جیکسن / رابعہ سلیم مرزا

ٹھنڈی اور پرسکون رات دھیرے دھیرے سمندر پر پھیل رہی تھی۔ چاندنی لہروں پر ِتھرکتی تو نیلے آسمان پر نرم بادل خواب کی چادر جیسے لگتے۔۔۔ سمندر کی سب سے محفوظ اور بلند چٹان پر، ایک مضبوط مگر نرم سا گھونسلہ بنایا گیا تھا ۔۔ نہایت محبت اور محنت سے۔۔۔۔
یہ گھونسلہ بنایا تھا پاپا ڈونلڈ نے۔۔ایک خوبصورت، سفید اور خاکی پر والا نر کبوتر، جس کے دل میں اب صرف ایک ہی خواہش تھی۔۔ ایک محفوظ، گرم اور محبت بھرا گھر۔۔۔
ماما مرینا، نرم سرمئی پر والی، مہربان اور پُرسکون مادہ کبوتر، اس گھونسلے میں اپنے انڈوں کے آنے سے پہلے پہلے مکمل آرام چاہتی تھیں۔۔۔ وہ ماں بننے والی تھیں۔۔ ان کا پہلا بچہ اس دنیا میں آنے والا تھا۔ اور یہ پہلا بچہ ہی ان دونوں کے لیے نیا سفر تھا۔۔ ماں باپ بننے کا سفر۔۔۔
دن بھر وہ دونوں مل کر گھر سجاتے، چھوٹے خشک تنکے، نرم پتّے، پھولوں کی پنکھڑیاں اور کبھی کبھی خرگوش، لومڑی جیسے جانوروں کے جسم سے گرے نرم روئیں لا کر اس گھر کو مکمل بناتے۔
پاپا ڈونلڈ نے چٹان پہ بنے اس گھونسلے کے ہر کونے کو دیکھا تھا کہ کہیں سے پانی، ٹھنڈی ہوا یا کوئی دشمن نہ آ سکے۔ ہر درز میں اُنہوں نے جنگلی، خوشبو دار پھول چُنے تھے تاکہ گھونسلہ نہ صرف مہکا رہے بلکہ کیڑے بھی دور رہیں۔
رات کے کھانے کے بعد جب سب کام مکمل ہو چکے تھے، ماما مرینا اپنے نرم بستر پر لیٹ گئیں۔ پر سمیٹے، آنکھیں بند کیں۔ لیکن اچانک، انہیں بھوک سی محسوس ہونے لگی۔۔۔
اور یہ ان دنوں عام سی بات تھی۔۔
وہ "اجر والی بھوک”، جو صرف محبت سے مٹتی ہے
یعنی کوئی پرندہ، جانور یا انسان جس نے دوسروں کے لیے کچھ کیا ہو، اب خود کسی جذبے، خیال، یا لمس کے اجر کی بھوک میں ہو۔
انہوں نے دھیرے سے پاپا ڈونلڈ کو دیکھا جو اب سونے ہی والے تھے۔ مسٹر ڈونلڈ نے آنکھیں کھولیں،
چونچ اٹھائی، اور اپنے گلے کی ..
"تھیلی”crop سے آہستہ سے غرغرا کرتے ہوئے۔۔کچھ لیکویڈ خوراک crop milk ۔۔۔
باہر نکالی۔ ایک سفید سی گرم، گاڑھی خوراک، جو انہوں نے دن میں خود دانی دُنکا کھا کر اپنے جسم میں تیار کی تھی۔۔۔۔
انہوں نے اپنی چونچ سے وہ خوراک ماما مرینا کی چونچ میں ٹپکائی۔
یہ "اجر” کا عمل تھا۔
نہ کوئی لفظ، نہ کوئی وعدہ۔۔۔۔
بس ایک خاموش مگر مکمل اظہار محبت۔۔۔۔
خوراک نہیں، یقین تھا وہ۔۔۔۔
ماما مرینا نے وہ خوراک شکر گزاری سے لی، اور دل سے سوچا
"جب ہمارا بچہ آئے گا، ہم اسے یہی سکھائیں گے ۔۔ کہ محبت صرف بولی۔۔نہیں جاتی، نبھائی جاتی ہے۔”
پاپا ڈونلڈ نے سونے سے پہلے پھر ایک بار گھونسلے کی چاروں سمتوں کو چیک کیا، وہ جانتے تھے کہ ان کی بیوی مرینا اور آنے والے بچے کو پوری حفاظت چاہیے۔ ہوا کی رفتار، رات کی خنکی، اور چٹان کی اونچائی تک ۔۔۔سب کچھ ان کی ذمہ داری تھی۔
اور پھر، خاموش رات میں وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہو کر سو گئے۔
چاند چٹان پر جھک آیا، ستارے بالکل خاموش تھے۔
گھونسلے کے اندر صرف محبت سانسیں لے رہی تھی۔۔ ایک ماں، ایک باپ اور آنے والی زندگی کا خواب۔
پاپا نے ماما کے پروں کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے دھیرے سے کہا،
"اگر بیٹا ہوا، تو میں اسے جیکسن کہوں گا… اونچی اڑان، تیز نگاہ، میرے جیسا بہادر!”
ماما نے مسکرا کر چونچ سے پاپا کی گردن کو چھوا،
"اور اگر بیٹی ہوئی…؟”
"تو مارلین، تم جیسی مہربان، صبر والی، خوابوں میں لپٹی ہوئی…”
دونوں نے ایک لمحے کے لیے انڈے کی طرف دیکھا۔ چمکدار سفید خول پر ہلکی سی لکیریں ابھر آئی تھیں۔
موسم بدل رہا تھا، ہوا کچھ ٹھنڈی ہورہی تھی، اور مٹی میں گیلے تنکوں کی مہک تھی۔ مگر گھونسلے کے اندر وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ انڈے کی سطح پر ننھی ننھی سی دراڑیں ۔۔اب گہری ہو رہی تھی۔ ماما نے سانس روک کے دیکھا،
"یہ لمحہ وہی ہے نا، جس کے لیے ہم نے اتنے دن بیٹھ کر پہرہ دیا…؟”
پاپا کی آواز بھرا گئی،
"ہاں… یہی تو وہ لمحہ ہے، جب ہمارے خواب پہلی بار ہمیں آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں۔”
درمیان کی خاموشی میں صرف انڈے کے ٹوٹنے کی خوبصورت آواز تھی… جیسے کسی کی پہلی دعا پوری ہو رہی ہو۔۔۔۔
ماما مرینا۔۔کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی تھی، اور پاپا ڈونلڈ بار بار گھونسلے کے اندر گول گول، چک پیریاں لیتے، کبھی دُم پھیلائے، سر ہلاتے غُٹر غوں ۔۔غُٹر غوں کرنے لگتے۔
ہلکی ہلکی سی آواز جب انڈے کے چٹخنے سے آئی، تو دونوں نے سانس روک لی۔ ماما نے پَر تھوڑے سے ہٹائے، اور پہلی بار وہ ننھا سا، گیلا، لرزتا ہوا وجود باہر آیا۔۔۔۔
"وہ آ گیا!” پاپا کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
"یہ جیکسن ہے؟” ماما نے دھیرے سے سر جھکایا۔
"یا مارلین…” پاپا نے ہنستے ہوئے گردن جھکائی، "لیکن ہمارے لیے یہ زندگی ہے۔”
جیسے ہی بچہ باہر آیا، ماما نے نرمی سے اپنے پروں میں لے لیا، اسے اپنےجسم کے گرم حصار میں لپیٹا۔ پاپا فخریہ انداز میں ماما مرینا کے آس پاس چکر کاٹنے لگے، اور تھوڑی دیر بعد دانہ لے کر آ گئے۔۔۔
پہلے تین دن، بچہ صرف والدین کے crop milk..” پر پرورش پاتا ہے۔ یہ ایک گاڑھا، دودھیا مادہ ہوتا ہے جو ماما اور پاپا دونوں اپنے گلے سے پیدا کرتے ہیں، اور اسے چونچ سے بچے کی چونچ میں ڈال کر کھلاتے ہیں۔
"بس دھیرے دھیرے… تم مضبوط ہو جاؤ گے میرے بچے،” ماما سرگوشی کرتی۔۔۔
"اور پھر ہم تمہیں دنیا دکھائیں گے، آسمان کی وسعت، ہوا کی مستی، اور دانے کی خوشبو…” پاپا ڈونلڈ دور افق کی طرف دیکھتے۔
بچے کی ننھی سی چونچ جیسے ماما کی چونچ سے جُڑ جاتی، اور وہ پورے یقین سے اپنی پہلی غذا پیتا۔ یہ لمس، یہ غذا، یہ تحفظ… اس کے لیئےدنیا کا ۔۔سب سے پہلا تحفہ تھا۔
ماما پاپا دونوں، باری باری پَروں میں سمیٹ کر، گرمی دیتے، سہلاتے، اور ہر تھرتھراتی سانس پر نظر رکھتے۔ یہ صرف ایک بچہ نہیں تھا، یہ دونوں کا خواب تھا۔۔
وہ دن بہت خاص تھا، مگر جیسے اکثر خاص دنوں کے ساتھ ہوتا ہے، کچھ تلخی بھی چھپی ہوئی تھی۔
صبح کی ہلکی ہلکی روشنی گھونسلے میں چھن چھن کر آ رہی تھی۔ ماما مرینا اپنے پَروں سے جیکسن کو سنوار رہی تھیں۔ پاپا ڈونلڈ۔۔ اپنے لمبے پنجوں میں دانے تھامے، محبت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
اچانک۔۔
غوں۔۔۔۔غوں۔۔غٹر۔۔ر۔ر۔۔
ایک کرخت، کچی، بھدی سی آواز فضا میں گونجی۔
مرینا اور ٹرمپ چونک کر سیدھے ہو بیٹھے۔
مرینا نے نرمی سے پوچھا،
"میرے بچے… یہ تم نے… کچھ کہا؟”
جیکسن نے گردن تانی، آنکھیں سکیڑیں اور زور سے بولا،
"ہاں! آخر بول ہی پڑا۔۔۔
اتنے دن تم نے مجھے اندھیرے، گرمی اور حبس میں رکھا۔ دم گھٹ رہا تھا میرا۔ تم لوگ سمجھتے ہو انڈے میں رہنا آرام دہ ہوتا ہے؟”
ٹرمپ کی چونچ ذرا کھلی کی کھلی رہ گئی۔
یہ پہلی بات نہیں، پہلی دراڑ تھی جو پاپا ڈونلڈ اور ماما مرینا کے دل پہ پڑی۔۔
"بیٹے، ہم تو چاہتے تھے تم مکمل بنو… تمہاری آنکھیں، تمہارے پر، سب ٹھیک طرح سے بنیں۔”
مرینا نے آہستہ سے کہا،
"ہم ہر لمحہ تمہیں سینے سے لگائے رکھے… اپنی سانسیں روکے بیٹھے رہے…”
جیکسن نے سر جھٹکا، "پھر بھی!
وہ گھٹن… میں چپ رہا، سہا، اور تم خوش ہوتے رہے اپنے خوابوں میں!”۔۔۔
ایک لمحے کو گھونسلے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر مسٹر ڈونلڈ نے مسکرا کر کہا،
"تو تم نے پہلی بات۔۔۔ شکایت سے کی۔ یہ بھی محبت کی ایک شکل ہے شاید۔”۔۔
مرینا نے جیکسن کو نرمی سے اپنی چونچ سے سہلایا،
"میرا بچے، خواب صرف ہمارے نہیں تھے، تمہارے بھی تھے۔ اور شکر ہے، تم سلامت ہمارے پاس ہو۔”
وہ دونوں جیکسن کے اردگرد گھومنے لگے۔۔۔۔
مرینا نے تازہ بیری لا کر اس کے سامنے رکھی۔
"یہ دیکھو، تمہارا پہلا نوالہ۔ بہت میٹھا ہے۔”
ٹرمپ نے پر پھیلائے، "اور آج سے ہر دن تمہاری بات سنیں گے، تمہیں آزاد سیکھنے دیں گے۔”
اس نے ۔۔ سرخ بیری چکھی، منہ بنایا اور فوراً تھوک دی۔
"اُف! اونہہ… کڑوا ہے! میں ایسی چیزیں نہیں کھاتا!” اس نے چونچ گھونسلے کے فرش سے رگڑتے ہوئے کہا، "ہنہ
قریب ہی سے ماما مرینا کی نرمی بھری آواز آئی،
"جیکسن، ہر ذائقے میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ہوتا ہے، کڑوا بھی زندگی کا رنگ ہے۔”
پاپا ڈونلڈ نے سر گھما کر مسکرا کر کہا،
"بیٹا، جنگل کی ہر شے ہماری آزمائش بھی ہے اور عطا بھی… جو کڑوا ہے، وہ شاید کل کو تمہاری یا کسی اور کی دوا بنے۔”
مگر جیکسن نے سُنی اَن سُنی کی اور زور سے پروں کو پھڑپھڑایا، "میں بس میٹھا کھاؤں گا، خوش رہوں گا، آزاد رہوں گا!”
دن گزرتے رہے۔ مرینا اور ڈونلڈ نے اپنی تمام تر محبت اور تدبیر سے جیکسن کو جنگل کے قدیم ترین اسکول میں داخل کروایا، جہاں صرف علم نہیں، اخلاق، تہذیب، برداشت اور خدمت جیسے خزانے بھی گُٹھی میں دیے جاتے تھے۔
جہاں سبق پتوں پر لکھے جاتے تھے، اور تربیت ہوا میں گونجتی تھی۔ مگر جیکسن نے کچھ نہ سیکھا
جیکسن بدلنے والوں میں سے نہ تھا۔
وہ وقت کے ساتھ بڑا ہوتا گیا، مگر اس کی طبیعت ویسی ہی رہی بےنیاز، آزاد، ضدی۔
ادھر موسم بدلنے لگا۔ خزاں کی ہوا سردی کی چادر لانے لگی۔ درختوں کی چھاؤں کم ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی ماما مرینا اور پاپا ڈونلڈ کی کمر جُھکنے لگی۔ ان کے پروں کی روانی کمزور ہونے لگی، آنکھوں کی روشنی دھندلانے لگی۔
ایک شام جیکسن، حسبِ عادت، جنگل میں آوارہ پھرتا پھراتا دیر سے گھر واپس آیا۔ چٹان پہ بنے گھونسلے میں داخل ہوتے ہی فضا کچھ مختلف لگی۔ خاموشی کی ایک سرد دُھند تھی۔
وہ قریب گیا تو دیکھا ۔۔ ماما اور پاپا بےحس و حرکت لیٹے تھے، کمزور اور بیمار۔ آج انہوں نے کچھ بھی نہ کھایا تھا۔
جیکسن کا دل پہلی بار لرز گیا۔ وہ چکرا سا گیا، گھونسلے میں چکر کاٹتا رہا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا، کبھی اپنے خالی پنجے۔۔۔۔
"کیا کروں؟… کیا دوں؟… میں نے تو کچھ سیکھا ہی نہیں…”
پھر جیسے اچانک فطرت کی کوئی کھڑکی کھلی ۔۔۔ وہ ہوا میں بلند ہوا، تیزی سے اڑا۔ دانہ دنکا، نرم بیریاں، چند جڑی بوٹیاں اکٹھی کیں، اور واپس گھونسلے میں آ پہنچا۔
بیریاں پرندوں کے لیے صرف میٹھا یا رنگین پھل نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی زندگی کا ایک قدرتی طبیب بھی ہیں۔ مختلف پرندے، خاص طور پر جنگلوں اور پہاڑوں میں رہنے والے، مخصوص بیماریوں یا جسمانی کمزوری کے دوران خاص اقسام کی بیریاں چنتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سرخ جنگلی بیریوں میں اینٹی آکسیڈنٹس اور قدرتی طور پہ سوزش ختم کرنے والےاجزاء ہوتے ہیں جو تھکن، زخمی پروں، یا سانس کی تکالیف میں آرام پہنچاتے ہیں۔ نیلی یا سیاہی مائل بیریاں ہاضمے کو بہتر بناتی ہیں اور نظامِ قوتِ مدافعت کو تقویت دیتی ہیں۔ نر پرندے افزائش نسل کے موسم میں توانائی بڑھانے کے لیے بیریوں کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ مادہ پرندے ان بیریوں کو گھونسلے کے قریب ذخیرہ بھی کرتی ہیں تاکہ نوکیلے چونچ والے بچوں کو نرمی، شفا اور طاقت دے سکیں۔ جنگل میں پرندوں کی یہ فطری حکمت اور علاج کا عمل، قدرت کا وہ خاموش علم ہے جس پر انسان اب تحقیق شروع کر رہا ہے۔
پہلی بار جیکسن نے ماں کے پَر سہلائے، پاپا کی گردن تھپتھپائی، اور دھیرے سے ان کے منہ کے قریب خوراک رکھ دی۔ غرغراہٹ، جو وہ کبھی کھیل میں بھی نہیں سیکھتا تھا، وہ
خوراک کو پہلے، خود اپنی چونچ میں چباتا۔۔پھر ,خاص انداز سے گردن کو ہلاتا۔۔crop milk ۔۔۔
بنا کر باری باری، ماما پاپا کی چونچ میں انڈیلتا۔۔۔
مرینا کی آنکھ کھلی ، کمزور مسکراہٹ آئی۔ ڈونلڈ نے آہستہ سے گردن کو جنبش دی۔۔۔
مرینا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ڈونلڈ کے چہرے پر پہلی بار دن بھر کے بعد مسکراہٹ آئی۔
جیکسن نے نہ تو یہ سبق کسی استاد سے سیکھا تھا، نہ کتاب سے پڑھا تھا ۔۔
یہ تو اُس لمحے کا سبق تھا، جب دل بولنے لگا اور ضد۔۔ہار گئی۔
اسی شام درختوں پر ٹھنڈی روشنی اتری۔
اور پہلی بار، جیکسن کو محسوس ہوا کہ زندگی صرف "کھانے” یا "پینے” کا نام نہیں
بلکہ وہ لمحہ ہے جب تم کسی سے محبت ۔۔بانٹتے ہو۔
موسم سرد ضرور تھا، مگر جیکسن کے دل میں بالآخر۔۔ماں باپ کی محبت جاگ چکی تھی۔
جیکسن نے اُس رات کچھ نہ کہا، بس گھونسلے کے ایک کنارے بیٹھا، دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔ چاندنی میں اس کی پرچھائیں لمبی ہو گئی تھی شاید وہ پہلی بار بڑا لگ رہا تھا
وہ رات جنگل کی تاریخ میں درج ہو گئی ۔۔ جب ایک ضدی، خودسر پرندہ پہلی بار خدمت کا مفہوم سمجھا۔
اگلی صبح جب سورج نکلا، جیکسن درخت کی شاخ پر بیٹھا تھا، اور اس کی آواز میں کڑواہٹ نہیں، بلکہ دانائی ،محبت اور احساس کی وہ نرمی تھی جو صرف تجربے سے آتی ہے۔
ماما پاپا کی خدمت کرتے کرتے اب وہ خود چھوٹے پرندوں کو سکھاتا ہے،
"کبھی جو چیز کڑوی لگے، اس سے منہ نہ موڑو۔ ہو سکتا ہے وہی کسی دن تمہارے پیاروں کا علاج ہو۔”




