت رہیں