تراجمترجمہ مضامین

چاند رانی /ایلف شفق / نبراس سہیل

ایلف شفق کی کتاب Black Milk: On Motherhood and Writing  سے ایک مضمون Moon Woman

1862 میں لیو ٹالسٹائی   (Leo Tolstoy)نے خود سے سولہ برس چھوٹی عورت سے شادی کی : صوفیہ ایندرینا برس  (Sophia Andreyevna Tolstaya)

گو کہ ادبی تاریخ میں اس شادی کو نا خوشگوار ازدواجی تعلقات میں سے ایک مانا جاتا ہے ، مگر ممکن ہے ان  دونوں میں کہیں گہری محبت اور لگن رہی ہو؛  خواہ ابتدائی برسوں ہی میں سہی۔  ایسے بھی دن تھے جب وہ ایک ساتھ ہنسا کرتے، وہ ایک بے لگام گھوڑے کی مانند سر پٹ دوڑتا اور وہ کسی سدھائی ہوئی گھوڑی کی طرح اپنے احاطے  ہی میں  ٹاپیں بھرا کرتی؛ لجائی ہوئی مگر زندگی سے بھرپور۔  اس  بندھن نے تیرہ بچوں کو جنم دیا، (کچھ کے مطابق انیس کو)۔ ان میں سے پانچ تو بچپن ہی میں مر گئے۔ صوفیہ نے باقی  آٹھ (یا غالبًا چودہ ) کو پالا پوسا۔ اس کی جوانی کا ایک بڑا حصہ حمل میں کٹا یا پھر بچوں کو دودھ پلاتے۔وہ  تاروں بھرے آسمان میں ایک چاند کی مانند بڑھتی گھٹتی رہی ۔اس کا جسم دن میں لمحہ لمحہ بدلتا، ہر ہفتے ، ہر مہینے بدلتا رہتا؛  یہ جسم بھر جاتا، گولائی اختیار کرکے اپنی انتہا کو پہنچتا، اور پھر سے  واپس اپنی دبلی حالت میں لوٹ آتا تاکہ ایک بار پھر سے بھرا جا سکے۔صوفیہ ایک چاند رانی تھی۔

 

Leo Tolstoy and Sofia Tolstaya in Crimea, 1902

جب ٹالسٹائی اپنے کمرے میں چراغ کی روشنی میں بیٹھ کر لکھا کرتا تو سونیا   (صوفیہ کا روسی مختصر نام  )بچوں کو دور رکھا کرتی کہ کہیں باپ کے کام میں خلل نہ ڈالیں۔ اس کی ڈائریوں سے اس کے خلوص کا  پتہ چلتا ہے۔ جب ٹالسٹائی نے اس سے کہاکہ وہ اسے نہ لکھنے پہ جھڑکتی کیوں نہیں۔ تو وہ بہت حیران ہوئی ۔وہ اپنی ڈائری میں لکھتی ہے کہ  بھلا میں کیسے سختی کر سکتی ہوں ۔  مجھے کیا حق ہے ایسا کرنے کا۔

اس کے بعد ہر گزرتی شب، ہر گزرتے برس  اس نے جان مار دی کہ ٹالسٹائی کےلکھنے کے عمل میں سہولت پیدا کر سکے۔اور جب کبھی  وہ بچوں میں نہ کھپ رہی ہوتی تو وہ اپنے شوہر کے لئے ایک سیکریٹری کی خدمات انجام دیتی۔نہ صرف یہ کہ اس نے ناول  ۔۔وار اینڈ پیس (جنگ اور امن) کے نوٹس  مرتب کئے  بلکہ اس نے پورا مسودہ لگ بھگ سات مرتبہ تحریر کیا۔ایک بار جب اس کا اسقاط حمل ہو ا  اور وہ بے حد بیمار پڑ گئی تو اسے یہ فکر  لاحق ہو گئی کہ وہ اب لکھ نہیں پا رہی تھی۔ اس دور میں وہ  ٹالسٹائی کی ہمت بندھاتی، اس کا  ساتھ دیتی ،اور اس کی مدد کرتی۔۔ جب ان کے درمیان آئندہ برسوں میں بڑھتی  ہوئی نفرت کے بارے میں آپ کو علم ہوتا ہے تویہ حقیقت اس وقت قطعی نظر انداز ہو جاتی ہے۔

ٹالسٹائی نے اس دور میں اپنا شہرہ آفاق ناول  اینا کارنینا  تحریر کیا۔ اس ناول کا آغاز دنیائے ادب  میں دہرائے جانے والے  ایک مقبول جملے سے ہوتا ہے ؛

 

”  تمام مسرور خاندان ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ نا آسودہ خاندانوں کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے۔”

 

ادب کے  مورخین اور سوانح نویس  بار ہا یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ٹالسٹائی کی اصل زندگی نے  اس ناول کو کتنا متاثر کیا  ہے۔  ٹالسٹائی کے اپنی بیوی اور اپنی شادی سے متعلق کتنے خدشات اینا کارنینا میں جھلکتے ہیں؟  اپنی عمر کے چوالیس برس کو پہنچتا  ایک نامورمصنف،  اپنی کہانی کو  زنا کاری کے منجدھار میں الجھاتا گویا صوفیہ کو خبردار کرتا ہے ۔ یوں  محسوس ہوتاہے کہ  سماج میں  اشرافیہ سے تعلق رکھنے  والی خاتون کی بے وفائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے  ہولناک انجام کو قلمبند کرتے ہوئے وہ  صوفیہ کو ہی تنبیہ کرتا  ہے۔ یوں لگنے لگتا ہے کہ ایک شادی شدہ عورت کی بے راہ روی بذاتِ خود اتنا بڑا گناہ نہ ہو ؛چونکہ وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پہ تنہا نہیں رہ رہے بلکہ ایک مہذب دنیا کے بیچ آباد ہیں  اس لئے  یہ گناہ بھی دو آتشہ ہو جاتا ہے۔جب پہلی بار الیکسی الیگسیندروچ اپنی بیوی سے اس بارے میں سنجیدگی سے بات کرتا ہے تو بڑی وضاحت سے اسے کہتا ہے؛

 

"میں تمہیں خبردار کرنا چاہتا ہوں ، تم اپنی بے وقوفی اور بے احتیاطی کی وجہ سے ہر ایک کے منہ میں آ جاؤ گی۔”

 

مسئلہ اس وقت نہیں بگڑتا جب ایک عورت دوسرے مرد کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے بلکہ اس وقت بگڑتا ہے جب زمانے کو اس کی خبر ہو جائے ۔

ممکن ہے اس ناول کے ذریعے ٹالسٹائی  محض اپنی بیوی کو ہی پیغام نہ دے رہا ہو بلکہ  مختلف عمروں کو پہنچتی اپنی  بیٹیوں کو بھی  نصیحت کر رہا ہو۔مگر حیران کن بات یہ ہوئی کہ اس ناول کا اثر اس کی بیوی اور بیٹیوں سے زیادہ خود اسی پر ہوا۔وہ  نیکوکاری کی اذیت  سے گزرنے لگا۔سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ اس کا اپنا وجود کشمکش  کا شکار ہو گیا جس کا سیدھا نقصان اس کی  اپنی  ازدواجی  زندگی کو پہنچا۔

بعد میں پیدا ہونے والے حالات و واقعات کا جیسے بھی تجزیہ کیا جائے ، یہ بات درست ہے کہ صوفیہ نے اینا کو ، مثبت یا منفی کسی بھی حوالے سے کبھی مثالی کردار نہ سمجھا ۔ایک فرضی کردار جو گہرا آتشیں رنگ پہنتی اور انگریزی ناولوں کی خوش باش ہیروئین  جیسا دکھنا چاہتی،جو  بچوں کی کتاب پہ کام کرتی ،چرس پیتی ۔۔گو کہ صوفیہ سے خاصی مماثل تھی مگر یقیناً  وہ  صوفیہ نہیں تھی۔باوجود ان تمام تحفظات کے جو اس کے شوہر کے دل میں پنپنے لگے تھے، صوفیہ نے اسے کبھی نہ چھوڑ ا،  نہ ہی کسی اور مرد سے محبت کی۔اس کے برعکس،  وہ  اپنے شوہر اور بچوں کے مزید قریب ہوتی چلی گئی ، اتنی قریب کہ شاید نہیں ہونا چاہئے تھا،  اس بات نے اسے کنارے پہ لا کھڑا کیا۔  ہر سال ایک نیا بچہ آتا اور ہر سال بچے کے ساتھ صوفیہ مزید چڑچڑی ہوتی جاتی۔ ان کی شادی کو ایک اور جھٹکا لگتا۔

کوئی دن ایسا نہ گزرتا کہ ان کا جھگڑا نہ ہوتا۔ میاں اور بیوی دونوں کی توانائیاں  بےکار کے جھگڑوں ، جن کی حیثیت  ذرے برابر بھی نہ ہوتی،میں ضائع ہو نے لگیں۔یوں ٹالسٹائی نے مزید کچھ برس  ازدواجی رشتے کی گہری دھند میں ہاتھ پاؤں مارتے گزا دئیے۔جنسی تعلق اب بھی دونوں کے درمیان ایک ربط کا ذریعہ تھا۔ مگر جب یہ تعلق بھی ٹوٹ گیا ، جو کہ ٹالسٹائی کے لئے پہلے ٹوٹا بعد میں صوفیہ کے لئے ، تو رشتے کی دھند بھی چھٹنے لگی ۔ اب جو منظر صاف ہوا تو ٹالسٹائی  وہ سب برداشت نہ کر سکا جو اس دھند نے  اب تک چھپا رکھا تھا۔

جب  وہ اپنی بیوی کی روح میں جھانکتا  تو اسے  جوانی ، امنگ اورخواب دکھتے۔ وہ یہ سب دیکھ کر خوش نہ تھا۔

جب صوفیہ اس کے دل کو پڑھتی  تو اسے خودپرستی میں گھلے ملے بے اعتنائی  کے بیج بھی دکھائی دیتے۔وہ اس بات سے بے پرواہ تھا کہ آنے والی زندگی پہ اس کا کتنا اثر پڑے گا۔ وہ اسے دیر تک دیکھا کرتا  اور حیران ہوتا کہ وہ جو آسودہ حال تھی اور بہترین حالات کی پروردہ تھی اس کے دل میں  اب بھی دنیاوی خواہشات کیوں تھیں؟

صوفیہ اسے دیکھتی تو سوچا کرتی کہ جتنےناز وہ اس کےاٹھاتی تھی اور اسے عزت دیتی تھی ،  وہ اپنی تحریروں یا اپنے خدا سے بھی زیادہ اس سے محبت کیوں نہیں کر پاتا تھا؟

جس طرح ڈاکٹر فرینکنسٹائن (میری شیلے کے ناول کا کردار)، اس مخلوق سے چھٹکارہ پانے کی کوشش میں لگا رہتا  جو اس نے خود تخلیق کی تھی ، ویسی ہی  ٹالسٹائی نے بھی کئی برس پہلے ایک نو جوان لڑکی سے شادی کر کے اسے ایک نا خوش،  جھگڑالو عورت بنا ڈالا تھا۔کچھ عرصہ اس نے صوفیہ کے ساتھ نباہ کی کوشش بھی کی، مگر اس کا  حوصلہ جلد ہی اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ اس نے اپنی بیٹی اینا لووینا کو ایک خط میں صوفیہ کےبارے شکایات بھی لکھیں۔  "ہر وقت کی جاسوسی، کان لگانا،مسلسل شکوے شکایات ،  اس پہ حکم چلاتے رہنا ، جو اس کے دماغ میں آ جائے بس ۔۔۔”  اسی سانس میں  اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ اچانک ٹالسٹائی نے  بڑی بے دردی سے کبھی نہ پلٹنے کے لئے اپنی بیوی اور اس سے متعلقہ ہر شے  سے فاصلے بڑھا لیے۔

 

پھر ایک دن وہ  اچانک گھر سے چلا گیا۔

اس شام بڑی مدت کے بعد اس نے  اپنے پہلو میں آزادی کو محسوس کیا؛  محض ایک  احساس یا تصور کے طور پہ نہیں بلکہ  اس کی موجودگی کا ادراک کیا،  بہت قریب،  بہت مضبوط اور بہت ٹھوس موجودگی ۔ اس دن  وہ چلتا رہا۔ اس نے رسیاں ٹاپیں اور چھلانگیں لگائیں۔ اس نے  اپنی پوری آواز سے وہ نغمے گائے جو کبھی کسی نے نہ سنے تھے۔

آس پاس کے کھیتوں میں کسانوں نے دیکھا کہ روس کا سب سے معتبر ناول نگار یکے بعد دیگرے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا تھا ۔ وہ سب دیکھتے رہے  اور کسی کو کچھ نہ بتایا۔ان کی اس خاموش حوصلہ افزائی کے صلے میں اسی شام ٹالسٹائی نے اپنی جائیداد  ان غریبوں میں بانٹنے کا فیصلہ کر لیا۔وہ آدمی جس کا تعلق ایک رئیس گھرانے سے تھا، جس نے بڑی محفوظ زندگی بتائی تھی ، وہ اب ان تمام  مراعات کو  تج دینے پہ مصر تھا۔

جب مادر صوفیہ نے یہ سنا تو ہتھے سے اکھڑ گئی۔  اسے یقین ہو گیا کہ کوئی عقل سے پیدل ہی اس طرح اپنی دولت لٹا سکتا ہے۔ کوئی ایسا  بےوقوف جسےاپنے بیوی بچوں کا خیال نہ ہو۔زیادہ وقت نہ گزرا ، اس کی اذیت بڑھانے کو ٹالسٹائی نے یہ عام اعلان  بھی کر دیاکہ وہ دنیاوی مال و دولت سے آزاد ہو گیا ہے۔ اس نے اپنا تمام پیسہ، اپنی تمام  تر زمین بانٹ دی۔ اس نے  وہ ضیافتیں ترک کر دیں جن کا وہ بے حد شوقین تھا۔ اس نے گوشت نہ کھانے، شکار نہ کرنے اور شراب نہ پینے کی قسم اٹھالی اور خود کو ایک دیہاتی مزدور کی طرح کام میں جوت لیا۔

صوفیہ ا نتہائی خوف کے عالم میں اس تبدیلی کا مشاہدہ کرتی رہی۔ وہ شریف انسان جس سے اس نے شادی کی تھی، وہ لکھاری جس سے اسے عشق تھااور وہ شوہر جس سے اس نے بچے پیدا کئے تھے ، کہیں کھو گیا تھا۔ اور اس کی جگہ ایک بھونڈے لباس والے مکھیوں سے ڈھکے کسان نے لے لی تھی۔یہ وہ ذلت تھی جو اس کے دل کے اند رتک  اتر چکی تھی۔

صوفیہ ٹالسٹائی کی نئی عادات کو  "سیاہ عادات” کہا کرتی گویا کہ وہ کسی مہلک بیماری کا ذکر کر رہی ہو۔ ایک ایسی وبا جس نے اس کا گھر تباہ کر دیا۔اس کے ہونٹ چبانے کے باعث پھٹنے  لگے۔ اس کا دہانہ نا خوشی کےتاثر دینے لگااور اس کا چہرہ اس  کی  عمر سے کہیں زیادہ عمر دکھانے لگا۔ اسے ایک کے بعد ایک نروس بریک ڈاون  کے دورے پڑنے لگے۔ ایک دن اس کے بیٹے لیو نے صوفیہ سے پوچھا  کہ” کیا وہ خوش ہے؟”  اس سادہ  مگر الجھے ہوئے سوال کا جواب دینے میں اسے وقت لگا۔ آخرکار  اس نے کہا کہ وہ خوش ہے۔ اس کے بیٹے نے پوچھا کہ "پھر وہ    ایک جاں نثار جیسی کیوں دکھتی ہے۔”

میاں اور بیوی کے درمیان کبھی جو محبت تھی وہ اس مرد اور عورت کو قبول نہ کر سکی جو وقت کے ساتھ وہ  دونوں بن چکے تھے، آپس میں غصہ اور رنجش بڑھاتے  بڑھاتے وہ ایک  ایسا ناسور بن گئے جس کے اندر  ہی اندر خون رستا  رہتا۔۔

آخر کار  1910  کے زرد موسم میں، اپنی بیوی کو بنا بتائے اپنی وراثت سے بے دخل کرنے کے بعد ، اور اپنے ناول کے اشاعتی حقوق اپنے ناشر کے حوالے کر کے ، ٹالسٹائی نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔  ہوش  اور بے ہوشی کے درمیان جھولتے ، جیسا  وہ اپنی بیوی کی زندگی میں  کئی دہائیاں آتا  اور جاتا  رہا ، بلآخر ایک ٹرین سٹیشن پہ جہاں وہ ایک بار پھر گھر سے جھگڑ کے آیا تھا، موت  سے جا ملا۔

وہ لکھاری  جو ادبی حلقوں میں اپنے اس دعوے سے جانا گیا کہ اصل خوشی  اپنے خاندان کے ساتھ رہنے میں ہے، اس کی  زندگی کا خاتمہ گھر سے  ، اپنی بیوی سے دور  جا کر  ہونا  ایک علامت بن جاتا ہے۔

ایک لمبے عرصے تک صوفیہ کو ایک ماں اور ایک بیوی کی نظر سے ہی دیکھا گیا۔ ٹالسٹائی کے ادبی  ورثے میں اس کی عظیم کاوشوں کو یا تو نظر انداز کیا  جاتا رہا یا ان کی اہمیت کو کم بتایا جاتا رہا ہے ۔ حال ہی میں ہم نے صوفیہ کو ایک نئے انداز سے دیکھنا شروع کیا ہے؛ بحیثیت  ایک روزنامچہ نویس کے ،  ایک ذہین اور کاروباری خاتون کے طور پہ۔ ہم اسے  ایک با صلاحیت  اور بے لوث خاتون کے  طور پہ  سراہ سکتے ہیں جس میں  بے شمار قابلیت تھی اور جس کے بہت سے  خواب ادھورے  رہ گئے۔

 

*

ایلف شفق کی کتاب Black Milk: On Motherhood and Writing  سے ایک مضمون Moon Woman

انتخاب و اردو ترجمہ: نبراس سہیل (دبئی، متحدہ عرب امارات)

Author

Related Articles

Back to top button