اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / کسی کے قدموں کو سجدے کی جا نہیں مانا / راجیش ریڈّی
غزل
کسی کے قدموں کو سجدے کی جا نہیں مانا
سوا خدا کے کسی کو خدا نہیں مانا
پرانا یار ہے سو آئینےکی باتوں کا
برا لگا بھی تو ہم نے برا نہیں مانا
سفر میں ہم نے بنائے ہیں نقش پا اپنے
سفر میں ہم نے کوئی نقش پا نہیں مانا
وہ ہر مریض طبیبوں کے کام آیا ہے
کہ جس نے درد کو اپنے دوا نہیں مانا
ہمیں تو اپنی ہی ٹھوکر سے سیکھنا تھا سبق
سنا سنایا کوئی تجربہ نہیں مانا




