غزل
غزل /ہمارے شہر میں اب پھول دستیاب نہیں /ڈاکٹر جنید آذر

غزل
ڈاکٹر جنید آذر
چراغ بجھنے کا اب دل میں اضطراب نہیں
مگر وہ دکھ ہے کہ اس دکھ کا بھی حساب نہیں
بھری ہوئی ہیں صداؤں میں تلخیاں سب نے
ہمارے شہر میں اب پھول دستیاب نہیں
گیا وہ دل سے تو میرے جہان سے بھی گیا
سو اب شعور میں نقشِ خیال و خواب نہیں
یہ کس مقام پہ دل لے کے آ گیا کہ جہاں
وفا ثواب نہیں ہے جفا عذاب نہیں
وہ دن بھی تھے کہ تری جستجو میں زندہ تھے
یہ دن بھی آئے کہ تو میرا انتخاب نہیں
نہ انتقام، نہ شکوہ، نہ کوئی تلخی ہے
عجیب صبر ہے، جس کا کوئی جواب نہیں
اب اعتبار کی باتیں بھی خواب لگتی ہیں
کوئی سوال نہیں، اب کوئی جواب نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔




