بے عیب لڑکیاں تلاش کرتی ساس / زرنش احمد

آج میں آپ سے چند ایسی باتیں کرنا چاہتی ہوں جو بہت ضروری ہیں امید ہے آپ ان کو منفی رنگ نہیں دیں گے۔کوکنگ کے حوالے سے ایک کام میں میں انتہائی پھوہڑ ہوں وہ ہے ” تندور پر روٹیاں لگانا” ویسے کبھی نوبت بھی نہیں آئی لیکن ایک بار پھپھو کے گھر گئی وہ تندوری پر روٹیاں لگا رہی تھیں ، دیکھ کر دل کیا کہ میں بھی لگاؤں مگر تندور کے اندر جھانکتے ہی میرا سارا شوق پانی کی طرح بہہ گیا۔
پھپھو نے طعنہ مارا کہ چھوڑو تم سے نہیں ہوگا آج کل کی لڑکیاں اتنی نازک ہوتی ہیں کہ زرا سی آگ برداشت نہیں کر پاتیں۔پھپھو کا طعنہ سن کر میری غیرت جاگی میں نے ان کے ہاتھ سے روٹی کا پیڑا لے کر روٹی کو ہاتھوں سے بیلنے کی ناکام کوشش کرتے ہوتے زور سے تندور کے اندر روٹی چپکا دی مگر جب روٹی اتارنے لگی تو پکڑتے پکڑتے نیچے گر گئی پھپھو نے ایک بار پھر شدید قسم کا طعنہ مارا۔ تم سے ایک روٹی نہیں سنبھالی گئی پورا سسرال کیسے سنبھالو گی۔
میں نے بھی منہ بسور کر جوابا ً کہا پھپھو جی! سارے کام تو کر لیتی ہوں بس ایک یہ کام ہی کرنا نہیں آتا۔تو پھپھو نے بھی منہ چڑا کر کہا دوسروں کی لڑکیاں ہر کام میں ماہر ہوتی ہیں۔
بس ہماری لڑکیاں ہی پھوہڑ، ناکارہ اور کام چور ہیں۔تب میں نے پھپھو کو دعا دی کہ اللہ آپ کو آپ جیسی بہو دے جس پر پھپھو نے خوشدلی سے آمین کہا۔
یقین کریں میں پھپھو کے گھر سارے کام کرتی تھی ان کے گھر کی صفائیاں کرتی تھی، برتن دھوتی تھی، ان کے اور ان کے بچوں کے ڈھیر سارے کپڑے پریس کرتی تھی، تین ٹائم کھانا بناتی تھی، اللہ نے ان کو بیٹی نہیں دی تو ان کے بیٹے ہی ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ پھوپھا جی نے زیادہ عرصہ بیرون ملک گزرا۔
میں ماما جانی سے بہت خفا ہوتی تھی کہ آپ مجھ پر ظلم کرتی ہیں پھپھو کے گھر بھیج کر، مگر مجبوری تھی ان کی بیماری میں ان کا ساتھ دینے والا اور کوئی نہیں تھا۔
نہ نند تھی نا ہی کوئی دیوارنی جیٹھانی اس لیے 17 سال کی عمر میں میں نے ان کا بہت ہاتھ بٹایا۔ موسم گرما میں جو تین ماہ سکول سے چھٹیاں ہوتی تھیں ان میں پھپھو کے پاس بھیج دیتی تھیں۔پھر جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی میرے رشتے آنا شروع ہوگئے ۔میری یہی پھپھو چاہتی تھیں کہ میری شادی خالہ کے بیٹے سے ہو۔جبکہ ان کے اپنے دو بیٹے شادی کے لائق تھے۔و چاہتیں تو اپنے کسی بیٹے کے لیے مجھے مانگ لیتیں
مگر خیر مجھے بھی زرا برابر دلچسپی نہ تھی۔بلکہ میں تو خود ان سے جان چھڑوانا چاہتی تھی۔میرا دل اکتا چکا تھا ان کے پاس رہتے رہتے۔پھر جب میری شادی میری ماما کی کزن کے بیٹے سے ہوئی تو وہ افسردہ ہوگئیں، میری شادی کے بعد جب جب میں ان سے ملتی وہ میرے سسرال کی قسمت پر رشک کرتیں۔پھر دعائیں کرتی تھیں مجھے سگھڑ بہو ملے۔مگر ان کو ان کی پسند کی بہو نہ ملی۔ان کو پرفیکٹ بہو چاہیے تھی جس میں سارے گُن ہوں۔خیر سارے گُن تو مجھ میں بھی نہیں تھے۔
ہر انسان اچھائیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔مگر یہ بات سب نہیں سمجھ پاتے۔
میری شادی کے بعد ان کو رشک اس بات پر آتا کہ شادی ہوتے ہی میں نے سسرالی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا تھا۔
جہاں انہوں نے میرا رشتہ کروانا چاہا تھا انہوں نے بھی مجھے ٹھکرا دیا تھا۔ یہ کہہ کر کے لڑکی بہت سادہ ہے، تھوڑی بہت تو فیشن ایبل ہو۔جب ان کے لڑکے کی شادی ہوئی ان کو اتنی فیشن ایبل بہو ملی کہ اس نے سب کو ناکوں چنے چبوائے۔
سسرالیوں کو ذلیل و خوار کیا۔وہ رشتہ زیادہ دیر نہ چلا ان کے بیٹے کو طلاق ہو گئی۔اب یہ سب سوچتی ہوں تو بہت دکھ ہوتا ہے بلکہ رونا آتا ہے۔
ہم ناشکری کیوں کرتے ہیں، ہمیں چیزوں اور لوگوں کی قدر تب ہوتی ہے جب وہ کسی اور کی دسترس میں چلی جاتی ہیں۔
اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کی بناء پر مجھے حقیر سمجھا جاتا رہا میرے ساتھ نا انصافی کی جاتی رہی، میں تو کسی کو بد دعا نہیں دیتی ۔ خاموش ہوجاتی ہوں اور شاید اُسی خاموشی کا یہ صلہ ملا کہ اللہ نے مجھے قدر دان لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا۔
یہ باتیں شئیر کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم کسی کو بھی حقیر نہ سمجھیں ہوسکتا ہے کہ بظاہر بیوقوف نظر آنے والے آپ کو بہت خوش رکھیں آپ کی توقعات پر اتریں۔
ہمیں انسان کو انسان ہونے کا مارجن دینا چاہیے نہ کہ اسے فرشتہ سمجھیں اگر فرشتہ صفت لوگ ڈھونڈیں گے تو ان کو بھی کھو دیں گے جن میں انسانیت ہے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کم خوبیاں پر اکتفا نہیں کرتے۔ہمیں عبیوں سے پاک انسان چاہئیں۔ ہماری یہی غلطی بہترین کے چکر میں بہتر کو بھی گنوا دیتی ہے۔ اردگرد کے یہی حالات ہیں، اکثر لڑکیوں کی ساس یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہے کہ ہماری بہو کو فلاں کام نہیں آتا!کوئی بات نہیں اگر نہیں آتا تو آپ سکھا سکتی ہیں تو سکھا دیں ورنہ جو کام اس کو کرنے آتے ہیں ان پر ہی گزارا کرلیں۔وہ میرج پیپر پر یہ سائن کروا کر نہیں آتی کہ سسرال کا ہر کام کرے گی۔ سمجھدار عورت ہوتی ہے وہ بہو کے عیب اچھالنے کے بجائے اس کے عیبوں کو اچھائیوں میں بدل دیتی ہے۔ بس دل کو تھوڑا کشادہ کرنا پڑتا ہے، ظرف کو تھوڑا بلند کرناپڑتا ہے تبھی یہ ممکن ہوتا ہے۔کاش! ہم اس بات کو سمجھ سکیں۔




