بچوں کا ادب
دم گھنٹی مینڈھا/ سید ضمیر جعفری

سید ضمیر جعفری کی بچوں کے لیے نظم
سید ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر تھے۔ یکم جنوری 1916ء کو جہلم کے گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔ شروع میں روزنامہ احسان سے وابستہ ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں فوج میں شامل ہوئے۔ 1948ء میں خود اخبار نکالا۔ 1950ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ سی ڈی اے اسلام آباد، نیشنل سنٹر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ بڑوں کے لیے مزاحیہ شاعری، ڈائریاں، خاکے لکھے؛ جب کہ بچوں کے لیے بھی شاعری کی، ذیل میں ان کی ایک نظم، جو ان کے بچوں کی شاعری کے مطبوعہ مجموعے گہوارہ میں بھی موجود نہیں، یہ بچوں کے ایک معروف ماہنامے آنکھ مچلولی میں شائع ہوئی تھی۔
دم گھنٹی مینڈھا
انور بولا
سرور ! میں نے کل منڈی میں
ایک بکاؤ مینڈھا دیکھا
دو دو گز کے سینگ تھے اُس کے
کان بڑے لم ڈھینگ تھے اس کے
کھائے خالص ہری گھاس
پی کر شربت چار گلاس
کھیلے پھر وہ بکری پاس
موٹا تازہ، بے اندازہ
دس گز لمبا، چھ گز چوڑا
اس کے اندر تھا اک گھوڑا
اس کی آنکھیں آڑو جیسی
دم تھی لمبی جھاڑو جیسی
دُم کے ساتھ لگائی گھنٹی
ہم نے خوب بجائی گھنٹی
سرور بولا جھوٹ ہے !
جھوٹ ہے، جھوٹ ہے



