غزل
غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

غزل
سید ضیاء حسین
مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے
ہو سکے درد کا درماں تو کِیا بھی جائے
سوچتا رہتا ہوں، اِک بات کہوں میں کُھل کر
اِتنی ہمت تو مِلے، اُن سے کہا بھی جائے
تیری تصویر جو دیکھی تو یہ خواہش جاگی
تجھ سے اِک بار، بہر طَور مِلا بھی جائے
عشق کرنا ہے تو پھر مت کرو آہ و زاری
منتخب درد کِیا ہے تو سہا بھی جائے
سچ ہی کہنا ہے اگر، چُپکے سے دِل میں کہہ لو
اِتنا اونچا نہ کہو تم کہ سُنا بھی جائے
رات لمبی ہے کبھی دن بھی تو لمبے ہوں گے
ظُلم اُتنا ہی کرو، خود سے سَہا بھی جائے
جو وسائِل ہیں، کرو اُن میں گزارا لڑکی
ورنہ ممکن ہے کہ پھر سَر سے رِدا بھی جائے
پِھرتے رہتے ہو ضیاؔ! کھوج میں جانے کِس کی
گھر بنایا ہے تو پِھر اِس میں رہا بھی جائے




