اُردو ادبافسانہ

کمزور عقیدہ / امبر جاذب

دوپہر کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے دھرتی کو مستفید کر رہا تھا۔ محلے کی تمام گلیاں ویران پڑی تھیں۔ وہ بغل میں بڑا سا تھیلا چھپائے تیز تیز چل رہی تھی۔ اس نے آخری موڑ مڑتے ہوئے پیچھا دیکھا اور مین روڈ پہ آ گئی۔ ہاتھ کے اشارے سے رکشہ روکا اور رکشہ میں بیٹھ کر چادر کے پلو سے پسینہ پونجا اور پرسکون ہو کر بیٹھ گئی تھی۔

"تم کسی بڑے ہسپتال سے چیک اپ کروا لو۔”
عزرا نے ثمینہ کو مشورہ دیا جب بھی وہ پیروں فقیروں کا ذکر کرتی تھی تو عزرا اسے معائنہ کا ہی مشورہ دیتی تھی۔
” چیک اپ سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ڈاکٹر بس اپنی جیب بھرتے ہیں۔ تمہیں پتہ ہے کل اپنی شبو بھی گئی تھی، کہہ رہی تھی مزار گھڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں بھی گھڑیاں بابا کی دربار پہ جاؤں گی۔”
"دیکھو ثمینہ یہ مزاروں درباروں پہ جا کر مَنتیں، مرادیں کمزور عقیدے والے مانگتے ہیں۔ مگر ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا تم کیوں شرک کر کے اپنی آخرت خراب کرنے پہ تلی ہو۔”
"کہتی تو تم ٹھیک ہے۔ چلو اب گھر چلتے ہیں کافی دیر ہو گئی ہے۔”
وہ دل ہی دل میں منصوبہ بناتی عزرا کی ہاں میں ہوں ملا گئی۔

اس نے بڑی عقیدت سے دیوار پہ تینوں گھڑیاں ٹانگ کر مَنت مانگی تھی۔کچھ دیر بعد وہ الٹے پیر واپس جانے لگی کہ کسی عورت سے ٹکڑا گئی۔ ان دونوں کا تصادم ہونے سے اس عورت کی گھڑیاں گر کر ٹوٹ چکی تھی اور وہ عورت اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ عورت کچھ کہتی ثمینہ بول پڑی
"معاف کرنا بہن میں نے دیکھا نہیں۔”
"عزرا توں۔۔۔۔۔”

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x