غزل

غزل / بظاہر کچھ نہیں قصہ ہمارا / احمد معاذ

غزل

 

بظاہر کچھ نہیں قصہ ہمارا

پسِ تصویر ہے چہرہ ہمارا 

 

خرابی ہے ستاروں میں ہمارے

جسے چاہیں ، نہیں ہوتا ہمارا 

 

نظر بھر کے تجھے ہم دیکھتے ہیں

مگر یہ دل نہیں بھرتا ہمارا

 

جہاں ہر چیز کو ہونا فنا ہے

وہاں پر کیا تمہارا؟ کیا ہمارا ؟

 

کہاں ہیں ہم کہیں بھی تو نہیں ہیں!

کہاں رکھا گیا ہونا ہمارا ؟

 

کوئی ہم پر ، کسی پر ہم فدا ہیں

ہمارا دل نہیں رہتا ہمارا 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button