اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب : میری زندگی/انتوں چیخوف, تبصرہ نگار/ محمد شاہد محمود، فیصل آباد

کتاب: "میری زندگی” ناولٹ اور دوسری کہانیاں
مصنف: انتون چیخوف
روسی اور انگریزی سے اردو ترجمہ: عقیلہ منصور جدون

چیخوف کی وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ افسانہ میں غیر ضروری منظر نگاری کے سخت خلاف تھا۔ یہی اصول چیخوف کا لکھا منفرد و ممتاز بناتا ہے۔ عصرِ رواں میں ہی دیکھ لیجیے کہ ڈوبتا یا نکلتا سورج، سورج کی کرنیں، کرنوں کی زد میں کچی بستی، کچی بستی سے ملحقہ ریلوے لائن، ریلوے لائن کے قریب اگی خود رو جھاریاں اور جھاڑیوں کی اوٹ میں رفع حاجت کرتے ہوئے بچے۔ ایسی خرافات منظر نگاری کے نام پر ڈیڑھ دو صفحات پر محیط پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اس کے بعد شمائلہ، جمشید سے سوال کرتی ہے کہ "کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟” جبکہ کہانی میں کسی بھی کردار کا اس منظر نامے سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی ایسا لکھا جا رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ چیخوف کے افسانے منظر نگاری سے عاری ہیں۔ چیخوف کے افسانوں میں متعدد بار ایک سے ڈیڑھ صفحہ پر منظر نگاری پرھنے کو ملتی ہے۔ چیخوف کے مطابق جزیات نگاری میں ضم منظر نگاری ایسی ہونی چاہیے کہ جس کا تانا بانا پلاٹ یا کردار کے ساتھ جڑا ہوا ہو نا کہ بے سروپا و غیر ضروری ہو۔ چیخوف اسی اصول کا قائل تھا۔ یہ کتاب پانج تراجم کا مجموعہ ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان پانچوں کہانیوں کا اردو میں ترجمہ پہلی بار کیا گیا ہے۔ افسانوں میں 19ویں صدی کا روس ہے۔ اس دور کا روس سمجھنے کے لئے کئی ایک الفاظ جیسا کہ سماوار، مزرکا، سپر (رات کا کھانا) وغیرہ، نوخیز قارئین کے لئے نئے ہو سکتے ہیں۔ جو یقیناً ذخیرہ الفاظ میں خوبصورت اضافہ ثابت ہوں گے۔ مطالعہ کا کمرہ، ادب پر مکالمہ اور فوجی۔ یہ تین اجزاء اس دور کے افسانوں میں اکثر و بیشتر پڑھنے کو ملتے ہیں۔ روس ہو یا جرمنی، برطانیہ ہو یا فرانس، یہ افسانے اس دور میں لکھے گئے کہ جب دنیا بھر میں بہترین ادب مرتب ہوا۔ مطالعہ کے دوران محسوس کیا جا سکتا ہے کہ تراجم کا زیادہ تر حصہ محاوراتی یا اصطلاحی ترجمہ نہیں ہے۔ بلکہ ترکیب اور لفظی مفہوم کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے ترجمہ کیا گیا ہے۔ افسانوں میں غیر مانوس رشئین نام اور مقام ہونے کے باعث، بعض قارئین کو کتاب کا مطالعہ کرتے وقت تھوڑی بہت رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔

۔ My Life ۔
کتاب کا پہلا طویل افسانہ ٹائٹل سٹوری "ناولٹ میری زندگی” کے عنوان سے ہے۔ ٹائٹل سٹوری "میری زندگی” کے 20 باب ہیں اور یہ 112 صفحات پر مشتمل ہے۔ اگر انہماک سے پڑھا جائے تو قاری گاڑیوں کے شور و غل سے نکل کر، سوا سو سال قبل سواری کے لیے بروئے کار لائے جانے والے گھوڑوں کی ٹاپ، سناٹے میں واضح سن سکتا ہے۔ کہانی میں دانشور دکھائے گئے ہیں۔ اسٹیج ڈراموں کے ذریعے عوام کو شعور اور آگاہی دینے والوں کے منافقانہ رویے دکھائے گئے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی دکھائی گئی ہے۔ کسمپرسی اور امراء کے بیچ موازنہ زیر بحث لایا گیا ہے۔ عوام اور بیوروکریٹس کا الگ الگ طرزِ زندگی بھی خوبصورتی سے قلم بند کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر بلیکوو اور مرکزی کردار میسائل کے مابین مکالمے کہانی کا خاص جزو ہے، جس میں فلسفیانہ اور نظریاتی ٹکراؤ پڑھنے کو ملتا ہے۔ مطالعہ کے دوران محسوس کیا جا سکتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا یعنی آج بھی وہی کچھ ہے، جو ہمیشہ سے تھا۔ کہانی میں کم و بیش سوا سو سال پہلے پیش کیا گیا ایک مفروضہ قابلِ ذکر ہے کہ "ہل چلانا، فصل کی کٹائی، مویشی چرانا، یہ سب آزاد انسان کے لائق نہیں اور انسان کے وجود کو قائم رکھنے کی جد و جہد کے یہ غیر مہذب اور ناشائستہ طریقے وقت کے ساتھ جانوروں اور مشینوں کے سپرد کر دئیے جائیں گے اور انسان خود کو بالخصوص سائنسی تحقیقات کے لیے مختص کر دے گا۔” آج یہ مفروضہ کئی طرح سے سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طبقاتی نظام اور اشرافیہ کی کرپشن افسانے کے بنیادی موضوعات ہیں۔ اسلوب آپ بیتی سنانے جیسا ہے۔ چیخوف زیادہ تر اپنے گرد و نواح کے حقیقی کرداروں سے متاثر ہو کر کہانیاں لکھتا تھا۔ اس لیے چیخوف کا لکھا حقیقت نگاری پر مبنی ہے۔ لہٰذا "میری زندگی” کو چیخوف کی اپنی آپ بیتی سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ کہانی، بہن بھائی کی کہانی ہے، میاں بیوی کی کہانی ہے، محبوب محبوبہ کی کہانی ہے، تنہا لوگوں کی کہانی ہے، ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو سادہ زندگی گزارنے پر مصِر تھا۔ یہ کہانی بہت سے کرداروں کی کہانی ہے، جسے مرکزی کردار سے جوڑا کیا گیا ہے۔ تقریباً ہر باب میں نئے کردار متعارف کرائے گئے ہیں۔ مختصر سے آخری باب میں تمام کرداروں کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد، اختتام پر ایک نیا کردار متعارف کرایا گیا ہے اور پھر کہانی لپیٹ لی گئی ہے۔ اختتام خاصا پر اثر بھی ہے اور دل بوجھل کر دینے والا بھی ہے۔ اختتام حقیقت سے قریب ترین بھی ہے اور خواب ناک بھی ہے۔

۔ A Woman’s Kingdom ۔
کتاب کا دوسرا افسانہ "عورت کی بادشاہت” ہے۔ یہ ایک طنزیہ عنوان ہے۔ اس افسانے کے چار باب ہیں اور یہ 50 صفحات پر مشتمل ہے۔ کہانی میں چار طرح کے لوگ دکھائے گئے ہیں۔ ایک وہ جنہیں نوکری چھن جانے کا ڈر ہے کہ پھر انہیں کہیں نوکری نہیں ملے گی۔ دوسرے وہ جنہیں اچھی طرح پتا ہے کہ اگر انہیں نوکری سے نکال دیا گیا تو اگلے ہی دن انہیں نوکری مل جائے گی۔ تیسرے وہ کہ جن کے پاس نوکریاں کی جاتی ہیں یعنی مِل مالکان۔ چوتھے وہ جو مفلوک الحال ہوتے ہوئے بھی کمینے پن سے باز نہیں آتے۔ یہ کہانی پڑھ کر بھی یہی لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا، یعنی آج بھی وہی کچھ ہے، جو ہمیشہ سے تھا۔ غرباء و مساکین، اُمراء کی پراڈکٹ تھے اور آج بھی ہیں۔ کہانی میں 19ویں صدی کا روس اور دولت مندوں کا اکلاپا دکھایا گیا ہے۔ کہانی میں یہ سوال منطق کے ساتھ اٹھایا گیا ہے کہ مرد کیا چاہتے ہیں؟ خوبصورت عورت سے شادی؟ یا دولت مند عورت سے شادی؟ شادی کرنے اور شادی نہ کرنے کی مختلف توجیہات اس کہانی کا فلسفہ ہے۔ تیس سالہ مِل مالکن اور اس کی بیس سالہ ملازمہ دونوں ہی بلا کی خوبصورت ہیں۔ لیکن دونوں کی شادی نہیں ہو پا رہی۔ کیوں نہیں ہو پا رہی؟ یہی کہانی کا موضوع ہے۔ کہانی کرسمس کے تہوار پر شروع ہوتی ہے اور کرسمس ختم ہو جانے پر، کہانی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اختتام بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے۔

۔ The Kiss ۔
کتاب کا تیسرا افسانہ "بوسہ” کے عنوان سے ہے۔ یہ 23 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے تسلسل کے ساتھ ایک ہی باب باندھ کر لکھا گیا ہے۔ یہ غیر متوقع رومانوی حادثے کی روئداد ہے۔ کہانی میں میسنجر آف یورپ میگزین کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یہ میگزین 19ویں صدی کے آخر میں روسی قومی شناخت اور سیاست کو متاثر کرنے والا ایک بڑا لبرل فکری رسالہ مانا جاتا ہے۔ کہانی میں روسی فوجی یہ رسالہ پڑھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے یہی غور طلب ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک فوجی ہے۔ جو کہ ایک ایسا مرد ہے جس کی زندگی میں کبھی کوئی عورت نہیں آئی۔ کہانی میں اس کے مردانہ احساسات و جذبات باریکی سے رقم کئے گئے ہیں۔ کہانی میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ ایسے مرد کہ جو ہمیشہ ہچکچاتے ہیں، سماجی رابطے میں نہیں رہتے، کسی بھی نوعیت کی تقاریب میں شرکت کے دوران احساسِ محرومی جیسا رویہ روا رکھتے ہیں، خوابوں خیالوں میں رہتے ہیں، جب خواب سچ ہونے کا وقت آتا ہے راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے مرد کو عورتیں گھاس نہیں ڈالتیں۔ ایسا مرد اس کہانی کا موضوع ہے۔

۔ Mire ۔
کتاب کا چوتھا افسانہ، عنوان کھچڑی ہے۔ یہ 24 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 2 باب ہیں۔ ایک عورت جس کا نام سوسانامعاسیوینا ہے۔ وہ عورتوں سے سخت نفرت کرتی تھی۔ وہ عیسائی نہیں ہے لیکن چرچ جاتی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ سب کا خدا ایک ہے۔ جب جب اسے احساس ہوتا کہ وہ خود بھی ایک عورت ہے۔ وہ خود سے بھی نفرت کرنے لگتی۔ جبکہ عورتوں سے نفرت کرنے کی معقول منطق بھی اس کے پاس موجود ہے۔ اس کہانی میں متعدد بار ٹوئسٹ آتا ہے، یہ بات کہانی کو دلچسپ بناتی ہے۔ اس کہانی کی وساطت سے پتا چلتا ہے کہ اس دور کے روس میں جہیز رائج تھا لیکن پڑھا لکھا طبقہ اسے برا خیال کرتا تھا۔ اختتام سے پہلے سوسانامعاسیوینا نے ثابت کیا ہے کہ اسے مرد پسند ہیں۔ پر کیوں پسند ہیں؟ یہی کہانی ہے۔ کہانی کا عنوان کھچڑی کیوں ہے؟ یہ اختتام پر واضح ہو جاتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے اور اس کا اختتام ہنستا مسکراتا غیر متوقع ہے۔ یہ کہانی مرکب بالمرکب عیاری اور مکاری کی عمدہ تمثیل ہے۔ مرکزی موضوع فتنہ اور اخلاقی کمزوری ہے، جسے مزاح کے پیرائے میں لکھا گیا ہے۔ ہمراہ اس کے یہ کہانی ایک مخصوص مذہب پر گہرا طنز بھی ہے۔

۔ At Christmas Time ۔
کتاب کے پانچویں اور آخری افسانے کا عنوان "کرسمس کے وقت” ہے۔ یہ 6 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 2 باب ہیں۔ یہ میاں بیوی کی کہانی ہے۔ دونوں بہت بوڑھے ہیں اور دونوں ہی ان پڑھ ہیں۔ اس دور میں پڑھے لکھے لوگ معاوضہ لے کر خط لکھ دیا کرتے تھے۔ کئی کا تو یہ باقاعدہ پیشہ تھا۔ وہ اپنے نواسے نواسیاں دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں علم نہ تھا کہ ان کے نواسیاں نواسے ہیں بھی کہ نہیں۔ انہیں تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ان کی بیٹی زندہ ہے یا مر گئی۔ یہ کہانی دیہاتی زندگی اور شہری زندگی کا موازنہ ہے۔ یہ ایک بے بس بیٹی کی کہانی ہے۔ جبکہ مرکزی موضوع بے حسی ہے۔ یہ ایک خاندان کے دو ٹکڑوں کی کہانی ہے، جو ایک دوسرے سے کوسوں دور امید اور یاس کی ملی جلی کیفیت میں جینے پر مجبور تھے۔ جبکہ اختتام خود اخذ کرنے کے لیے ہے۔

۔ Anton Chekhov ۔
محض چوالیس برس زندگی پانے والے انتون چیخوف کا تعارف، پانچوں تراجم سے پہلے کتاب کے شروع میں ہے۔ تعارف پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔ انتون چیخوف کے بارے میں یہ ایک سیر حاصل مضمون ہے۔ جبکہ انتون چیخوف کی وفات کو لے کر اس مضمون میں انتون چیخوف کی تاریخ وفات 2 جولائی 1904ء درج ہے اور کتاب کی جلد پر پچھلی جانب 15 جولائی 1909ء درج ہے۔ جبکہ ذرائع کے مطابق انتون چیخوف کی تاریخ وفات 15 جولائی 1904ء ہے۔

پاکستان میں ناشر: سٹی بک پوائنٹ کراچی
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:
923122306716+ محمد اسد
ہندوستان میں ناشر: میٹر لنک پبلشرز لکھنؤ
کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ نمبر:
918318904317+ قاضی زکریا

(تبصرہ اور جائزہ)

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x