منتخب کالم

    بیچارہ محمد رفیق/ پروفیسر مدثر اسحاق



شیخوپورہ شہر سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک قصبہ "جنڈیالہ شیرخان” واقع ہے۔ جو مشہور پنجابی صوفی شاعر ” ہیر وارث شاہ” کے خالق ” وارث شاہ” کے مزار کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی شناخت اور شہرت رکھتا ہے۔ محمد رفیق نواحی گاؤں کا وسنیک ہے۔ کاشتکاری کو پیشہ بنا رکھا ہے، دو ایکڑ ذاتی زمین اور کوئی آٹھ، دس ایکڑ زمین ٹھیکے پر حاصل کر رکھی ہے۔ دو پڑھے لکھے بیٹے ہیں، لیکن نوکری نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی باپ کے ساتھ "کاشتکاری” کا ہی حصہ ہیں۔ تین بیٹیاں ہیں، بڑی دو شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہیں، اور سب سے چھوٹی تھیلیسیما نامی بیماری کا شکار ہے اور زیر علاج ہے۔ گھر میں کچھ بھینسیں بھی پال رکھی ہیں، جن کی دیکھ بھال "رضیہ بی بی” کے ذمہ ہے، جو رفیق کی بیوی ہے۔ صبح و شام کے اوقات میں ” دودھ” بیچ کر ہانڈی روٹی چلتی ہے۔ محمد رفیق بیٹوں سمیت سارا دن کھیتوں میں خوب محنت کرتا ہے، وہ گاؤں میں کبھی "ویلا” نظر نہیں آتا، بلکہ ہمہ تن گوش محنت میں جتا رہتا ہے۔ اس کے کھیت سب سے اچھے اور صاف ستھرے ہیں۔ فصل بھی سب سے اچھی ہوتی ہے۔ پورے گاؤں اور برادری میں رفیق کی محنت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ پچھلے سال کی بات ہے کہ اچانک "بڑی بیٹی” کے سسرال والوں نے شادی کا مطالبہ رکھ دیا، وجہ بڑی معقول تھی کہ لڑکا چونکہ سعودی عرب میں نوکری کرتا ہے، اور اب وہ چھٹی پر گھر آیا ہوا ہے، پھر جانے کب چھٹی ملے نہ ملے لہذا شادی ابھی ناگزیر ہے۔ لیکن محمد رفیق نے تو ساری ” جمع پونجی” گندم کاشت کرنے پر خرچ کر دی ہوئی ہے، اب کیا کیا جائے؟ یہی سوچ ستائے جا رہی ہے۔ آخر کار گھر ” صلاح مشورہ” کے بعد قرض لینے کا فیصلہ کیا گیا، چونکہ رفیق کی Reputation بہت اچھی ہے، لہذا فوری طور پر آڑھتی سے قرض حاصل کر لیا گیا، جس کی ادائیگی گندم کی فصل اٹھنے پر طے پائی۔ خوش اسلوبی سے شادی کا فریضہ انجام دیا گیا۔ اور پھر فصل پر محنت اور نگرانی میں بھی اضافہ ہو گیا۔ محنت نے اثر دیکھایا، اور فصل کی پیداوار بہت اچھی ہوئی۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے گندم کی قیمت نیچے گرتی گئی، خریداری بھی تقریباً ختم ہو گئی۔ کئی دنوں کے "منت ترلوں ” کے بعد آڑھتی اونے پونے داموں گندم خریدنے پر رضا مند تو ہوا لیکن فصل کی کل آمدن سے "قرض” بھی مکمل ادا نہ ہو سکا۔ اب دو بڑے چیلنجز محمد رفیق کے سامنے پہاڑ بن کے کھڑے تھے، ٹھیکہ کی رقم کی ادائیگی اور نئی فصل کی بوائی۔ لیکن آخر پیسے کہاں سے آئیں؟ سوچوں اور فکروں نے محمد رفیق کی راتوں کی نیند چھین لی۔ ایک رات اپنی چارپائی پر محمد رفیق انہی پریشانیوں میں گھرا ہوا تھا، کہ اسے اپنے جسم میں عجیب و غریب تبدیلی محسوس ہوئی، ہسپتال جا کر پتہ چلا کہ فالج کا شدید اٹیک ہوا ہے، نتیجتاً جسم کا Left حصہ مفلوج ہو گیا۔ اور اب محمد رفیق مشیت ایزدی سے بیکار چارپائی پر پڑا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں، پنجاب کا ہر چھوٹا "کسان” اسی کرب سے گزر رہا ہے۔ حکومتی عدم توجہ سمجھ سے باہر ہے۔ ٹریکٹر سکیم، کسان کارڈ و پیکیج وغیرہ کے انتہائی محدود ثمرات ہیں آٹے میں نمک کی طرح۔ کسان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ لاروں کی۔ اگر فصل کے ریٹ کم ہو سکتے ہیں تو "زرعی مداخل” کے کیوں نہیں؟ اس وقت گندم کی قیمت پچھلے پانچ سالوں والی پرانی سطح پر ہے، جبکہ کھاد، بیج، ادویات، مشینری، بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں ہمارے سامنے ہیں۔ منافع دینے کی بجائے فصلیں تو فی الحال اپنا آپ ہی نہیں اٹھا پا رہیں۔ دنیا کی بہترین زمین، بڑا نہری نظام، آئیڈیل موسم، باصلاحیت افرادی قوت، لیکن زراعت کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ کسان بیچارہ راندہ درگاہ بنا ہوا ہے۔ چند چھوٹی موٹی سکیموں سے کچھ فرق نہیں پڑے گا، ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، جس کا فائدہ براہ راست سب کو ملے اور کسان کی زندگی سے تپش، ڈپریشن اور ٹینشن ختم ہو جائے۔ حکومت کو کسان کے سر سے بدانتظامی کی چٹان کو سرکانہ ہو گا، پھر ہی نیچے سے سکون کے چشمے جاری ہوں گے۔ کسان سب کیلئے ” خوان نعمت لاتا ہے”، اللہ تعالی کی مخلوق کیلئے دن رات ایک کر دیتا ہے، اللہ کی رضا مندی بجا لاتا ہے۔ آئیں سب مل کر اس کے دکھوں کا مداوا کریں۔ 

  





Source link

Author

Related Articles

Back to top button