غزل

غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

غزل

فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے 

اٹکا کھجور میں جو گرا آسمان سے 

میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ 

اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے 

یہ شہر خواب گاہ ہے عصرِ جدید کی 

جاگے گا کون مرغِ سحر کی اذان سے 

آباد ہیں پہاڑ کے دامن میں بستیاں 

آتے ہیں روز ٹوٹ کے پتھر چٹان سے 

فی الحال میرے کیس کو خارج نہ کیجیے 

میں منحرف نہیں ہؤا اپنے بیان سے 

ملبوسِ زندگی کئی ڈیزائنوں میں تھا 

ہم نے لباسِ دار خریدا دکان سے 

سب گیدڑوں کی جان میں پھر جان آ گئی 

چیتا شکار ہو گیا اونچی مچان سے 

اک بات تھی جو منہ سے نکالی نہیں گئی 

اک تیر تھا جو نکلا نہیں ہے کمان سے 

شاید مرے عقب میں مری اپنی ذات ہے 

آتے ہیں دور دور نظر کچھ نشان سے 

کوئی نسیم وقت کو کیسے شکست دے 

بوڑھے کا کیا مقابلہ کڑیل جوان سے

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x