اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / درون شب کئی سرار کھولتا ہوں میں / قمر رضا شہزاد
غزل
درونِ شب کئی اسرار کھولتا ہوں میں
خموش ہوتی ہے دنیا تو بولتا ہوں میں
ابھی کھلے نہیں مجھ پر ترے جمال کے رنگ
ترا بدن تو ہر اک شب ٹٹولتا ہوں میں
مرے لئے تو یہی ہے توازنِ ہستی
زمین ڈولنے لگتی ہے ڈولتا ہوں میں
مرے ترازو میں کتنے ہوئے گناہ و ثواب
تمام دن انہی اشیا کو تولتا ہوں میں
چھپا کے رکھتا ہوں دنیا سے جس میں اپنے خواب
پھر ایک دن اسی گٹھڑی کو کھولتا ہوں میں




