نظم
نئی نظم / ظہور منہاس
بلیک گاؤن
وہ مجھے سامنے پاکر
نہایت سلیقے سے
اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے
اپنا بلیک گاؤن سمیٹتے ہوئے ، اوپر اٹھا لیتی ہے
میں بارش کے بعد
شکستہ سڑک کے بیچ
گڑھے میں
رکا ہوا
پانی
ہوں
ظہور منہاس
_______________________
بس ! انت
شہر امید میں ہے اک خاتون
سر خوشی میں ہے محو خواب ہے وہ
اور اسی کیفیت میں ہر لمحے
اپنے بچے کی نرم گردن پر
فرط ممتا سے بوسے دیتی ہے
شہر سے دور کارخانے میں
ہنس رہی ہے کوئی پتنگ کی ڈور
ظہور منہاس
_______________________
Claiming
دور ساحل پر وہیل کا ڈھانچہ
ڈھانچے پر نمی
نمی سے تمام ڈھانچے پر کائی اگ گئی
اب وہ کائی
گوشت ہونے کا دعوی کر رہی ہے۔
ظہور منہاس




