منتخب کالم
رقاصِ آب/ بلقیس ریاض

واٹس ایپ پر نوین روما کا فون آیا…تو یہ نام میرے لئے نیا تھا تو میں نے پوچھا کون۔
بتانے لگی میں نوین روما ہوں…افسانوں کا پہلا مجموعہ رقاصِ آب بھیجنا چاہتی ہوں…آپ اس کو دیکھ لیں۔
واٹس ایپ پر اس کی تصویر دیکھی سر پر دوپٹہ اوڑھے مسکرا رہی تھی…مجھے بہت بھلی لگی…میں نے جواب دیا اچھا بھیج دیں۔
یہ میرا پہلا افسانوں کا مجموعہ ہے امید کرتی ہوں کہ آپ اس کو ضرور پڑھیں گی اور برائے مہربانی اپنے گھر کا ایڈریس بھی ارسال کر دیں۔
میں نے اپنا ایڈریس بھیج دیا اور ٹھیک چار پانچ دن کے بعد اس کی کتاب مجھ تک پہنچ گئی۔
میں نے تقریباََ سار ی کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا کہ یہ بڑی سچی اور کھری لڑکی ہے…معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اپنی دوربین نگاہوں سے دیکھ کر صفحہ قرطاس پر اپنے افسانے منتقل کر رہی ہے. تقریباََ سب افسانے بہت اچھے ہیں.
ان افسانوں میں ’’بے بی‘‘ افسانہ مجھے بہت پسند آیا۔ پڑوسن اپنی بچی کو گود میں اٹھا کر بے بی کے گھر آتی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیٹی کی سالگرہ ہے اور کپڑے سلوانا چاہتی ہوں. دن بہت تھوڑے ہیں. 24 والے دن اس کی سالگرہ ہے. بچی کو دیکھ کر بے بی بہت خوش ہوتی ہے.
فکر نہ کریں باجی میں 23 کو سارے کپڑے تیار کر دوں گی. تو عامرہ نے جواب دیا۔
شکر ہے میری ٹینشن ختم ہوئی. تمہیں معلوم نہیں سالگرہ پر کتنا کام ہوتا ہے۔ اوپر سے میاں جی کہتے ہیں کہ سب چیزیں گھر میں تیار ہوں…ہائے بے بی تم ہمارے گھر کے کباب کھاؤ گی تو سب بھول جاؤ گی.
جب چلی گئی تو ماں کہتی ہے۔
تمہیں بیوقوف بنا گئی ہے. سالگرہ پر یہ بنے گا وہ بنے گا۔ کھانوں کی خوشبوئیں پھیل جائیں گی.
بے بی معصوم اور مخلص لڑکی ہے۔ ماں کو کہتی ہے کہ اس کی بچی مجھے پیاری لگتی ہے. ہمیں کسی کی خوشی میں شریک ہونا چاہیے…اور کہا۔
جس دن میں نے اپنے آپ کو درزن سمجھ لیا تو میرے جسم کے ساتھ میری روح بھی تھک جائے گی.
غرض کہ لوگوں کے کپڑے بلائے طاق رکھ کر اس نے 23 تاریخ کو سارے کپڑے تیار کر کے دے دئیے…دوسرے دن سالگرہ تھی…بے بی شدت سے انتظار کرتی ہے کہ وہ اس کو بھی انوائٹ کرے گی. کیک کٹتا وہ بھی دیکھے گی…مگر پڑوسن کا مطلب نکل گیا تھا. اسی طرح چاروں طرف کھانوں کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں اور قمقمے سر شام ہی روشن ہوتے گئے…ماں کو کہا۔
باجی عامرہ نے مجھے اپنی بہن اور مانو کی خالہ نہیں سمجھا بلکہ مجھے بے بی درزن ہی سمجھا۔ دو آنسو اس کے گالوں پر پھیل گئے.
اس معاشرے میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ اپنا مفاد سامنے رکھ کر ملتے ہیں اور مخلص انسان کو استعمال کر کے اپنا کام نکلوا لیتے ہیں.
نوین روما نے اپنے افسانوں کے کردار اسی معاشرے میں سے لئے ہوئے ہیں. وہی کچھ لکھ رہی ہے جو وہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہے. وہ ایسی افسانہ نگار ہے جو سچ لکھنے سے ذرا بھر نہیں گھبراتی۔
وہ اپنے افسانوں میں سچ کہتی ہے جو بڑا کڑوا ہوتا ہے. نوین روما نے انسانی جبلتوں کی بڑی حسین منظر نگاری کی ہے. وہ انسانوں میں رہتی ہے…فرشتوں میں نہیں۔
دنیا میں کوئی کہانی نئی نہیں ہوتی. صرف لب و لہجہ اسلوب نیا ہوتا ہے. نوین اچھی لکھاری ہی نہیں بلکہ اچھے دل کی مالک بھی ہے.
اچھی تحریر کیلئے واردات،تجربہ،مشاہدہ،مطالعہ اور ادراک طرز احساس اور زبان کا ستعمال بہت ضروری ہے. یہ تمام چیزیں نوین روما اپنی قلم میں محفوظ کر چکی ہے. کتاب اتنی دلچسپ تھی کہ میں نے ایک رات میں ہی پڑھ لی. نوین روما نے افسانوں میں سادہ جملوں کے ساتھ بے باک طریقے سے انسانی رشتوں اور معاشرے کی عکاسی کی ہے…کسی سے ڈرتی نہیں اور اپنے موقف پر قائم ہے. امید کرتی ہوں کہ آئندہ زندگی میں بھی اس سے بہتر افسانے لکھے گی…اسی کتاب میں اس نے اپنا لوہا منوا لیا ہے. اس کا ادب کی دنیا میں روشن مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔ میں اس کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
بتانے لگی میں نوین روما ہوں…افسانوں کا پہلا مجموعہ رقاصِ آب بھیجنا چاہتی ہوں…آپ اس کو دیکھ لیں۔
واٹس ایپ پر اس کی تصویر دیکھی سر پر دوپٹہ اوڑھے مسکرا رہی تھی…مجھے بہت بھلی لگی…میں نے جواب دیا اچھا بھیج دیں۔
یہ میرا پہلا افسانوں کا مجموعہ ہے امید کرتی ہوں کہ آپ اس کو ضرور پڑھیں گی اور برائے مہربانی اپنے گھر کا ایڈریس بھی ارسال کر دیں۔
میں نے اپنا ایڈریس بھیج دیا اور ٹھیک چار پانچ دن کے بعد اس کی کتاب مجھ تک پہنچ گئی۔
میں نے تقریباََ سار ی کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا کہ یہ بڑی سچی اور کھری لڑکی ہے…معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اپنی دوربین نگاہوں سے دیکھ کر صفحہ قرطاس پر اپنے افسانے منتقل کر رہی ہے. تقریباََ سب افسانے بہت اچھے ہیں.
ان افسانوں میں ’’بے بی‘‘ افسانہ مجھے بہت پسند آیا۔ پڑوسن اپنی بچی کو گود میں اٹھا کر بے بی کے گھر آتی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیٹی کی سالگرہ ہے اور کپڑے سلوانا چاہتی ہوں. دن بہت تھوڑے ہیں. 24 والے دن اس کی سالگرہ ہے. بچی کو دیکھ کر بے بی بہت خوش ہوتی ہے.
فکر نہ کریں باجی میں 23 کو سارے کپڑے تیار کر دوں گی. تو عامرہ نے جواب دیا۔
شکر ہے میری ٹینشن ختم ہوئی. تمہیں معلوم نہیں سالگرہ پر کتنا کام ہوتا ہے۔ اوپر سے میاں جی کہتے ہیں کہ سب چیزیں گھر میں تیار ہوں…ہائے بے بی تم ہمارے گھر کے کباب کھاؤ گی تو سب بھول جاؤ گی.
جب چلی گئی تو ماں کہتی ہے۔
تمہیں بیوقوف بنا گئی ہے. سالگرہ پر یہ بنے گا وہ بنے گا۔ کھانوں کی خوشبوئیں پھیل جائیں گی.
بے بی معصوم اور مخلص لڑکی ہے۔ ماں کو کہتی ہے کہ اس کی بچی مجھے پیاری لگتی ہے. ہمیں کسی کی خوشی میں شریک ہونا چاہیے…اور کہا۔
جس دن میں نے اپنے آپ کو درزن سمجھ لیا تو میرے جسم کے ساتھ میری روح بھی تھک جائے گی.
غرض کہ لوگوں کے کپڑے بلائے طاق رکھ کر اس نے 23 تاریخ کو سارے کپڑے تیار کر کے دے دئیے…دوسرے دن سالگرہ تھی…بے بی شدت سے انتظار کرتی ہے کہ وہ اس کو بھی انوائٹ کرے گی. کیک کٹتا وہ بھی دیکھے گی…مگر پڑوسن کا مطلب نکل گیا تھا. اسی طرح چاروں طرف کھانوں کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں اور قمقمے سر شام ہی روشن ہوتے گئے…ماں کو کہا۔
باجی عامرہ نے مجھے اپنی بہن اور مانو کی خالہ نہیں سمجھا بلکہ مجھے بے بی درزن ہی سمجھا۔ دو آنسو اس کے گالوں پر پھیل گئے.
اس معاشرے میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ اپنا مفاد سامنے رکھ کر ملتے ہیں اور مخلص انسان کو استعمال کر کے اپنا کام نکلوا لیتے ہیں.
نوین روما نے اپنے افسانوں کے کردار اسی معاشرے میں سے لئے ہوئے ہیں. وہی کچھ لکھ رہی ہے جو وہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہے. وہ ایسی افسانہ نگار ہے جو سچ لکھنے سے ذرا بھر نہیں گھبراتی۔
وہ اپنے افسانوں میں سچ کہتی ہے جو بڑا کڑوا ہوتا ہے. نوین روما نے انسانی جبلتوں کی بڑی حسین منظر نگاری کی ہے. وہ انسانوں میں رہتی ہے…فرشتوں میں نہیں۔
دنیا میں کوئی کہانی نئی نہیں ہوتی. صرف لب و لہجہ اسلوب نیا ہوتا ہے. نوین اچھی لکھاری ہی نہیں بلکہ اچھے دل کی مالک بھی ہے.
اچھی تحریر کیلئے واردات،تجربہ،مشاہدہ،مطالعہ اور ادراک طرز احساس اور زبان کا ستعمال بہت ضروری ہے. یہ تمام چیزیں نوین روما اپنی قلم میں محفوظ کر چکی ہے. کتاب اتنی دلچسپ تھی کہ میں نے ایک رات میں ہی پڑھ لی. نوین روما نے افسانوں میں سادہ جملوں کے ساتھ بے باک طریقے سے انسانی رشتوں اور معاشرے کی عکاسی کی ہے…کسی سے ڈرتی نہیں اور اپنے موقف پر قائم ہے. امید کرتی ہوں کہ آئندہ زندگی میں بھی اس سے بہتر افسانے لکھے گی…اسی کتاب میں اس نے اپنا لوہا منوا لیا ہے. اس کا ادب کی دنیا میں روشن مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔ میں اس کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔




