چُپ گلی میں سسکیوں کی بازگشت / عادل وِرد
چُپ گلی میں سسکیوں کی بازگشت
سفید اور سرخ ساڑھیوں میں لپٹی لڑکیو!
سن لو
مقدس راتوں کی تاریخوں میں
ملاوٹ کر دی گئی ہے
تمہاری مومی دعائیں،
پہلے اسمان سے ہی واپس پلٹا دی گئی ہیں
تمہیں مسافروں، سپاہیوں اور شاعروں سے محبت کا مشورہ
ضرور کسی پاگل نے دیا ہوگا
بانجھ برگد پہ رنگین دھاگے
وقت کی بارشوں سے بے رنگ ہو جائیں گے
اپنی ہتھیلیوں سے
کتھئی سورج کھرچ ڈالو
جو روز تمہیں شام ڈھل جانے کا دھوکہ دیتا ہے
اس اندھے انتظار میں محبت کی شمعیں
کب تک روشن کرتی رہو گی
اٹھو، وقت کی کترن سے
خوشی کی پوٹلیاں سی لو
زندگی کی پگڈنڈی کی دو اطراف
جو سرسبز کھیت نظر اتے ہیں
( تمہاری قسم)
سراب نہیں ہیں
اس سے پہلے
کہ محبت کرنا بھی،
نئے قانون کی زد میں اجائے
اپنے گھر بساؤ
دستیاب کو عادت بناؤ
ہنستے ہوئے رونے کی بھڑاس نکالو
خوابوں سے لذت کی بھیک لو
اور بچوں کو محبت کی کہانیاں سنانے سے گریز کرو




