غزل
غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا
غزل
خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا
اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا
ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے
رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا
اِس کو کہتے ہیں اے یادِ یار، جبرِِ زندگی
ہم کو تیرے ساتھ ہو لینے کا موقع ہی نہ تھا
تیز گام اتنا تھا سفرِ شوق کہ چلتے رہے
تھے شجر ہر جا، پہ سو لینے کا موقع ہی نہ تھا
لوگ تھے لیکن مری سننے پہ آمادہ نہ تھے
بیچ تھے کچھ جن کو بو لینے کا موقع ہی نہ تھا
داغِ دل ایسا کہ جل اٹھتا تھا ہر دو گام پر
منصب ایسا تھا کہ دھو لینے کا موقع ہی نہ تھا
جو توقع دنیا کر لیتی تھی بن جاتے تھے ہم
یعنی اپنا آپ ہو لینے کا موقع ہی نہ تھا




