اُف یہ گاؤن (حصہ اول)/ ملک اسلم ہمشیرا, احمد پور شرقیہ

ملک ِخداداد پاکستان کے تمام معلمین جب بھوک و افلاس سے ہلکان ہوئے تو زنجیرِ عدل ہلانے شہرِ اقتدار جا پہنچے۔۔۔۔
بقول شاعر
وضو کو مانگ کے پانی خجل نا کر اے میر۔۔۔۔
یہاں تو وہ مفلسی ہے کہ تیّمم کو گھر میں خاک نہیں۔۔۔۔
شہرِاقتدار جا کر معلوم ہوا کہ یہاں
(سب کی ماں) نامی ایک ملکۂ عالیہ جلالیہ کمالیہ تخت نشین ہے جوکہ بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں۔۔۔
چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں مدرسین مرد و زن مراعات کا فیض پانے آستانۂْ عالیہ شریفۂ سکندریہ کی چوکھٹ پر خیمہ زن ہو گئے۔۔۔۔
اس امیدِ ناز پر کہ نوازے جائیں گے چوکھٹ ِنواز پر سر رکھ کر پڑے رہے۔۔۔۔۔دن گزر گیا رات گزر گئ۔۔دوسرا دن گزر گیا۔۔۔پھر ایک اور رات گزر گئ۔مگر کہیں سے بھی کوئی صدائے خوش گلو نا آئی ۔۔۔
معلمین سلطنت چِلا کشی کرتے رہے اور زنجیرِعدل ہلاتے رہے مگر محل سے کوئی ایک چموٹا تک بھی برآمد نا ہوا۔۔۔۔دن گزرتے گئے ہفتہ گزر گیا تنگ آکر سینکڑوں مدرسین زنجیرِ عدل زور سے ہلاتے رھے بلکہ اس پر لٹک گئے مگر شومئی قسمت وہ زنجیر عدل اساتذہ کی گریہ و زاری کا بوجھ برداشت نا کر سکی اور دس من وزنی طلائی زنجیر نیچے آ گری۔۔۔۔
معلمین سمجھے کہ اس سونے کی زنجیر سے تولہ تولہ لے جائیں گے مگر جب زنجیر عدل کا بنظرِ عمیق جائزہ لیا گیا تو یہ بھی حکمرانوں کی طرح جعلی و باندی نکلی۔۔یہ کسی خاند انی لوہار سے بنوائی گئی تھی۔جس نے لوہے پر سونے کا پانی چڑھایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار ماہ صیام کا مقدس مہینہ آ پہنچا معلمین ومدرسین کی أہ و بکا عرش کے خدا تک تو پہنچ رہی تھی۔۔۔ مگر فرش کے خدا تحاہلِ عارفانہ بنے تماشۂ اہل علم دیکھتے رہے۔۔۔
آخر کار بتاریخ الثانی شھر رمضان سہہ شنبہ کو لاکھوں معلمین کی اُمید بر آئی اور دربارِسکندریہ سے ایک سیاہ چُغہ عطا ہوا۔۔۔۔ارشادِ ظلِِّ الہی ہوا کہ تمام معلمین کو خرقہ نوازیہ سے نوازا جا رہا ہے۔۔۔اس کے درج ذیل فائدے ہیں۔۔۔۔۔
1.اس کو پہننے سے آپکی عزت میں 41 کلو گرام فی استاد اضافہ ہو گا۔۔۔۔۔۔
2.. اس کے پہننے سے آپ کو بھوک پیاس نہیں لگے گی۔۔أپ اس کو پہن کر روزہ رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔
3.. اس درویشی چغے کو پہن کر اگر آپ خود کشی کا ارادہ فرمانے کی غرض سے ساتویں منزل سے بھی چھال ماریں گے تو مریں گے نہیں۔۔۔۔۔۔۔
4.. اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے اگر بیوی بچے عید کے کپڑے جُتی کی فرمائش کریں تو اس سلیمانی چغے کو پہن کر عمرو عیار کی طرح غائب ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔
5.. اس کا ایک فائدہ دیہاتی اساتذہ کو یہ بھی ہے کہ اس کے اندر دیسی انڈے چھپائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
بہرحال ان گنت فیوض و برکات کا منبہ وہ چغہ لے کر ہم واپس گھر پہنچے اور بیگم عالیہ کالیہ جلالیہ کے قدموں میں گر گئے۔۔۔۔۔۔
بیگم نے اپنے مجازیٔ خدا کو اپنے قدموں سے اٹھایا فرمایا کہ مجھے گناہ گار نا کریں مانگ کیا مانگتا ہے۔۔۔۔۔۔
مگر استاد جو فضاحت بلاغت کے پیکر ہوتے ہیں مگر یہاں ان سے کپکپاتے لب الفاظوں کو جوڑ نہیں پا رہے تھے۔۔۔آخر جب بیگم نے اصرار کیا کہ کیا چاہتا ہے؟؟؟؟تو بلولدا کیوں نئیں؟؟؟؟مانگ اور بھی کچھ مانگ۔۔۔۔۔
استاد محترم کی بھیگی پلکوں تر آنکھوں لرزتے ہونٹوں سے بس اتنا نکلا۔۔۔۔
۔
اپنا پرانا۔۔۔۔۔۔کالا۔۔۔برقعہ۔۔۔۔۔۔
جاری ھے




