اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / ترے جیسا مجھ کو بنا دیا ترے عشق نے / ناہید ورک

غزل

 

ترے جیسا مجھ کو بنا دیا ترے عشق نے

‎مجھے خود سے یعنی مِلا دیا ترے عشق نے

 

تجھے پا کے تو مرا رنگ روپ نکھر گیا

‎مجھے کیا حسِین بنا دیا ترے عشق نے

 

‎مرے سامنے یہ تو میں نہیں، کوئی اور ہے

‎مجھے آئنہ بھی نیا دیا ترے عشق نے

 

‎تُو مِلا تو روح بھی میری وجد میں آ گئی

‎مجھے رقص کرنا سکھا دیا ترے عشق نے

 

‎تری قُربتیں کسی معجزے سے تو کم نہیں

مرے رب سے مجھ کو ملا دیا ترے عشق نے

 

مری روح کا تری روح سے ہے مکالمہ

مجھے زندگی کا پتا دیا ترے عشق نے

 

مرے سامنے کوئی طُور ہے ترے ہجر کا

مجھے ایڑھیوں پہ گُھما دیا ترے عشق نے

 

‎میں پری تھی، سات سوالوں کی مری شرط تھی

‎مجھے سارا کچھ ہی بُھلا دیا ترے عشق نے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x