نظم

خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

خودکش بمبار

اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا 

کمبخت خودکش بمبار

جنت کا فسوں 

 خرید لیتا ہے

 روزانہ دیکھتا ہے

 بے حقیقت خواب

 جن کا انجام کچھ نہیں

ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی

بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی 

اور عید پر بھی

بیوی کے ہاتھ

 مہندی سے محروم رہتے ہیں

خودکش بمبار 

بنتا ہے دشمن کا ہتھیار 

اپنے سکون کے لیے 

مول لیتا ہے

 ایک خودکش جیکٹ 

 جنت کی سرشاری میں 

بٹن پر رکھتا ہے ہاتھ 

اور اپنے ساتھ لے اڑتا ہے

بے شمار ذمہ داریوں سے بوجھل کاندھے

بے طرح کے خوابوں سے بھرے سر

محبتوں میں چور دل

جینے کی امنگیں

سہاگنوں کی عمر بھر کی کمائی

ماؤں کے ہرے بھرے کھیت اور کھلیان

بوڑھے لرزتے ہاتھوں کے عصا

روٹی کا انتظار کرتے بچوں کے باپ 

عید کے کپڑے خریدنے نکلی مائیں 

اور گروسری کرتے ملازم 

سکول سے گھر جاتی ویگنیں 

مسجد اور امام بارگاہ کے نیاز مند

گارڈ اور ڈرائیور ۔۔۔ 

خود کش بمبار

تنہا کبھی نہیں مرسکتا !

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x