گاؤں کی شام / احمد علی شاه مشالؔ
گاؤں کی شام
گاؤں کی شام…
اک زلفِ شب کی طرح
آہستہ آہستہ کھلتی ہے،
ندی کے کنارے
جہاں پانی اپنی لَے میں
میرے دل کو جھولا دیتا ہے،
اور ہر پتھر کی صدا
محبت کے ساز پر
نیا راگ چھیڑ دیتی ہے۔
کھیتوں سے پلٹتے کسان…
پسینے اور امید کی خوشبو میں لپٹے،
گویا دن کی تھکن کو
خاموشی کے حوالے کر رہے ہوں۔
مویشیوں کی گھنٹیاں…
کسی عاشق کی دھڑکن کی طرح بجتی ہیں،
اور لمحہ لمحہ مجھے یاد دلاتی ہیں
کہ زندگی بھی ایک رقص ہے
جسے محبوبہ کے پازیب کی چھنکار
اور حسین تر بنا دیتی ہے۔
بچے…
ڈھلتی روشنی کے تعاقب میں دوڑتے ہیں،
جیسے روشنی کوئی نازنین ہو،
جس کے آنچل کو چھونے کی خواہش
دلوں کے خواب جگاتی ہے۔
گاؤں کی فضا…
دعا کی طرح پھیلتی ہے،
زمین اور آسمان کے بیچ
ایک گمشدہ راز کی طرح۔
اور میں…
اس منظر کے حصار میں
یوں محسوس کرتا ہوں،
جیسے شام
فطرت کے لبوں سے نکلا ہوا
محبت کا ایک بوسہ ہے،
جو خاموشی سے
میرے ہونٹوں پر رکھ دیا گیا ہو




