سلام
سلام /گلوئے خشک نے ایڑی سے تخت الٹائے/ارشاد نیازی

سلام
ارشاد نیازی
کچھ اس لیے بھی تھے لشکر تمام گھبرائے
گلوئے خشک نے ایڑی سے تخت الٹائے
خدا کرے کہ تمہاری بھی ایک بیٹی ہو
تمہیں حُسین کی بیٹی کا دُکھ سمجھ آئے
بتاؤں کیسے کہ اکبر حسین کتنے ہیں
سمجھ لو چاند جنہیں دیکھ کر ہے شرمائے
ابھی تلک جو معطر زمینِ کربل ہے
حسینی خون کی تاثیر دشت مہکائے
کبھی لحد پہ کسی پیڑ کا نہ سایہ کیا
کبھی جنازے پہ لوگوں نے تیر برسائے
یہ جانتے ہوئے تم دن ہے دس محرم کا
ہمیں یہ پوچھتے ہو چہرے کیوں ہیں مرجھائے
چراغِ خیمہ بجھایا گیا تھا سچ ہے مگر
حسین چھوڑ کے کوئی بھلا کہاں جائے
بس ایک نعرہ ء حیدر بجز نہیں کچھ بھی
بدن کو سونپے جو قوت لہو کو گرمائے
جسے کہیں سے میسر شِفا نہ ہو ارشاد
ہے مشورہ کہ وہ لنگر حسین کا کھائے

