اقبال اور ڈاکٹر عابد شیروانی/ صدام ساگر

ڈاکٹر عابد شیروانی نے کلامِ اقبال کو دل میں راسخ کرنے کے بعد ان کے افکار کو لاشعور میں جذب کرلیا ہے اور پھر رفتہ رفتہ ان افکارِ عالیہ کو وہ نہایت سلیس اور آسان فہم پیرائے میں قارئین، ناقدین، طالبانِ علم و ادب اور مشاہیر و محققین کے سامنے لارہے ہیں۔ جو لوگ اقبال کی شاعری کو دقیق اور مشکل سمجھ کر چھوڑ رہے تھے شیروانی صاحب کی تشریحات سے وہ بھی کلامِ اقبال کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اقبال کی فکری کاوشوں کا ذکر شیروانی صاحب نے بڑے محکم انداز میں کیا ہے جو قارئین کے دلوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ ہم شیروانی صاحب کی پہلی کاوش کو اقبال شناسی، دوسری کو تفہیم اقبال اور تیسری کاوش کو فکرِ اقبال کی تفسیر سے تعبیر کرسکتے ہیں،کیوں کہ علامہ اقبال وہ واحد شاعر ہیں جن کے دل میں ملتِ اسلامیہ کا سب سے زیادہ درد تھا اور وہ مسلمانانِ عالمِ اسلام کی زبوں حالی پر تڑپتے رہتے تھے کیوں کہ اقبال کی نظر میں ملتِ اسلامیہ کا وہ وقار بھی تھا جب وہ آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرتے تھے اور شان وشوکت سے جیتے تھے اور امروز مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے تھے تو اقبال نے خصوصاً مسلمانانِ پاک و ہند کی غیرت کو جگانے کے لیے سخن کا سہارا لیا اور ان کو بتایا کہ تمہارے آباؤ اجداد کیا تھے او رتم کیا ہو۔ شیروانی صاحب نے علامہ اقبال کے اس درد اور تڑپ کو دل سے محسوس کیا اور دانش مندانہ قدم اُٹھایا کہ وہ اقبال کی اس فکر و پیغام کا پرچار کریں اور آج کے طالب علم او رنوجوانوں کو اقبال کے ادبِ عالیہ سے آشنا کریں اور ان کے افکارِ عالیہ کو اس دور کے نوجوان اور طالب علموں کے اذہان و قلوب میں راسخ کریں تاکہ وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کی پھر سے تگ و دو کریں۔ شیروانی صاحب کے اس دانش مندانہ قدم اور دانائی کے سینکڑوں لوگ گرویدہ ہوچکے ہیں اور روز بہ روز ان کے مداحین میں اضافہ در اضافہ ہورہا ہے۔
شیروانی صاحب نے اس بات پر بھی توجہ دی ہے کہ علامہ اقبال نے عقل کی بات نہ ماننے اور دل کے مشورے پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے یعنی عشق کو اپنا راہبر و راہنما بنایا ہے۔ اس لیے اقبال نے کہا:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
عشق انسان کو وجدان کی روشنی اور فکر و نظر کا اُجالا عطا کرتا ہے۔ اسی اُجالے سے علامہ اقبال نے اپنے دور کے انسان خصوصاً مسلمان کے اذہان و قلوب کو جِلا بخشنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اسی لیے شیروانی صاحب نے اقبال کی سوچ اور فکر، ان کے نظریے اور فلسفہئ خودی کو خوب اُجاگر کیا ہے۔ اُنہوں نے نظریہئ حیات و کائنات کی تشریح بھی کی ہے اور اس دنیا کی بھی بات کی ہے جو اقبال کی نظر میں تھی اور اقبال اس دنیا کو جیسا دیکھنا چاہتے تھے وہ تصور بھی پیش کیا ہے۔ اقبال کسی الگ نظریے کے حامل نہ تھے بلکہ ان کی فکر و نظر کا مرکز و محور دینِ اسلام او رنقوشِ پائے رسولﷺ اور احادیثِ نبویﷺ تھیں جن کی روشنی میں اُنہوں نے اپنے پورے کلام کی بنیاد رکھی ہے۔ وہ روحِ قرآن کو سمجھتے ہیں اور اس سے علمیت کا نور لے کر پُرنور ہوتے ہیں۔ ان کا دل عشقِ مصطفیﷺ سے لبریز ہے اور وہ شعارِ اسلامیہ سے سرشار نظر آتے ہیں۔ قرآن کی تفسیر و ترجمہ اور اس کی سمجھ بوجھ ہی نے اقبال کو اقبال بنایا تھا۔ اسی لیے ان کے تمام کلام میں اسلام، تاریخِ اسلام اور اسلامی تفہیمات کی بھرمار ہے۔ شیروانی صاحب نے کلامِ اقبال کی انہی تمام خوبیوں اوراوصاف کو اُجاگر کیا ہے۔اقبال کا ایک نعتیہ خیال یاد آ رہا ہے کہ:
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
شیروانی صاحب ایک وسیع المطالعہ فرد ہیں جن کی نظر میں ادبِ عالیہ کا رس سمایا ہوا ہے۔ وہ کلاسیک کی روح سے واقف ہیں اور اُردو ادب عالیہ سے واقف بھی ہیں۔ وہ زبان و بیان پر خاصی دسترس رکھتے ہیں۔ ان کا مزاج تلاش وجستجو سے معمو رہے۔ ان میں تنقید لکھنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ شیروانی صاحب کی یہ تینوں کتابیں بھی اُردو ادبِ عالیہ میں شمار ہوں گی کیوں کہ ان سے نہ صرف اقبالیات کے ذخیرے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اُردو ادب کا دامن بھی مالا مال ہوا ہے او ریہ تاریخ اُردو ادب کا حصہ بھی بنے گا۔
کسی بھی تحریر میں چند خوبیاں اسے اچھا بناتی ہیں او ریہی بعض خوبیاں شیروانی صاحب کی نثر نگاری کو ضرو ربڑا بنادیں گی کیوں کہ وہ تواتر سے لکھ رہے ہیں اور تسلسل سے اپنے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں او راپنی نثر نگاری کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ حتی المقدور اپنے نثری ادب کو کلامِ اقبال کی مزید تشریحات کی تازہ کاری سے سجانے میں مصروف ہیں جس نے ان کو عہدِ حاضر کے معتبر نثر نگاروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔




