نظم
لانینا (La Niña) / نصیر احمد ناصر

لانینا (La Niña)
نصیر احمد ناصر
وہ آئے گی
آبی پردے میں چھپ کر
اُس کی آہٹ
صرف بادلوں کو سنائی دے گی
یا دریا اُس کی آمد کو محسوس کریں گے
وہ کچھ کہے بغیر
ہواؤں کی سمتیں بدل ڈالے گی
اور دھوپ کے سینے پر
برف کی تَہ جما دے گی
وہ آئے گی
تو فصلیں بددعائیں دینا سیکھ لیں گی
دریا راستہ بھولنے
اور پہاڑ سائیں سائیں کرنے لگیں گے
آسمان کی آنکھوں سے
نیند اُڑ جائے گی
اور درخت دھوپ سے چھاؤں مانگنے لگیں گے
وہ آئے گی
تو موسم اپنی پہچان کھو بیٹھے گا
کبھی آسمان مسلسل برسے گا
کبھی زمین پانی کو ترسے گی
ہر طرف
ایک خاموش یخ بستگی پھیل جائے گی
جس میں
زندگی کم اور تھکن زیادہ ہو گی
لانینا،
ساتویں پھیرے میں
رت کی سبز چنری
خنکی کی سفید چادر میں بدل دے گی




