منتخب کالم

سُرخیاںمتنتین قبریں اور عامر سہیل / ظفر اقبال


عمرا ن جب سے جیل میں ہیں معیشت بہتر ہو رہی ہے۔عطا تارڈ

وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ”جب سے عمران خان جیل میں ہیں،معیشت بہتر ہو رہی ہے“اور یہ بھی ایک نعمتِ خداوندی ہے ورنہ معیشت بہتر کرنے کے لیے ہم تو پورا زور لگا بیٹھے تھے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی جبکہ ہمارے خرچے حسبِ معمول زیادہ او ر آمدن برائے نام ہے بلکہ اب تو ہمیں کوئی بھیک بھی نہیں دیتا اور بجلی کے نرخ اور شرح سُود میں اضافے کی ورجہ سے انڈسڑی ٹھپ ہو چکی ہے اور درآمد زیادہ جبکہ برآمد کا نام و نشان نہیں۔اب عمران کے جیل جانے سے معیشت میں قدرے بہتری آئی ہے جسے ایک غیبی امداد ہی سمجھنا چاہیے اور اب موصوف کو باہر نکال کر ہم کُفرانِ نعمت کا ارتقاب نہیں کر سکتے بلکہ خود عمران کے لیے بھی یہ بات باعثِ فخر ہونی چاہیے کہ صرف اُن کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ہماری معیشت نے پلٹا کھایا ہے جس کے مکمل بحال ہونے میں مزید دس سال درکار ہوں گے جبکہ قوموں کی زندگی میں تو دس سال چٹکی میں گزر جاتے ہیں،نیز حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے موصوف کو خود ہی باہر نکلنے سے انکار کر دینا چاہیے اور اُن کی پارٹی کو بھی چاہیے کہ ملک کے بہترین مفاد میں موجودہ صورتحال کے اند ر مطمئن اور خوش رہے کہ ملک کی اِس سے بڑی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے۔آپ اگلے روز عمران خان کے ایک بیان کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔

حکمرانوں کی نا اہلِ کی سزا ریاست اور عوام کو مل رہی ہے۔فضل الرحمن

جمعیت علماء  اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہا ہے کہ ”حکمرانو ں کی نا اہلی کی سزا ریاست اور عوام کو مل رہی ہے“اگرچہ یہ اُس سزا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ریاست اور عوام کو نا اہل سیاسی رہنماؤں کی وجہ سے ملتی رہتی ہے لہٰذا دونوں کو اپنی اپنی جگہ پر اپنا رویہ تبدیل کر نا چاہیے کیونکہ خدا لگتی بات تو یہی ہے کہ دونو ں کے کار ہائے نمایاں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں جبکہ ویسے بھی یہ سب ماشاء اللہ ایک ہی مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ یا تو یہ خواتین و حضرات حکومت میں ہوتے ہیں یا اپوزیشن میں،اور کہیں بھی،کوئی بھی کسر اُٹھا نہیں چھوڑتے اور اُن سے زیادہ اُمید بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اصلاح کے مرحلے سے گزر سکیں اِس لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ میاں خو د ہی اُنہیں نیک ہدایت سے سرفراز فرمائیں،آمین ثُم آمین۔نیز عوام کا بھی فرض ہے کہ ووٹ دیتے وقت اُن کے بارے میں اچھی طرح سے چھان پھٹک کر لیا کریں جبکہ خرابی کی ایک وجہ خود عوام بھی ہیں جو الیکشن کے موقع پر غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعد میں اپنی اِس غفلت کے نتائج بھگتتے رہتے ہیں۔آپ اگلے روز اسلام آباد میں ڈاکٹر عشرت العبادسے گفتگو کر رہے تھے۔

آئین کی عزت نہ کرنا سیاسی جماعتوں کے لیے شرم ناک ہے، نثار کھوڑو

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ ”آئین کی عزت نہ کرنا سیاسی جماعتوں کے لیے شرمناک ہے“ اگرچہ اِن کے اور بھی بہت سے ایسے کار نامے موجود ہیں 

جو اُن کے لیے باعثِ فخر نہیں ہو سکتے مثلاََ ووٹ اورجمہوریت کی قدر نہ کرنا،جھوٹے وعدے کرنا اور وعدوں کو بھول جانا،اُصولوں کا پرچار کرتے رہنا اور خود اُصول شکنی میں ملوث رہنا،

خدمت کی بجائے لالچ کو ترجیح دینا،عوامی جذبا ت کو ہمیشہ نظر انداز کرنا،غرض اِ ن کی یہ خوبیاں شمار کرنے لگیں تو کوئی حساب ہی نہ رہے اور ایمان داری کی با ت تو یہ ہے کہ میں خود 

اکثر اوقات کوتاہی کر جاتا ہوں اِس لیے دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت کوئی اچھی بات نہیں ہے بلکہ دراصل یہ سیاست کام ہی ایسا ہے کہ اِس میں یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے 

اور سیاست کے بغیر ہمارا گزارا بھی نہیں ہے لہٰذ ا ہمارے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے اور دعا بھی اپنے لیے ہمیں خود ہی کرنا پڑے گی کیونکہ دوسرے تو سارے متاثرین ہیں،اِ ن سے کیا

اُمید کی جا سکتی ہے،آپ اگلے روز کراچی میں صدر زرداری کی سالگرہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

ایک صاحب قبرستان سے گزر رہے تھے کہ اُنہو ں نے دیکھا کہ ایک شخص تین قبروں کے سرہانے اُداس بیٹھا ہے وہ رُک گیا اور اُس سے پوچھا کہ یہ کس کی قبریں ہیں جس نے جواب 

دیا کہ یہ میری بیویوں کی قبریں ہیں۔

 ”اِن کا انتقال کیسے ہوا؟“ اُس نے پوچھا 

”دو کا انتقال زہر کھانے سے ہو ا تھا“اُ س نے جواب دیا 

”اور تیسری؟“اُس نے دوبارہ پوچھا 

ؔؔ”اُس نے زہر کھانے سے انکا ر کر دیا تھا!“

اُس نے جواب دیا 





Source link

Author

Related Articles

Back to top button