اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / شرم آتی ہے محبت کا تقاضہ کر کے / مبین دھریجو
غزل
شرم آتی ہے محبت کا تقاضہ کر کے
ترک کر دیتا ہے وہ شخص ارادہ کر کے
ماتھا چوما تو مجھے اور کوئی یاد آیا
پھر غزل چھوڑ دی میں نے وہیں مطلع کر کے
اِس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں میرے لیے
میں بہت خوش ہوں ترے نام کا گریہ کر کے
اُس کو آتا ہی نہیں میرا مکمل ہونا
چھوڑ دیتا ہے وہ تکلیف کو آدھا کر کے
کارِ بے کار میں اس درجہ سہولت تھی مجھے
کچھ بھی دیکھا نہ کبھی اِس کے علاوہ کر کے
اُس کے پہلو میں کوئی اور چمکتا ہے مبین
میں نے دیکھا ہے کئی بار اندھیرا کر کے




