نظم : گُلک میں رکھا وقت / عشرت زاہد ، کراچی

ہر روز وقت کے کچھ لمہے,
میں بچا بچا کر رکھتی تھی،
لوگوں کی نظر سے پھر انکو,
میں چھپا چھپا کر رکھتی تھی۔
پھر جوڑ کر ان کو آپس میں،
کچھ گھنٹے بنا لیے میں نے،
محفوظ کیا ان گھنٹوں کو
اپنے اعمال کے گلک میں،
اس گلک کو دل میں رکھا،
اور دل پر بھی پہرے ڈالے،
سوچا تھا وقت نکالوں گی،
اور اپنے دل میں جھانکوں گی
کوئی خواہش، کوئی پچھتاوا،
یا بھید ہو کوئی چھپا ہوا،
جن کو نمٹانا باقی ہو،
وہ حساب کوئی بچا ہوا
کچھ کرنے والے کام ابھی،
یا ہو کوئی امید دبی،
کچھ خواب سنہرےدیکھےتھے،
ان کی تعبیر بھی ہے باقی،
کچھ ساتھی میرے بچپن کے
جو بیچ راہ میں بچھڑے تھے،
کچھ ان کا پتہ معلوم کروں
کچھ اپنی کہوں،
کچھ ان کی سنوں
تھا شوق کتابیں پڑھنے کا،
اور ڈھیر کتابیں رکھی ہیں،
پڑھنے کے لئے کب وقت ملا،
وہ سب پڑھنے کی خواہش ہے
کچھ وعدے کئے تھے لوگوں سے،
کہ ان سے ملنے جآئیں گے،
کچھ دعوے اپنے آپ سے تھے،
کچھ وعدے رب سے باندھے تھے۔
کچھ کام ادھورے چھوڑے تھے،
کہ بعد میں پورے کر لیں گے،
ہر بار جو ٹالا کرتے تھے،
ان کی تکمیل بھی باقی ہے۔۔
سب کچھ سوچ کے رکھا تھا،
امید کو جوڑ کے رکھا تھا،
اب بالاخر جب وقت ملا
سستانے کا، سمجھانے کا ،
اور دل کی بات بتانے کا۔
کچھ سننے کا، سنانے کا
تب گھنٹوں کا گلک توڑا،
پھر ان کو آپس میں جوڑا،
تو تھوڑے سے دن رات ملے،
جیسے کوئی سوغات ملے،
اب سوچتی ہوں، ہیں کام بہت،
اور ناکافی دن رات بہت،
اے کاش کہ پہلے کرلیتی،
ان لمحوں میں ہی جی لیتی،
جب وقت بچا کر رکھا تھا،
یہ لمحے تب ہی کام کے تھے۔
اب وقت ملا تو بھول گئے
سب خواب پرانے بھول گئے





زندگی کی وہ حقیقت وقت جس کو ہم ضائع کرتے ہیں ۔عشرت زاہد کے قلم نے اس حقیقت کو مہارت سے لکھا ۔بہت بہترین