منتخب کالم

بلوچستان اور بھارت/ علی انوار



پاکستان میں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے الزامات کئی سالوں سے سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت، سکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کئی بار ثبوتوں کے ساتھ دعویٰ کر چکی ہیں کہ بھارت، خاص طور پر اس کی خفیہ ایجنسی "را”، پاکستان میں انتشار پھیلانے میں ملوث ہے۔ بھارت کی مداخلت کا واضح ثبوت مارچ 2016ء  میں بلوچستان سے بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جو جعلی شناخت کے ساتھ پاکستان میں موجود تھا۔ کلبھوشن یادیو کا اپنا اعترافی بیان موجود ہے کہ وہ "را” کا ایجنٹ تھا اور بلوچستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ اس نے اپنے اعترافی بیان میں بلوچستان اور کراچی میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے۔پاکستان نے کئی بار عالمی دنیا کو بھی ثبوت دیئے ہیں کہ بھارت بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کو مالی و عسکری مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان گروہوں نے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے کیے، جن میں گوادر، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور چینی منصوبوں پر حملے شامل ہیں اور حال ہی میں جعفر ایکسپریس پر حملے میں بھی یہی دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ بھارت، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نقصان پہنچانے کے لیے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ گوادر میں چینی انجینئرز پر ہونے والے حملے اور کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں بھی بھارتی سرپرستی کے شواہد سامنے آئے ہیں گئے۔ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں بھارت کے خلاف ثبوت پیش کیے۔ 2020ء میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک ڈوزیئر جمع کرایا، جس میں بھارتی دہشت گردی کے شواہد فراہم کیے گئے۔ چین اور ترکیہ جیسے ممالک نے کئی بار پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ مغربی ممالک نے ہمیشہ اس پر چپ سادھے رکھی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی اور بھارت کی مبینہ مداخلت ایک حساس معاملہ ہے۔ پاکستان کے پاس واضح ثبوت ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سب سے اہم ہے۔
 جس طرح سے بلوچستان میں ایک بار پھر بد امنی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پنجاب سے مزدوری کیلئے جانے والے غریب لوگوں کو مارا جا رہا ہے لیکن اپنے آپ کو بلوچستان کے لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی ماہرنگ بلوچ نے آج تک پنجابی مزدوروں کو مارنے والوں کی مذمت نہیں کی اور اب جبکہ جن افراد کے۔ مسنگ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا وہ جعفر ایکسپریس پر حملے میں فوج کے ہاتھوں مارے گئے تو الٹا ریاست کے خلاف ہی الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست مخالف عناصر کو ان ہی کی زبان میں جواب دیا جائے اور ہارڈ اسٹیٹ بننے کا جو سفر شروع کیا گیا ہے اس میں مزید سختی لائی جائے تاکہ دہشت گردوں کو کہیں بھی جائے پناہ نہ مل سکے۔
نوٹ: آرمی چیف جنرل سید عام منیر کی والدہ انتقال فرما گئیں ہیں جو یقیناً ان کے لیے ایک غم کی گھڑی ہے اللہ تعالیٰ انھیں اس صدمے سے نکلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنی والدہ کی نماز جنازہ خود ادا کی جو اس بات کا مظہر ہے کہ مرحومہ نے اپنے بچوں کی تربیت عین اسلامی اصولوں کے مطابق کی ہے کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئیں تو ان کے اپنے بیٹے نے نماز جنازہ ادا کی جو یقیناً والدین کے لیے نیک بختی کی علامت ہے اور پاکستان کے لیے بھی فخر ہے کہ ہمارا آرمی چیف دین و دنیا دونوں کا علم بخوبی جانتا ہے۔
٭…٭…٭





Source link

Author

Related Articles

Back to top button