حامد یزدانی اور مسعود قمر کی نئی کتابیں / تبصرہ : نصیر احمد ناصر

چند روز قبل سانجھ پبلیکیشنز کی طرف سے دو کتابیں "موت سے خالی ردی کی ٹوکری” اور "کسی اور ساحل سے” موصول ہوئیں۔ یہ پوسٹ ان کی رسید ہے۔ "موت سے خالی ردی کی ٹوکری” مسعود قمر مرحوم کی نثری نظموں کی کتاب ہے۔ اس کی اہمیت یوں ہے کہ یہ ان کی وفات سے فوری بعد شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کے فیس بک کے دوست ادیبوں، شاعروں اور شاعرات کے لیے نظموں پہ مشتمل اور ان سے محبت کی آئینہ دار ہے، جن میں ثمین بلوچ نمایاں ہیں۔ کتاب میں ثمین بلوچ کے لیے ایک سے زیادہ نظمیں اور ثمین بلوچ کی قمر مسعود کے لیے ایک نظم بھی شامل ہے۔ کتاب بھی ثمین بلوچ کے نام ہے۔ ان کے دوستوں و ممدوحین میں ثبات گل، نازیہ نگارش، سحر علی، ناجیہ احمد، شائستہ کوثر، منیرہ سورتی، سائرہ شیرازی، عائشہ شمع، صائمہ صمیم، سمیرا حمید، ہما شاہ، نبیلہ عصمت، انجلا ہمیش، مریم ملک، تحریم ڈوگر، نسیم سکینہ صدف، نجمہ منصور، مہر زیدی، ظفر اقبال شاہین، سلام قریشی، بابر شاہین، علی محمد فرشی، شہزاد دستی، فضل حسین راہی، نجم صدیقی، ریاض الحسن، عاصم جی حسین، الیاس اسد، کامران اعوان، ناصر عباس نیر، رانا غضنفر عباس اور کئی دیگر پر نظمیں شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نثری نظموں کی اس کتاب کا پیش لفظ فرخ یار نے لکھا ہے جو نثری نظم اور نثری نظم لکھنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ کتاب میں شامل ایک نظم ” جسم پہ پھیلتا ہوا بوسہ” جو مسعود قمر نے اپنی دوست ثبات گل کے لیے لکھی:
میں ہر رات تمہیں
خواب میں دیکھنے کے لیے
نیند لیتا ہوں
مگر ۔۔۔ ساری رات جاگتا رہتا ہوں
اور تمہیں دیکھتا رہتا ہوں
خواہش ایک مقصد رکھتی ہے
اور مقصد صرف
خواہش کے ذریعے پیدا ہوتا ہے
دشمن پہ گولی چلانے سے پہلے
اچانک
محبوبہ کا بوسہ لینے کی خواہش
دشمن کی زندگی کو لمبا کر سکتی ہے
مگر دشمن کی گولی
تمہارے ہونٹوں پر پڑے بوسے کو
خونی بوسے میں تبدیل کر کے
بوسے کو
سارے جسم پہ پھیلا سکتی ہے
اس سے پہلے
بے خواب نیند میں
ہماری شکلیں مسخ ہو جائیں
آؤ
ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے
جگراتے والی نیند سو جائیں

دوسری کتاب "کسی اور ساحل سے” کینیڈا میں مقیم ممتاز شاعر حامد یزدانی کی ترجمہ کردہ منتخب عالمی نظموں پہ مشتمل ہے۔ حامد یزدانی کو میں فنون اور اوراق کے زمانے سے جانتا ہوں۔ یہ ایک اچھی اور اہم کتاب ہے جس میں کینیڈین، انگریزی، آئرش، امریکی، فرانسیسی، جرمن، یوکرینی، اندلس شعرا کی عربی اور بنگالی شاعری شامل ہے۔ جیسا کہ انہوں نے حرفِ آغاز میں لکھا ہے کہ یہ ان کی ذاتی پسند کی نظمیں ہیں شاید اسی لیے اس میں گلوب کے دیگر کئی اہم ملکوں اور علاقوں کی شاعری شامل نہیں ہے۔ یہ کتاب نامور مترجم، شاعر، ادیب اور مدیر جناب محمد سلیم الرحمٰن اور شاعر و ادیب و مدیر جناب خالد علیم کے نام ہے۔ اس کا پیش لفظ شاہدہ حسن کا تحریر کردہ ہے۔ پیش لفظ کے بعد خالد سہیل کے تحسینی الفاظ بھی شاملِ کتاب ہیں۔ اس خوبصورت انتخاب میں میرے پسندیدہ کینیڈا کے مشہور گلوکار، نغمہ نگار، شاعر اور ناول نگار لینرڈ کوہن (Leanord Cohen) کی دو نظمیں اور معروف عالمی ادیبہ شاعرہ نقاد مارگریٹ ایٹ وُڈ (Margarette Atwood) کی دو نظمیں بھی شامل ہیں۔
"یہ دیر سے آنے والی نظمیں ہیں
زیادہ تر نظمیں ویسے بھی دیر ہی سے آتی ہیں
کسی جہازران کے بھیجے ہوئے خط کی طرح
جو اُس کے ڈوب جانے کے بعد پہنچتا ہے
اتنی تاخیر سے کہ اس کا کچھ فائدہ باقی نہیں رہتا، ایسے خط
اور دیر سے آنے والی نظمیں ایک سی ہوتی ہیں
ایسے آتی ہیں گویا ابی راستے سے آئی ہوں”
(مارگریٹ ایٹ وڈ کی "دیر سے آنے والی نظمیں” سے اقتباس)
مذکورہ دونوں کتابیں ارسال کرنے پر سانجھ پبلی کیشنز کا شکریہ




