بچوں کا ادب

اپنی دنیا آپ پیدا کر / تحریر: ثانیہ سجاد

بچوں کا ادب

ایک چھوٹے سے شہر میں حمزہ نامی لڑکا رہتا تھا۔ حمزہ ایک ذہین اور ہونہار طالب علم تھا، مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ سہولت پسند ہوتا گیا۔ اسکول کے اسائنمنٹس اور ہوم ورک کرنے میں اُسے وقت اور محنت درکار ہوتی ، جو اُسے پسند نہیں تھی۔۔۔

پھر ایک دن، حمزہ نے اپنے موبائل پر ایک ایپ دیکھی — AI۔۔۔یعنی مصنوعی ذہانت ۔۔۔اس نے سوچا، "کیوں نہ یہ میرے ہوم ورک میں میری مدد کرے؟” اگلے دن سے حمزہ نے ہر اسائنمنٹ، ہر مضمون اور ہر سوال کا جواب AI سے لینا شروع کر دیا۔ جلد ہی وہ اسکول میں سب سے آگے ہو گیا۔ استاد اُس کی تعریف کرتے، ساتھی اُس سے مدد مانگتے
مگر اصل علم اور حقیقی محنت؟ وہ تو کہیں پس منظر میں رہ گیا تھا۔

وقت گزرتا گیا، امتحانات قریب آئے۔ حمزہ کو لگا کہ جیسے ہمیشہ کی طرح AI ہی سب سنبھال لے گا۔ مگر اسکول نے اس بار "انٹرنیٹ فری” امتحان رکھا۔ حمزہ جب امتحانی مرکز میں بیٹھا تو سوالوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ اُسے کچھ یاد نہیں تھا، نہ فارمولے، نہ مفاہیم، نہ تجزیے۔ اُس کی دھڑکن تیز ہو گئی، ہاتھ کانپنے لگے۔۔۔متوقع ناکامی کا سوچ کر وہ گھبرا گیا ۔۔۔

امتحان کے بعد حمزہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اُسے احساس ہوا کہ اُس نے علم حاصل کرنے کے بجائے صرف نمبروں کے پیچھے دوڑ لگائی۔ AI اُس کی مدد تو کرتا رہا، مگر اُس نے اُسے خود سیکھنے کا موقع نہیں دیا۔

اُس رات حمزہ نے اپنے دل میں فیصلہ کیا:

"اب میں AI کا استعمال صرف سیکھنے کے لیے کروں گا، نہ کہ اس پر مکمل انحصار کر کے محنت سے بھاگوں گا۔”

وقت کے ساتھ حمزہ نے دوبارہ محنت کی، کتابیں پڑھیں، استادوں سے سوال کیے، اور جب اگلا امتحان آیا، تو وہ پورے اعتماد کے ساتھ بیٹھا۔ اب کے بار کامیابی اُس کی اپنی تھی۔۔۔اس کی اپنی محنت کا ثمر ۔۔۔
سو بچو ! مصنوعی ذہانت سے فائدہ ضرور اٹھائیں مگر اس پر مکمل انحصار کرکے اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود نہ کریں ۔

Author

Related Articles

Back to top button